مصر خونریز جھڑپیں جاری ہلاکتیں 100 ہوگئیں صدارتی انتخابات جلد کرانے کا اعلان
زخمیوں کی تعداد200 ہے،تحریراسکوائر پرحکومت کے حامی اورمخالفین میںتصادم،اخوان کے حامیوں پرفائرنگ،کئی شہروں میں کشیدگی
زخمیوں کی تعداد200 ہے،تحریراسکوائر پرحکومت کے حامی اورمخالفین میںتصادم،اخوان کے حامیوں پرفائرنگ،کئی شہروں میں کشیدگی. فوٹو:رائٹرز/فائل
مصر کی عبوری حکومت نے ملک میں عام انتخابات سے پہلے صدارتی انتخاب کرانے کااعلان کردیا۔
فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی بھی صدارتی امیدوار ہونگے، انھیں فیلڈمارشل کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے پرترقی دیدی گئی ہے۔ دوسری جانب ملک میںفوجی کارروائیوں اور مخالفین کے حملوںمیں ہلاک ہونے والوںکی تعداد100 ہوگئی۔ مختلف شہروںمیں حالات کشیدہ ہیں۔ قاہرہ اور اسکندریہ میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گی ہے جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عبوری صدرعدلی منصورنے ایک تقریب کے دوران ملک میں صدرارتی انتخابات کوطے شدہ وقت سے پہلے کرانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ملک میں عام انتخابات اب صدارتی انتخابات سے پہلے نہیں ہو سکیںگے۔ عدلی منصورکے مطابق قبل ازوقت انتخابات کا فیصلہ قومی طاقتوں، مختلف تنظیموںاور رجحانات کودیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ملک میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ فوجی کارروائیوں اورمخالفین کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100ہوگئی جبکہ 200 کے قریب افرادزخمی بھی ہیں۔ مختلف شہروں میں حالات بدستورکشیدہ ہیں۔
دارالحکومت قاہرہ میںحکومت کے حامی اورمخالفین قاہرہ کے تحریراسکوائر پر ریلیاں نکالناچاہتے تھے۔ اس دوران تصادم ہوگیا۔ فوج نے اخوان المسلمون کے حامیوں پر فائرنگ کردی اور پھرہنگامے شروع ہوگئے۔ اسکندریہ میںبھی جھڑپوںکے دوران ایک خاتون ہلاک ہوگئی۔ مختلف شہروںمیں اب بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ دریںاثنا مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو فیلڈمارشل کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے پرترقی دے دی گئی ہے۔ اس سے پہلے سرکاری میڈیانے یہ خبریںدی تھیںکہ فوج نے اپنے سربراہ کوصدارتی الیکشن لڑنے کے لیے مینڈیٹ دے دیاہے اوروہ رواںسال اپریل میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں بھرپور حصہ لے کربھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے کیونکہ ان کے مقابلے میں کوئی بھی سنجیدہ امیدوار سامنے نہیںآیا۔ کہاگیا تھاکہ جنرل السیسی صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعدفوجی عہدہ چھوڑ دیںگے۔
فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی بھی صدارتی امیدوار ہونگے، انھیں فیلڈمارشل کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے پرترقی دیدی گئی ہے۔ دوسری جانب ملک میںفوجی کارروائیوں اور مخالفین کے حملوںمیں ہلاک ہونے والوںکی تعداد100 ہوگئی۔ مختلف شہروںمیں حالات کشیدہ ہیں۔ قاہرہ اور اسکندریہ میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گی ہے جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عبوری صدرعدلی منصورنے ایک تقریب کے دوران ملک میں صدرارتی انتخابات کوطے شدہ وقت سے پہلے کرانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ملک میں عام انتخابات اب صدارتی انتخابات سے پہلے نہیں ہو سکیںگے۔ عدلی منصورکے مطابق قبل ازوقت انتخابات کا فیصلہ قومی طاقتوں، مختلف تنظیموںاور رجحانات کودیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ملک میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ فوجی کارروائیوں اورمخالفین کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100ہوگئی جبکہ 200 کے قریب افرادزخمی بھی ہیں۔ مختلف شہروں میں حالات بدستورکشیدہ ہیں۔
دارالحکومت قاہرہ میںحکومت کے حامی اورمخالفین قاہرہ کے تحریراسکوائر پر ریلیاں نکالناچاہتے تھے۔ اس دوران تصادم ہوگیا۔ فوج نے اخوان المسلمون کے حامیوں پر فائرنگ کردی اور پھرہنگامے شروع ہوگئے۔ اسکندریہ میںبھی جھڑپوںکے دوران ایک خاتون ہلاک ہوگئی۔ مختلف شہروںمیں اب بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ دریںاثنا مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو فیلڈمارشل کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے پرترقی دے دی گئی ہے۔ اس سے پہلے سرکاری میڈیانے یہ خبریںدی تھیںکہ فوج نے اپنے سربراہ کوصدارتی الیکشن لڑنے کے لیے مینڈیٹ دے دیاہے اوروہ رواںسال اپریل میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں بھرپور حصہ لے کربھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے کیونکہ ان کے مقابلے میں کوئی بھی سنجیدہ امیدوار سامنے نہیںآیا۔ کہاگیا تھاکہ جنرل السیسی صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعدفوجی عہدہ چھوڑ دیںگے۔