برسی باباگورونانک سکھ یاتریوں کا بھارت سے راہداری کھولنے کا مطالبہ
NCOC نے بھارتی یاتریوں کوستمبرمیں پاکستان آنے ،300افراد کو اجتماع کی اجازت
3روزہ تقریبات20ستمبرسے کرتارپورمیں ہونگی،کوروناایس اوپیزکاخیال رکھاجائیگا،سکھ ۔ فوٹو : فائل
پاکستان کی طرف سے باباگورونانک کی برسی کے موقع پرکرتارپور راہداری کھولنے اوربھارتی سکھ یاتریوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلیے گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور آنے کی اجازت ملنے پر بھارت سمیت دنیا بھرمیں سکھوں نے خوشی کااظہارکیا ہے اوراب بھارت سے مطالبہ کیاجارہا ہے کہ وہ بھی اپنی سائیڈ سے راہداری کھولے اورسکھ یاتریوں کو پاکستان جانے کی اجازت دی جائے۔
این سی او سی نے ایک روزقبل بھارتی سکھ یاتریوں کو ستمبر میں پاکستان آنے کی اجازت دینے کااعلان کیاتھا۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی نے ستمبر میں گورو نانک کی برسی پر ہندوستانی سکھ یاتریوں کو کورونا ایس اپیز پر عمل کرتے ہوئے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور آنے کی اجازت دی گئی۔
پاکستان میں داخل ہونے کے لئے فی الحال نافذ کردہ ایس او پیز کے مطابق زیادہ سے زیادہ 300 افراد کے بیرونی اجتماع کی اجازت ہو گی ،بھارت کی شرومنی کمیٹی کے مطابق انہیں میڈیا کے ذریعے یہ اطلاعات ملی ہیں تاہم انہیں ابھی تک بھارتی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔
پاکستان نے چونکہ ہفتے کے روز یہ فیصلہ کیا ہے ممکن ہے آج پیریامنگل کے روزاس بارے بھارتی وزارت خارجہ کے پاس لیٹرپہنچ جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت سمیت دنیابھر کی سکھ برادری پاکستان کے اس فیصلے کوسراہتی ہے۔
اب ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ بھی راہداری کھولنے کا اعلان کرے ،باباگورونانک کی برسی کی تین روزہ تقریبات 20 ستمبرسے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپورمیں شروع ہوں گی، کورونا کی وجہ سے یاتریوں کو محدود تعداد میں شرکت کی اجازت دی جائیگی اور کورونا ایس او پیز کا خیال رکھا جائیگا ۔
این سی او سی نے ایک روزقبل بھارتی سکھ یاتریوں کو ستمبر میں پاکستان آنے کی اجازت دینے کااعلان کیاتھا۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی نے ستمبر میں گورو نانک کی برسی پر ہندوستانی سکھ یاتریوں کو کورونا ایس اپیز پر عمل کرتے ہوئے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور آنے کی اجازت دی گئی۔
پاکستان میں داخل ہونے کے لئے فی الحال نافذ کردہ ایس او پیز کے مطابق زیادہ سے زیادہ 300 افراد کے بیرونی اجتماع کی اجازت ہو گی ،بھارت کی شرومنی کمیٹی کے مطابق انہیں میڈیا کے ذریعے یہ اطلاعات ملی ہیں تاہم انہیں ابھی تک بھارتی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔
پاکستان نے چونکہ ہفتے کے روز یہ فیصلہ کیا ہے ممکن ہے آج پیریامنگل کے روزاس بارے بھارتی وزارت خارجہ کے پاس لیٹرپہنچ جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت سمیت دنیابھر کی سکھ برادری پاکستان کے اس فیصلے کوسراہتی ہے۔
اب ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ بھی راہداری کھولنے کا اعلان کرے ،باباگورونانک کی برسی کی تین روزہ تقریبات 20 ستمبرسے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپورمیں شروع ہوں گی، کورونا کی وجہ سے یاتریوں کو محدود تعداد میں شرکت کی اجازت دی جائیگی اور کورونا ایس او پیز کا خیال رکھا جائیگا ۔