تحفظ پاکستان آرڈیننس کا تجزیہ
ملک بحران کی لپیٹ میں ہے، پولیس اورخفیہ ایجنسیاں جب بھی کارروائیاں کرتی ہیں تو انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
tauceeph@gmail.com
انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے حال ہی میں نافذ کردہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے ذریعے حکومت کو ملک بھر میں سیف ہاؤس قائم کرنے کی قانونی آزادی حاصل ہوجائے گی۔ لاپتہ افراد کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ یہ قانون برطانوی ہند حکومت کی طرف سے نافذ کردہ 1919 کے رولٹ ایکٹ کی طرح ہے۔ سندھ کی قوم پرست تنظیموں نے اس قانون کے نفاذ کے خلاف 25جنوری کو عام ہڑتال کی ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کا سرسری طور پر جائزہ لیا جائے تو اس کی شقیں 1973 کے آئین کے انسانی حقوق کے باب اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر 1948 سے متضاد نظر آتی ہیں۔
اس قانون کی دفعہ 9 کے تحت گرفتار فرد کو جس مقام پر رکھا گیا ہے اس کو ظاہر نہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس شق کے ذریعے گرفتار افراد کو غائب کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہوجائے گا۔ یوں سرکاری ادارے ہر شہر میں خفیہ سیف ہاؤس قائم کرسکیں گی۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایجنسی کسی شخص کو حراست میں لے تو اس کا نام ہائی کورٹ کے رجسٹرار یا فاٹا پولیٹیکل ایجنٹ کو آگاہ کرنا چاہیے، اس طرح اس آرڈیننس کی شق 3(3) کے تحت پولیس ملزم کو کسی ایجنسی کے حوالے کرسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم کی ایجنسی کو منتقلی علاقہ مجسٹریٹ کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی گرفتار شخص کو اپنی رہائی کے لیے ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ یہ شق انسانی حقوق کی بنیادی خلاف ورزی ہے۔
قانون کے تحت یہ تحقیقاتی ایجنسی کی ذمے داری ہونی چاہیے کہ وہ ملزم کے خلاف ثبوت فراہم کرے، اگر یہ شق نافذ رہی تو پولیس اوردیگر ادارے ایک نیا کاروبار شروع کردیں گے، اس کاروبار میں جو پہلے بھی ہوتا رہا ہے، بے گناہ افراد کو حراست میں لیا جائے گا جو رقم ادا کرے گا وہ چھوٹ جائے گا دوسری صورت میں ملزم کو اپنی بے گناہی کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے، اس طرح حقیقی ملزمان تو اپنے اثرورسوخ سے بچ نکلیں گے اور وہ باقی مظلوموں کے ساتھ مل کر خود کو مظلوم ثابت کریں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملک بحران کی لپیٹ میں ہے، پولیس اور خفیہ ایجنسیاں جب بھی کارروائیاں کرتی ہیں تو انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی واقعے کی تحقیقات ہوتی ہے تو اس واقعے کے پس پردہ جرائم کا منظم نیٹ ورک متحرک نظر آتا ہے۔ پولیس اس نیٹ ورک کے چند افراد کو حراست میں لے، تو ان کے خلاف بظاہر کوئی ثبوت نظر نہیں آتا، پھر بعض اوقات عینی شاہدین ملزمان کو شناخت کرتے ہیں مگر ریاست انھیں تحفظ فراہم نہیں کرپاتی۔ کراچی کے صحافی ولی بابر قتل کیس اس کی منفرد مثال ہے، اس کیس کے کئی گواہ جن میں پولیس افسران بھی شامل ہیں عدالت میں پیش ہونے سے پہلے قتل کردیے گئے۔ بعض اوقات عدالت میں پیش ہونے والے ملزمان کو کمانڈو آپریشن کے ذریعے رہاکرایا گیا تو کئی پولیس افسر شہید ہوئے، پولیس فورس کا مورال گرگیا۔ معاملہ صرف راستوں یا عدالتوں پر حملوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اکثر ایسی اطلاعات آتی ہیں کہ خطرناک ملزموں کو جیلوں سے رہا کرایا گیا۔
پرویز مشرف کے دور میں لاپتہ افراد کی اصطلاح سامنے آئی، یہ وہ لوگ تھے جنھیں ایجنسیوں نے اپنی حراست میں لیا پھر سیف ہاؤس میں منتقل کردیا۔ پولیس حکام ، وزارت داخلہ کو ان افراد سے بے خبر رکھا گیا، جب عدالتوں میں ان افراد کے لواحقین نے عرضداشتیں داخل کیں تو وزارت قانون اور وزارت داخلہ نے ان افراد کو حراست میں لینے سے انکار کیا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں لوگ دس دس سال سے لاپتہ ہیں، ان کے بارے میں کوئی بااختیار اتھارٹی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مار دیے گئے۔ جب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی عرضداشتیں سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کی مقدمات کی فہرست میں شامل ہوئیں تو عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ایک نئی جنگ شروع ہوگئی۔ وزارت قانون اور وزارت داخلہ کا لاپتہ افراد کے معاملات سے تعلق نہیں تھا، یہ افراد ایجنسیوں کے تحویل میں تھے۔ اعلیٰ افسروں کو عدالتوں میں طلب کیا جانے لگا، سپریم کورٹ کی مسلسل سماعت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں کچھ لوگ رہا ہوئے، وزارت دفاع نے کچھ افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی، کچھ کے بارے میں خاموشی اختیار کرلی تھی۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ زیادہ گمبھیر رہا۔ وہاں سیکڑوں کارکن لاپتہ ہوئے پھر ان میں سے بیشتر کا پتہ نہیں ملا۔
صدرآصف علی زرداری کے دور میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کا معاملہ اس وقت مزید خراب ہوا، جب لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہونا شروع ہوئیں، یہ لاشیں کوئٹہ سے لے کر کراچی تک میں ملیں۔ کراچی کی لسانی کشیدگی کی صورتحال میں ان لاشوں نے مزید تضادات کو جنم دیا پھر لاپتہ افراد کے لواحقین نے جدوجہد شروع کردی۔ اسلام آباد میںسپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے کراچی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کے لواحقین نے ڈیرہ ڈال دیا۔ ماما عبدالقادر بلوچ کی قیادت میں عورتوں، بچوں نے پہلے کوئٹہ سے کراچی پیدل مارچ کیا، اب یہ لوگ کراچی سے اسلام آباد جارہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے معاملے نے بین الاقوامی سطح تک شہرت حاصل کرلی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اس معاملے پر بحث ہوئی اور ایک تحقیقاتی مشن پاکستان آیا۔ اگرچہ حکومت پاکستان نے اس تحقیقاتی مشن سے تعاون نہیں کیا، پھر سیاسی جماعتوں انسانی حقوق کے لیے سرگرداں غیر سرکاری تنظیموں، این جی اوز اور لاپتہ افراد کے لواحقین اس مشن کے سامنے پیش ہوئے۔ اس مشن کی رپورٹ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو عیاں کردیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری دن ان مقدمات کی سماعت کی اور سخت ترین ریمارکس دیے مگر معاملہ ہنوز التوا کا شکار ہے۔ اب حکومت نے تحفظ پاکستان آرڈیننس پورے ملک میں نافذ کرکے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔
بعض وکلاء کہتے ہیں کہ یہ قانون سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا، یوں یہ بے اثر ہوجائے گا۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اس قانون کو پورے ملک کے بجائے مخصوص علاقوں میں نافذ ہونا چاہیے اور لاپتہ افراد کی اصطلاح ختم ہونی چاہیے، اس بناء پر ضروری ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کے نام، کوائف اور الزامات پر مشتمل نوٹیفکیشن متعلقہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھجوانا لازمی ہونا چاہیے، ایک موقف یہ ہے کہ حالات سے نمٹنے کے لیے امریکا اور برطانیہ میں اس طرح کے قوانین نافذ کیے ہیں، یوں یہ قانون پہلے بننا چاہیے تھا۔1919 میں جو رولٹ ایکٹ نافذ کا تھا اس قانون کے تحت کسی بھی فرد کو 2 سال تک بغیر کوئی وجہ بتائے قید رکھا جاسکتا تھا مگر اس شخص کے بارے میں لواحقین مکمل طور پر آگاہ ہوتے تھے مگر محمد علی جناح نے رولٹ ایکٹ کو سیاہ قانون قرار دے کر امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یوں نیا قانون انگریز دور سے بہتر ہونا چاہیے۔بہر حال پاکستان جیسے دنیا کے ترقی پذیر ملک میں ایسے قانون بنتے ہی رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہیں گے۔ اس طرح اس نئے قانون میں موجود خامیاں اور سقم شاید دور ہو جائیں اور یہ قانون جس مقصد کے لیے بنا ہے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہو سکے۔
اس قانون کی دفعہ 9 کے تحت گرفتار فرد کو جس مقام پر رکھا گیا ہے اس کو ظاہر نہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس شق کے ذریعے گرفتار افراد کو غائب کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہوجائے گا۔ یوں سرکاری ادارے ہر شہر میں خفیہ سیف ہاؤس قائم کرسکیں گی۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایجنسی کسی شخص کو حراست میں لے تو اس کا نام ہائی کورٹ کے رجسٹرار یا فاٹا پولیٹیکل ایجنٹ کو آگاہ کرنا چاہیے، اس طرح اس آرڈیننس کی شق 3(3) کے تحت پولیس ملزم کو کسی ایجنسی کے حوالے کرسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم کی ایجنسی کو منتقلی علاقہ مجسٹریٹ کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی گرفتار شخص کو اپنی رہائی کے لیے ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ یہ شق انسانی حقوق کی بنیادی خلاف ورزی ہے۔
قانون کے تحت یہ تحقیقاتی ایجنسی کی ذمے داری ہونی چاہیے کہ وہ ملزم کے خلاف ثبوت فراہم کرے، اگر یہ شق نافذ رہی تو پولیس اوردیگر ادارے ایک نیا کاروبار شروع کردیں گے، اس کاروبار میں جو پہلے بھی ہوتا رہا ہے، بے گناہ افراد کو حراست میں لیا جائے گا جو رقم ادا کرے گا وہ چھوٹ جائے گا دوسری صورت میں ملزم کو اپنی بے گناہی کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے، اس طرح حقیقی ملزمان تو اپنے اثرورسوخ سے بچ نکلیں گے اور وہ باقی مظلوموں کے ساتھ مل کر خود کو مظلوم ثابت کریں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملک بحران کی لپیٹ میں ہے، پولیس اور خفیہ ایجنسیاں جب بھی کارروائیاں کرتی ہیں تو انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی واقعے کی تحقیقات ہوتی ہے تو اس واقعے کے پس پردہ جرائم کا منظم نیٹ ورک متحرک نظر آتا ہے۔ پولیس اس نیٹ ورک کے چند افراد کو حراست میں لے، تو ان کے خلاف بظاہر کوئی ثبوت نظر نہیں آتا، پھر بعض اوقات عینی شاہدین ملزمان کو شناخت کرتے ہیں مگر ریاست انھیں تحفظ فراہم نہیں کرپاتی۔ کراچی کے صحافی ولی بابر قتل کیس اس کی منفرد مثال ہے، اس کیس کے کئی گواہ جن میں پولیس افسران بھی شامل ہیں عدالت میں پیش ہونے سے پہلے قتل کردیے گئے۔ بعض اوقات عدالت میں پیش ہونے والے ملزمان کو کمانڈو آپریشن کے ذریعے رہاکرایا گیا تو کئی پولیس افسر شہید ہوئے، پولیس فورس کا مورال گرگیا۔ معاملہ صرف راستوں یا عدالتوں پر حملوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اکثر ایسی اطلاعات آتی ہیں کہ خطرناک ملزموں کو جیلوں سے رہا کرایا گیا۔
پرویز مشرف کے دور میں لاپتہ افراد کی اصطلاح سامنے آئی، یہ وہ لوگ تھے جنھیں ایجنسیوں نے اپنی حراست میں لیا پھر سیف ہاؤس میں منتقل کردیا۔ پولیس حکام ، وزارت داخلہ کو ان افراد سے بے خبر رکھا گیا، جب عدالتوں میں ان افراد کے لواحقین نے عرضداشتیں داخل کیں تو وزارت قانون اور وزارت داخلہ نے ان افراد کو حراست میں لینے سے انکار کیا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں لوگ دس دس سال سے لاپتہ ہیں، ان کے بارے میں کوئی بااختیار اتھارٹی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مار دیے گئے۔ جب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی عرضداشتیں سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کی مقدمات کی فہرست میں شامل ہوئیں تو عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ایک نئی جنگ شروع ہوگئی۔ وزارت قانون اور وزارت داخلہ کا لاپتہ افراد کے معاملات سے تعلق نہیں تھا، یہ افراد ایجنسیوں کے تحویل میں تھے۔ اعلیٰ افسروں کو عدالتوں میں طلب کیا جانے لگا، سپریم کورٹ کی مسلسل سماعت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں کچھ لوگ رہا ہوئے، وزارت دفاع نے کچھ افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی، کچھ کے بارے میں خاموشی اختیار کرلی تھی۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ زیادہ گمبھیر رہا۔ وہاں سیکڑوں کارکن لاپتہ ہوئے پھر ان میں سے بیشتر کا پتہ نہیں ملا۔
صدرآصف علی زرداری کے دور میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کا معاملہ اس وقت مزید خراب ہوا، جب لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہونا شروع ہوئیں، یہ لاشیں کوئٹہ سے لے کر کراچی تک میں ملیں۔ کراچی کی لسانی کشیدگی کی صورتحال میں ان لاشوں نے مزید تضادات کو جنم دیا پھر لاپتہ افراد کے لواحقین نے جدوجہد شروع کردی۔ اسلام آباد میںسپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے کراچی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کے لواحقین نے ڈیرہ ڈال دیا۔ ماما عبدالقادر بلوچ کی قیادت میں عورتوں، بچوں نے پہلے کوئٹہ سے کراچی پیدل مارچ کیا، اب یہ لوگ کراچی سے اسلام آباد جارہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے معاملے نے بین الاقوامی سطح تک شہرت حاصل کرلی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اس معاملے پر بحث ہوئی اور ایک تحقیقاتی مشن پاکستان آیا۔ اگرچہ حکومت پاکستان نے اس تحقیقاتی مشن سے تعاون نہیں کیا، پھر سیاسی جماعتوں انسانی حقوق کے لیے سرگرداں غیر سرکاری تنظیموں، این جی اوز اور لاپتہ افراد کے لواحقین اس مشن کے سامنے پیش ہوئے۔ اس مشن کی رپورٹ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو عیاں کردیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری دن ان مقدمات کی سماعت کی اور سخت ترین ریمارکس دیے مگر معاملہ ہنوز التوا کا شکار ہے۔ اب حکومت نے تحفظ پاکستان آرڈیننس پورے ملک میں نافذ کرکے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔
بعض وکلاء کہتے ہیں کہ یہ قانون سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا، یوں یہ بے اثر ہوجائے گا۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اس قانون کو پورے ملک کے بجائے مخصوص علاقوں میں نافذ ہونا چاہیے اور لاپتہ افراد کی اصطلاح ختم ہونی چاہیے، اس بناء پر ضروری ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کے نام، کوائف اور الزامات پر مشتمل نوٹیفکیشن متعلقہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھجوانا لازمی ہونا چاہیے، ایک موقف یہ ہے کہ حالات سے نمٹنے کے لیے امریکا اور برطانیہ میں اس طرح کے قوانین نافذ کیے ہیں، یوں یہ قانون پہلے بننا چاہیے تھا۔1919 میں جو رولٹ ایکٹ نافذ کا تھا اس قانون کے تحت کسی بھی فرد کو 2 سال تک بغیر کوئی وجہ بتائے قید رکھا جاسکتا تھا مگر اس شخص کے بارے میں لواحقین مکمل طور پر آگاہ ہوتے تھے مگر محمد علی جناح نے رولٹ ایکٹ کو سیاہ قانون قرار دے کر امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یوں نیا قانون انگریز دور سے بہتر ہونا چاہیے۔بہر حال پاکستان جیسے دنیا کے ترقی پذیر ملک میں ایسے قانون بنتے ہی رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہیں گے۔ اس طرح اس نئے قانون میں موجود خامیاں اور سقم شاید دور ہو جائیں اور یہ قانون جس مقصد کے لیے بنا ہے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہو سکے۔