افغانستان میں سنگین حالات کے اشارے

افغان گروپوں کے درمیان دوبارہ محاذ آرائی شروع ہوگئی تو یہ ملک دوبارہ خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔

افغان گروپوں کے درمیان دوبارہ محاذ آرائی شروع ہوگئی تو یہ ملک دوبارہ خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

''فریقین مل کر افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دیں اور دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں قدم رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ''

جدہ میں منعقدہ اجلاس کے بعد او آئی سی نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں یہ بات کہی ہے، افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ او آئی سی کے رکن ممالک افغانستان میں امن و سلامتی اور ترقی و استحکام کے لیے مدد کریں گے۔

اسلامی تعاون تنظیم کی مجلس عاملہ کا افغانستان کی صورت حال پر ہنگامی اجلاس طلب کرنا ایک خوش آیند امر ہے۔ دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے ''وائس آف امریکا'' کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی ہدایت پر 3 رکنی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جو پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے دہشت گردی کی شکایات کا ازالہ کرے گا۔

کمیشن نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات حل کریں جب کہ وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے ناموں پر مشتمل ایک فہرست افغان طالبان کے حوالے کر دی ہے۔

یہ پیش رفت بھی انتہائی اہم ہے ، کیونکہ ریاست پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور عوام نے ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بہت زخم کھائے ہیں، ملک میں خودکش حملوں کے موجد ٹی ٹی پی کے دہشت گرد رہے، سانحہ پشاور میں معصوم طالب علموں کے قاتل افغانستان میں موجود ہیں۔

افغان طالبان نے جب کابل اور دیگر شہروں پر قبضہ کیا تو جیلوں میں بند اپنے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کے ہزاروں مجرموں کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔ اس منظر نامے کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستان افغان طالبان سے یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ انھوں نے ایسے افراد کو کیوں رہا کیا ہے جو پاکستان میں مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے ۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان میں موجود د شدت پسند تنظیموں جیسا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، ایسٹ ترکستان موومنٹ وغیرہ کے خلاف اگر افغان طالبان کارروائی نہیں کریں گے تو بین الاقوامی برادری طالبان اور ان کی حکومت کو قبول نہیں کرے گی جب کہ یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے افغانستان میں طالبان کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کر رہے ہیں۔ طالبان کے الفاظ کا موازانہ ان کے عملی کردار اور کارروائیوں سے ہی کیا جائے گا۔

پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2640 کلومیٹر پر محیط سرحد ہے جس پر اہم کراسنگ پوائنٹس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں طورخم بارڈر اور بلوچستان میں چمن بارڈر ہیں جہاں تجارت سمیت عام مسافروں کی آمدورفت رہتی ہے۔اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان سے متصل غلام خان بارڈر، شمالی وزیرستان سے متصل انگوراڈہ، ضلع کرم کے ساتھ خرلاچی کرانسگ، چترال کے ساتھ ارندو اور شاہ سلیم، ضلع لوئر دیر کے ساتھ اور ضلع باجوڑ کے ساتھ ناواپاس، ضلع مہند کے ساتھ گورسل کراسنگ ہے جو زیادہ تر تجارت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر داخلی امن قائم کرنے کی غرض سے خلوص نیت کے ساتھ ہمیشہ کوششیں کی ہیں،چالیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا ہے ۔ ہم نے اپنے وسائل اس مقصد کی خاطر جھونک دیے ۔ اب برملا کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں پاکستان دوست حکومت آیا چاہتی ہے، ایسی حکومت جسے اپنی بات منوانے کا ڈھنگ آتا ہے۔ ہمارے حکمران طبقے اور پالیسی سازوں کو معاملات طے کرتے وقت ان نزاکتوں کا پوری طرح احساس و ادراک کرنا چاہیے۔


ہمیں آپس میں بھائی چارے کی فضا ضرور قائم کرنی ہے لیکن اہل پاکستان اور اہل افغانستان ہر لحاظ سے علیحدہ علیحدہ ریاستیں اور ان ریاستوں میں مختلف نسلی ، لسانی اور ثقافتی گروپ آباد ہیں ۔ ہمیں اپنے اپنے معاملات طے کرتے وقت شدت کے ساتھ ایک دوسرے کی الگ الگ قومی شناخت کا پوری طرح لحاظ کرنا ہوتا ہے یہ امر جتنا افغانستان کے لیے ضروری ہے اتنا ہی پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے۔

افغانستان کی تازہ ترین صورت حال کے حوالے سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ افغانستان میںحکومت کا نظام ابھی تک افغان طالبان کی دسترس میں نہیں آیا۔اس کا ڈھانچہ یا آئین بھی ابھی تک تیار نہیں ہوا ،اگرچہ ان کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خالصتاً اسلامی حکومت قائم ہو گی اور شرعی قوانین کا نفاذ کیا جائے گا،لمحہ موجود میں افغانستان میں کوئی حکومت نہیں، کسی کے ہاتھوں میں اقتدار کی کنجیاں نہیں، تاحال انتقالِ اقتدار کو پُرامن طریقے سے ممکن اور موثر بنانے کے لیے باہمی مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

ایک کھچڑی سی ہے جو کابل میں پک رہی ہے، قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔افغانستان کا سب سے بڑا سیاسی مسئلہ یہ ہے کہ پختونوں کے علاوہ تاجک، ازبک ، ہزارہ منگول، پامیری، گجر اور دیگر نسلی ولسانی گروہ کو بھی شریک اقتدار کرنا ہے۔

طالبان کی پچھلی حکومت (1996-2001) کے دوران یہی مسئلہ طالبان کے اقتدار کے پائیدار نہ ہونے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوا ، لیکن طالبان کی جانب سے اب کہا گیا ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، افغانستان میں بسنے والے ہر نسلی اور لسانی گروپ کو اقتدار میں ان کا جائز حصہ دیں گے،یوں پورے افغانستان کی آبادی کی نمایندہ حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی،فرض کرلیتے ہیں کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے اور مختلف نسلی قبائل کے دلوں کی رنجشیں دور ہو جاتی ہیں، تو یہ بلاشبہ عہدساز کارنامہ ہو گا۔

ہم سب کو اس حقیقت کا بھی ادراک کر لینا چاہیے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق موجودہ افغانستان میں پشتون کل آبادی کا تقریباً 47 فیصد ہیں ، دری (کلاسک فارسی) بولنے والے تاجک 3 2 فیصد کے لگ بھگ بتائے جاتے ہیں اور ازبک بھی 15 فیصد کے قریب کہے جارہے ہیں جب کہ باقی 15 فیصد میں، ہزارہ منگول، پامیری، گجر اور دیگر نسلی ولسانی گروہ شامل ہیں۔

اس لیے اگر کوئی ایک گروہ اقتدار پر قابض ہوکر من مانی کرے گا تو افغانستان ایک بار پھر خون خرابے کا شکار ہوجائے گا۔ میڈیا کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وادی پنج شیر میںقومی مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود اور غنی حکومت کے نائب صدر امراﷲ صالح کے حمایتیوں اور افغان طالبان کے درمیان جنگ شروع ہوچکی ہے ، جس میں دونوں جانب سے ہلاکتیں ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

پاکستان بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اب مزید افغانوں کو پناہ نہیں دے گا اور قومی مفاد میں رہتے ہوئے فیصلے کرے گا۔ اسی طرح ماہرین اور خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات بھی اس وقت مشکلات سے دو چار ہیں اور امریکی کی بائیڈن انتظامیہ سرد مہری کا تاثر دے رہی ہے۔ امریکا اب انڈیا کو اپنا اسٹرٹیجک پارٹنر سمجھتا ہے۔اس بات کا برملا اظہار وزیراعظم عمران خان بھی کرچکے ہیں ۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے چند دن بیشتر وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں خطے اور خاص طور سے افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ اب پاکستان کے پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہے کہ اگر افغانستان کے اندر طالبان سمیت مختلف گروہ مفاہمتی رویے کو بڑھاوا نہیں دیتے اور وہاں انارکی پھیلتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے سب سے خطرناک ہو گی۔گوطالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا ہے لیکن وہاں اب بھی امریکی فوجی موجود ہیں جو کسی بھی وقت ہوائی حملے کر کے طالبان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکا واقعی افغانستان میں امن اور ایک مضبوط حکومت چاہتا ہے؟۔ بلاشبہ امریکا نے طوطا چشمی کا مظاہرہ کیا ہے اور افغانستان میں کوئی سیٹ اپ قائم ہونے سے پہلے ہی انخلا کر لیا، یوں افغانستان میں طاقت کا خلا پیدا ہوچکا ہے ۔ پاکستان کی قیادت کے لیے یہ کڑے امتحان کا مرحلہ ہے ، جب کہ اس ضمن میں سب سے زیادہ پریشانی بھارت کو لاحق ہے جس کے لیے گو مگو کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ بڑے ہمسایہ ممالک میں سے چین اور روس دو ایسی طاقتیں ہیں جنھیں قدرے اطمینان حاصل ہے کہ طالبان ان کے ساتھ معاندانہ رویہ نہیں رکھیں گے۔

اس وقت افغانستان کی صورتحال غیریقینی ہے،اگر یہ افغان گروپوں کے درمیان دوبارہ محاذ آرائی شروع ہوگئی تو یہ ملک دوبارہ خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے اور افغانستان کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہی ہے۔درحقیقت افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کوسوچ سمجھ کر اقدامات اٹھانے ہیں اور سب سے زیادہ قومی سلامتی اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر پالیسی مرتب کرنی ہے ،اس کے لیے اپوزیشن،حکومت اور عسکری قیادت کو سرجوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے ۔
Load Next Story