یکساں نظام تعلیم اور نئی نسل

ہم بچوں کی تربیت میں گمبھیرکوتاہیاں کرتے جارہے ہیں۔

ہم بچوں کی تربیت میں گمبھیرکوتاہیاں کرتے جارہے ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انگریزی میڈیم تعلیم ذہنی غلامی لے کر آئی ، لیکن اب ملک میں یکساں نصاب تعلیم ایک اہم موڑ اور بہت بڑی تبدیلی ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ مینارپاکستان کا واقعہ شرمناک ہے، ہمارے بچپن کے دور میں ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ عورت کی جو عزت پاکستان میں ہوتی تھی مغرب میں نہیں تھی لیکن اب ایسے واقعات کی وجہ بچوں کی تربیت نہ ہونا ہے ، ایسے واقعات نہ دین اور نہ ہمارے کلچر کا حصہ ہیں ۔

پنجاب ایجوکیشن کنونشن سے خطاب کے مندرجات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ، وزیراعظم نے یکساں نصاب تعلیم کے حوالے جن خیالات کا اظہار کیا وہ صائب ہیں ۔کوئی ملک مادی وسائل سے نہیں بلکہ تعلیم سے ترقی کرتا ہے۔ علم ہمیشہ مہذب قوموں کی اولین ترجیح رہی ہے، کسی بھی قوم کی ترقی میں وہاں کے تعلیم یافتہ طبقے کا سب سے زیادہ حصہ ہوتا ہے،لیکن اسے ہماری قومی بدنصیبی ہی کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے اس شعبہ پر کوئی توجہ نہیں دی ہے،پاکستان میں تعلیم کا معاملہ بڑا عجیب و غریب ہے۔

یہاں تعلیمی بجٹ سے زیادہ اہم ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کی تنخواہیں اور مراعات ہیں، جن پر تعلیم کے مقابلے میں زیادہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ معیار تعلیم اور نظام تعلیم دونوں کا معاملہ انتہائی مخدوش ہے۔

ہمارا مسئلہ وہی یکساں نظام تعلیم، معیار تعلیم اور نظام تعلیم کا ہے۔ سب سے پہلے جو چیز قومی سطح پر طے کرنے کی چیز ہے وہ نظام تعلیم ہے، یکساں نظام تعلیم کے تحت ہی معاشرہ ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کرسکتا ہے، ورنہ طبقاتی نظام تعلیم معاشرے کی وحدت کو پارہ پارہ کردیتا ہے۔ جس سے تعمیر و ترقی نہیں بلکہ نفرت و حقارت کے جذبات جنم لیتے ہیں۔

اعلیٰ طبقے کے لوگ نچلے طبقے کے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، انھیں کم تر سمجھتے ہیں۔پاکستان کے تعلیمی نظام میں سب سے بڑی خامی نظام تعلیم میں ہے، جہاں شہری، دیہاتی، میٹرک، کیمبرج، مدرسہ کتنے ہی طرز کی تعلیم رائج ہے، پھر دیہات میں اُردو ذریعہ تعلیم ہے۔ شہروں میں اور مہنگے نجی تعلیمی ادارے انگریزی میں تعلیم دیتے ہیں۔ دیہات سے بچے شہر میں مزید تعلیم کے لیے آتے ہیں تو انھیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کے اتنے سال کی تعلیم پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے، طالب علم کامیابی کی منازل طے کرنے کے بجائے ناکامی کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں، اکثر اوقات تعلیمی سفر کو یکسر خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ معیار تعلیم کا یہ حال ہے کہ ملک کے بعض علاقوں کے سرکاری اور نجی اسکول کے پانچویں جماعت کے طلبہ میں سے 48 فی صد لکھی ہوئی اُردو تک نہیں پڑھ سکتے،تو دوسری طرف ماسٹرز ڈگری والوں سے اظہار خیال یا ایک اچھی درخواست نہیں لکھی جاتی۔دُنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان شعبہ تعلیم میں اہداف کے حصول میں کئی دہائیاں پیچھے ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان بنیادی تعلیم کے میدان میں اہداف کے حصول میں پچاس سال، جب کہ ثانوی تعلیم کے میدان میں ساٹھ سال پیچھے ہے۔ ہماری آبادی میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے یعنی کل آبادی میں گیارہ کروڑ 30 لاکھ نوجوان ہیں جو کل آبادی کا 65 فی صد بنتا ہے۔

پاکستان میں اتنی بڑی نوجوانوں کی آبادی ہونے کے باوجود ان سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ اس کی وجوہات میں اسکولوں میں بچوں کا داخلہ نہ ہونا، ناقص بنیادی تعلیم اور نظام تعلیم اور فنی تربیت کا فقدان ہے۔ اس وقت ملک میں اسکول جانے والے بچوں کی عمر کے دو کروڑ بیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جب یہ دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہوں گے تو بڑے ہو کر یہ صرف محنت ، مزدوری ہی کرسکیں گے۔

اس طرح آبادی کے ایک بڑے حصے کی صلاحیت قومی سطح پر ضایع ہوجائے گی۔ پاکستان کی نصابی مقصدیت کو ملکی اور بین الاقوامی ضرورتوں کے مطابق ڈھال کر ہی ہم ترقی یافتہ دُنیا کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ایک نظامِ تعلیم ہمیں بتاتا ہے کہ طالب علم کس عمر سے کیا، کیسے، اور کس حد تک پڑھے گا وغیرہ وغیرہ؟ ہمارے ہاں اکثر برٹش، امریکن یا مجموعی طور پر مغربی تعلیمی نظاموں پر بحث ہوتی رہتی ہے۔


یہ تمام نظام ہائے تعلیم اپنی اپنی جگہ بہت اچھے اور معیاری ہیں، مگر دیسی کلچر سے ہم آہنگ نصاب تعلیم ہی طلبہ کی درست سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔آج ڈگریوں کا حصول محض ایک اچھا پے ا اسکیل ہے یا نمبروں کی دوڑ یا پھر اچھی نوکری، اس سے زیادہ ہماری تعلیم کا مقصد نہیں رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ شعوری سطح پر ہمیں کسی اعلیٰ مقصد کے ساتھ تعلیم نہیں دی جاتی رہی یا یہ کہ ہم خود ہی کسی اعلیٰ مقصد کے ساتھ تعلیم حاصل نہیں کرتے رہے۔ یہ دونوں باتیں ہی اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ ملکی سطح پر پورے کے پورے تعلیمی نظام (ایڈمنسٹریشن، نصاب اور طالب علم) میں کہیں نہ کہیں اعلیٰ مقصد کا فقدان ہے،صرف مقاصد کا تعلیمی پالیسی میں صرف رکھ دینا کافی نہیں۔ان مقاصد کا پورے کے پورے تعلیمی نظام اور مشینری کے ساتھ عملی طور پر ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔

دوران خطاب وزیراعظم نے ایک اہم ترین مسئلے کی طرف معاشرے ، والدین اور اساتذہ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ'' مینارپاکستان کا واقعہ شرمناک ہے ، ہمارے بچپن کے دور میں ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ عورت کی جو عزت پاکستان میں ہوتی تھی مغرب میں نہیں تھی۔''

سچ تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کی اس انتہا کو پہنچ چکاہے، جہاں معصوم بچیوں، بچوں اور خواتین کی عزتیں اور زندگیاں بھی اپنے محلوں اور گلیوں میں محفوظ نہیں رہیں، انسان نماحیوان اتنے آزاد ہوگئے کہ اب ان کی حیوانیت سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ان واقعات کو پڑھ کر یا سن کرہم ہیں کہ صرف کڑھتے ہیں، کلبلاتے ہیں اور ٹھنڈی آہ بھر کے رہ جاتے ہیں، یہ ایک اجتماعی افتاد ہے جو اجتماعی کوششوں سے ہی ٹالی جا سکتی ہے۔ہمیں ان جرائم کے اصل اسباب کو سمجھنا ہوگا اور ان کے سدباب کی کوشش کرنی ہوگی۔

اب سارے ملک میں یہ مسئلہ موضوع بحث بن گیا کہ عصمت ریزی اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات پر کیسے روک لگائی جائے ،اس کے لیے کیسے قوانین بنائے جائیں ،کس قسم کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے مختلف تجاویز سامنے آئیں۔ بعض شخصیات نے ایسے درندوں کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا، کسی نے کہا کہ انھیں ہمیشہ کے لیے نا مرد بنادیا جائے، کسی نے عمر قید سزا کی تجویز پیش کی۔

انسانوں کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک انسانی تہذیب کا عکاس نہیں ہو سکتا۔ انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہی انسانی زندگی کی خوبصورتی ہے۔انسان سازی اور افرادکی تربیت کرنا ہی نصاب کے مرتبین کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ، آج تک کسی حکومت نے اس سمت میںکام کیا نہ اس عنوان کے اہم منصوبوں کوعملی شکل میں ڈھال کر نصاب تعلیم کا حصہ بنایا ، نتیجہ یہ نکلاکہ بظاہر پڑھی لکھی لیکن غیر متمدن نسل کی ''ہری بھری کھیتی'' ہر طرف لہلہاتی نظر آرہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان کہہ رہے ہیں کہ بچوں کی اخلاقی تربیت پرخاص توجہ دی جائے کہ مستقبل میں ان ہی سے نئی نسل نے پروان چڑھنا ہے۔

آج کے جدید دور میں ہمارے والدین کو نئی دور کی ٹیکنالوجی سے آگاہی اور اپنے بچوں کو دیے گئے آلات سے واقفیت بھی بے حد ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ موبائل، کمپیوٹر اور ٹیبلٹ کو بچوں کی ذاتی ملکیت میں نہ دیں بلکہ ان کے ساتھ شیئر کریں اور ان کی حفاظتی سیٹنگ اور پروٹوکول سے مکمل واقفیت رکھیں۔ انٹرنیٹ پر موجود غیر معیاری، غیر اخلاقی ویب سائٹس کو اپنے اور بچوں کے آلات پر لاک رکھیں۔

انسان ماں کی گود سے سیکھنا شروع کرتا ہے۔ تما م عادات و اطوار کو دیکھتا اور نقل کرتا ہے۔پانچ سال کا بچہ ہر چیز نوٹ کر رہا ہوتا ہے۔اس کے سامنے جھوٹ بولا جائے تو وہ بھی جھوٹ بولنے کا عادی ہو جا تا ہے۔ہم اپنا احتساب نہیں کرتے۔یہ نہیں سوچتے کہ ہماری حرکات و سکنات کا آنے والی نسل پر کیا اثر پڑے گا۔ہم نے اپنی اولاد کی حرکتوں کو نوٹ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔نئی نسل کے بچے بڑوں کا احترام تو درکنار اپنے سگے رشتوں کا احترام بھی بھول گئے ہیں۔آج بچوں اور بچیوں کو چوروں ڈاکوؤں سے زیادہ قریبی رشتے داروں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

پہلے بچے اپنے والدین اور بعد میں اساتذہ سے احترام اور ادب سیکھتے تھے۔پھر گاؤں ''دارے'' بیٹھکیں ہوتی تھیں جہاں عمر رسیدہ لوگ معاشرے کی باتیں اس انداز سے کرتے کہ بات بات پر ان کی تربیت ہو رہی ہوتی تھی۔اس کے بعد رات کے وقت بوڑھی اماں، دادیاں، نانیاں،تین تین گھنٹے کی طویل اور سبق آموز کہانیاں سنا کر بچوں کی تربیت کر رہی ہوتی تھیں،بد قسمتی سے سب کچھ ختم ہو گیا۔

ہم بچوں کی تربیت میں گمبھیرکوتاہیاں کرتے جارہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ طول پکڑ گیا تو ہم معاشرے کی سمت درست کرسکیں گے اور نہ ملک وملت کے مستقبل کی صحیح شکل دنیاکے سامنے پیش کر سکیں گے۔
Load Next Story