شوکت ترین سے اختلافات وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مستعفی
ڈاکٹر وقار کو وزیر خزانہ شوکت ترین سے ورکنگ ریلیشن شپ سے متعلق اختلافات تھے
ڈاکٹر وقار کو وزیر خزانہ شوکت ترین سے ورکنگ ریلیشن شپ سے متعلق اختلافات تھے (فوٹو : فائل)
وزیراعظم کے معاون خصوصی خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے وزیر خزانہ شوکت ترین سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دے دیا۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وقار مسعود نے پیر کو اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوایا تھا اور منظوری کی صورت میں خاموشی سے جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وزارت خزانہ کی اہم شخصیت نے ان کے استعفیٰ کے معاملے کو پبلک کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وقار کے وزیر خزانہ سے ورکنگ ریلیشن شپ سے متعلق اختلافات تھے۔ وزیر خزانہ اہم معاملات میں ڈاکٹر وقار کو آن بورڈ نہیں لیتے تھے۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو عاصم احمد کو تبدیل کرکے ڈاکٹر اشفاق کو نیا چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنے کے معاملے سے بھی ڈاکٹر وقار مسعود کو لاعلم رکھا گیا اور چیئرمین ایف بی آر کی تبدیلی ان کے لیے بھی ایک خبر تھی۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر وقار مسعود کو وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے اجلاسوں میں بیورو کریٹس کے ساتھ غیر مناسب رویہ پر بھی اختلافات تھے۔ وزیر خزانہ اجلاسوں میں بیورو کریٹس کے ساتھ سخت رویہ رکھتے تھے، نہ صرف ڈانٹ ڈپٹ کرتے بلکہ سخت جملے بھی بولتے تھے جس کے باعث بیورو کریٹس کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور سرکاری امور میں مشکلات پیش آتی تھیں۔
ڈاکٹر وقار اس روش کے خلاف تھے اور وزیر خزانہ کو ایسا کرنے سے منع کرتے تھے جسے وزیر خزانہ ناپسند کرتے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر وقار نے پیر کو اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بجھوایا تھا تاہم اس پر حتمی فیصلے تک وہ فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وقار آئی ایم ایف پروگرام کی جلد بحالی چاہتے ہیں جس کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی جائزہ کے لیے مقررہ بنچ مارک پر عمل درآمد کے لیے اقدامات پر زور دے رہے تھے جبکہ وزیر خزانہ اس معاملے پر سرد مہری دکھا رہے تھے جس پر ڈاکٹر وقارمسعود کو شکوہ تھا کہ ان کی سفارشات نظرا نداز کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وقار مسعود نے پیر کو اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوایا تھا اور منظوری کی صورت میں خاموشی سے جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وزارت خزانہ کی اہم شخصیت نے ان کے استعفیٰ کے معاملے کو پبلک کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وقار کے وزیر خزانہ سے ورکنگ ریلیشن شپ سے متعلق اختلافات تھے۔ وزیر خزانہ اہم معاملات میں ڈاکٹر وقار کو آن بورڈ نہیں لیتے تھے۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو عاصم احمد کو تبدیل کرکے ڈاکٹر اشفاق کو نیا چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنے کے معاملے سے بھی ڈاکٹر وقار مسعود کو لاعلم رکھا گیا اور چیئرمین ایف بی آر کی تبدیلی ان کے لیے بھی ایک خبر تھی۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر وقار مسعود کو وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے اجلاسوں میں بیورو کریٹس کے ساتھ غیر مناسب رویہ پر بھی اختلافات تھے۔ وزیر خزانہ اجلاسوں میں بیورو کریٹس کے ساتھ سخت رویہ رکھتے تھے، نہ صرف ڈانٹ ڈپٹ کرتے بلکہ سخت جملے بھی بولتے تھے جس کے باعث بیورو کریٹس کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور سرکاری امور میں مشکلات پیش آتی تھیں۔
ڈاکٹر وقار اس روش کے خلاف تھے اور وزیر خزانہ کو ایسا کرنے سے منع کرتے تھے جسے وزیر خزانہ ناپسند کرتے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر وقار نے پیر کو اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بجھوایا تھا تاہم اس پر حتمی فیصلے تک وہ فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وقار آئی ایم ایف پروگرام کی جلد بحالی چاہتے ہیں جس کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی جائزہ کے لیے مقررہ بنچ مارک پر عمل درآمد کے لیے اقدامات پر زور دے رہے تھے جبکہ وزیر خزانہ اس معاملے پر سرد مہری دکھا رہے تھے جس پر ڈاکٹر وقارمسعود کو شکوہ تھا کہ ان کی سفارشات نظرا نداز کی جارہی ہیں۔