عکس ہمارے سماج کا

محترم یونس احمر رخصت ہوئے اور تہذیب اور علم سے محبت کرنے والی اپنی یادگاریں چھوڑ گئے

zahedahina@gmail.com

سبزہ تھا، پھول اور پودے تھے،ان پر منڈلاتی ہوئی تتلیاں تھیں،ڈھلتی ہوئی دھوپ کی سنہری روشنی میں شہر کے چند مشہور افراد تھے ۔ ان کے درمیان میں اس شخص کو یاد کرتی رہی جو شاید اب کم ہی لوگوں کی یاد میں محفوظ ہو ۔ ہم اپنے ان ادیبوں اور صحافیوں کو بھلا دینے میں طاق ہیں ، یہ وہ لوگ تھے جو سادہ مزاج تھے اور جنہیں اپنے آپ کو نما یاں کرنے کا ہنر نہیں آتا تھا ۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو بڑے عہدوں پر رہے لیکن انھوں نے گوشہ گیری اختیار کی اور خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے ، اس بات سے کبھی غرض نہ رکھی کہ کون انھیں جانتا ہے اور اُن کے ہنر کی قدر بھی کرتا ہے یا نہیں ۔ ہمارے ایک ایسے ہی ادیب یونس احمر تھے جو ریڈیو پاکستان میں پروگرام منیجر رہے ۔ کئی کتابیں لکھیں جن میں مارڈن اُردو پوئیٹس کا ایک زمانے میں خاصا ذکررہا ۔ کئی اور کتابیں لکھیں ۔ خود نوشت ''ماضی کے تعاقب میں'' کے عنوان سے لکھی ۔ان کا سب سے اہم کام یہ تھا کہ انھوں نے بنگلہ اور اُردو ادب کے درمیان ترجمہ شدہ کہانیوں کا پل بنا یا ۔ ان کی یہ کہانیاں ماہنامہ ''افکار'' میں پابندی سے شایع ہوتی تھیں ۔

محترم یونس احمر رخصت ہوئے اور تہذیب اور علم سے محبت کرنے والی اپنی یادگاریں چھوڑ گئے ۔ مونس احمر ان کے بیٹے ہیں ،کراچی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور اپنے شعبے کا ایک معتبر نام ہیں ۔ ان کی بیٹی تسنیم احمر نے اب سے پندرہ سولہ برس پہلے ایک تنظیم کا آغازکیا اور نام اس کا ''عکس '' رکھا ۔ ہمارے یہاں تنظیموں کے نام عموماً انگریزی میں رکھے جاتے ہیں ۔' روزن ، سیمرغ اور عکس '' کے نام ان اداروں کو چلا نے والی خواتین کے تہذیبی اور علمی ادبی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ تسنیم احمر نے اگر اپنے ادارے کا نام ''عکس'' رکھا تو اس کا سبب ان کے گھر کا ادبی ماحول تھا ۔ وہ مرزا عابد عباس مرحوم کے بیٹے ظفرعباس کی شریک حیات ہیں ۔ ظفر ، اطہر ، اظہر ، مظہر اور ان کے دوسرے بھائی بہن، ایک علمی اور ادبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔

1998سے2014تک '' عکس ''کی طرف سے ہر سال ایک ٹیبل ڈائری شایع کی جاتی ہے ۔اس روز بھی تقریب بہر ملاقات یہی تھی کہ '' عکس ''نے 2014کی جو ڈائری شایع کی ہے اس کا تعارف کرا یا جائے ۔ اس مرتبہ 2005کے زلزلے اور اس کے بعد آنے والے 2010کے سیلاب نے متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والوں اور بطور خاص عورتوں اور بچیوں پر اس درد ناک انسانی المیے کے کیا اثرات مرتب کیے، ان معاملات کا ملک کے مختلف اخبارات نے کس طورجائزہ لیا،ان رپورٹوں کو یکجا کرکے ڈائری کی شکل میں ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے ۔ اس میں تصویریں ہیں،انگریزی اور اُردو اخباروں کے تراشے ہیں ۔ یہ ہمیں آفت زدہ لوگوں کی زندگی کی جھلکیاں دکھاتے ہیں ۔اس ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے اکتوبر 2005میں لکھا جانے والا اپنا ایک کالم یاد آیا ۔ میں نے لکھا تھا :

''ان بے بس اور بے آسرا لوگوں کو آپ نے بھی اسکرین پر دیکھا ہوگا جو گری ہوئی عمارتو ں کے ملبے کے سامنے سرجھکائے بیٹھے تھے ۔ جنہیں معلوم تھا کہ ان کے پیارے اس ملبے کے نیچے موجود ہیں ، جن کی چیخیں بھی ان تک آرہی تھیں لیکن وہ ان کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے تھے ۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں ، پھاؤڑوں،بیلچوں اور سریوں سے جتنی کوششیں ممکن تھیں وہ کر لی تھیں لیکن ان کے پاس وہ بھاری مشینیں اور اوزار نہیں تھے جن سے سریا کاٹا جاتا ہے ، جن سے ٹنوں ملبہ اٹھا یا جاتا ہے اور آفت کا شکار ہو نے والوں کو نکالا جاتا ہے ۔ ان لوگوں میں وہ ماں باپ اور بھائی بہن بھی تھے جو اسکول کی عمارت کے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی پرائمری کی بچیوں اور ان کی ٹیچروں کی زندگی کے لیے صرف دُعا ہی کر سکتے تھے ۔ ان میں وہ بھی تھے جو مظفر آباد ، مانسہرہ اور بالا کوٹ کی دھنسی ہوئی عمارتوں سے جھا نکتی ہوئی لاشوں کو دیکھ سکتے تھے لیکن انھیں نکال کر دفن نہیں کر سکتے تھے ۔

ملبے میں دبے ہوئے اپنے پیاروں کو لحظہ لحظہ موت کے منہ میں جاتے ہو ئے محسوس کرنے کی ناقابل بیان اذیت سے گزرتے ہوئے لوگ اگر ٹیلیویژن کیمروں کے سامنے آہ وبکا کر رہے تھے ، اگر یہ کہہ رہے تھے کہ 48گھنٹوں کے بعد بھی کوئی سرکاری ادارہ ان کی مدد کو نہیں پہنچا ، تو کیا وہ اس میں حق بجانب نہ تھے ؟وہ اسکول جس میں چار سو سے زیادہ بچیاں زندہ دفن ہو گئیں ، وہ عمارتیں جس میں سے لوگ اس لیے نکالے نہ جا سکے کہ انھیں بچانے کے لیے سامان موجود نہ تھا ، ان ناقابل تلافی نقصانات پر آہ وبکار کرنے والوں کو اس کی تلقین کرنا کہ لوگ صبر کریں اور شکایتیں نہ کریں ، ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ یہ کوئی گڑھی حبیب اللہ ، شانگلہ ، بٹ گرام اور کوہستان میں رہنے والوں سے جاکر پوچھے جہاں سرکاری اسکولوں میں استعمال ہو نے والا تعمیراتی سامان اس قدر ناقص تھا کہ کئی اسکولوں کی چھتیں گرگئیں اور تعلیمی ادارے ان بچوں کی قتل گاہیں بن گئے ۔


باغ کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ، راولا کوٹ میں 95فیصد گھر تباہ ہو گئے ۔ ان علاقوں میں بعض قصبے اور دیہات ایسے بھی تھے جہاں کوئی زندہ نہیں بچا ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشترعلاقوں میں48 گھنٹوں بعد بھی حکومتی اداروں کی طرف سے کوئی امداد نہیں آئی اور لوگ رات بھر طوفانی بارش اور ژالہ باری میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے رہے اور دن بھر سروں پر ہیلی کاپٹروں کو پرواز کرتے دیکھتے رہے لیکن ان کی مدد کو کوئی نہیں پہنچا ۔

''عکس '' نے زلزلے اور سیلاب سے بے گھر اور بے آسرا ہو جانے والی عورتوں کو بطور خاص اپنا موضوع بنایا ۔ اس ادارے کی طرف سے ریلیف ورک کے ساتھ ہی ایک ایف ایم ریڈ یو بھی شروع کیا گیا جو آج بھی متاثرہ خواتین اور لڑکیوںکے لیے پروگرام نشر کرتاہے اور ان کے انٹرویوکرتا ہے ۔ ان کے مسائل اور ان مسئلوں سے وہ کس طرح نبرد آزما ہو ئیں،سب کچھ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔اس روز بھی ہم نے کئی ریڈیوانٹرویو سنے ۔ بات کرنے والیوں کی آواز سے ان کا عزم جھلکتا تھا ۔ وہ بار بار یہی کہہ رہی تھیں کہ کچھ بھی ہو ہم اس آفت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور اس بات کا انتظار نہیں کریں گے کہ سرکاری محکمے ہماری مدد کو آئیں ۔

بظاہر 2010کا سیلاب اور 2005کا زلزلہ بہت پرانی بات ہو گئی لیکن جن کے گھر اُجڑے تھے ۔ جن کی بستیاں بہہ گئی تھیں وہ آج بھی درحقیقت آباد نہ ہو سکے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آفات کے بھنور میں پھنسنے والوں کو ہم نے بھلا دیا ہے ۔ اس روز میرا کہنا تھا کہ ان آفت زد گان کی تصویر یں دیکھ کران کے بارے میں اخباری تراشے پڑھ کر یا متاثرہ لڑکیوں اور عورتوں کے انٹرویو سن کر ہمیں ان کے حوصلے کی داد دینی چاہیے ۔ ان کی دست گیری کے لیے ان تک پہنچنے والے اداروں اورتنظیموں کا شکر گزار ہو نا چاہیے کہ انھوں نے سرکاری اداروں کا انتظار نہیں کیا جو تنخواہ اس بات کی لیتے ہیں کہ آفت رسید ہ لوگوں کی مدد کے لیے فوراً پہنچیں۔ میں نے کہا کہ ان مثبت باتوں کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ آفت کی ایسی گھڑی میں کچھ لوگوں نے معصوم بچوں اور بے آسرا لڑکیوں کے ساتھ کیسے ستم کیے ۔

یہ بات چھپا نے کی نہیں بتانے کی ہے کہ ریلیف کیمپوں سے نوجوان لڑکیاں کس طرح غائب کی گئیں اور پھر ان کے ساتھ کیا ہوا ۔ ہمارے لوگوں اور بطور خاص عورتوں اور بچیوں کی اس بات کی آگہی ہونی چاہیے کہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں انھیں کس قدر چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ اس ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہو ئے مجھے بے اختیار ڈاکٹر شیر شاہ سید یاد آئے جو زلزلے کے فوراً بعد اپنی ٹیم کو لے کر بالاکوٹ ، باغ اور دوسرے متاثرہ علاقوں میں پہنچے تھے اور اس کے بعد انھوں نے انسانی المیوں کی وہ کہانیاں لکھی تھیں جو '' دل میرا بالا کوٹ '' کے نام سے شایع ہوئیں ۔ انھیں پڑھیے تو دل ٹکڑے ہوتا ہے اور یقین نہیں آتا کہ انسان اتنی پستیوں میں بھی گرسکتا ہے ۔

'' عکس '' 2014ڈائری نے آفت ناگہانی سے دو چار ہو نے والوں، ان کی مدد کو پہنچنے والوں او ر دست گیری کی آڑ میں بردہ فروشی کرنے والوں کے چہرے ہمیں دکھادیے ہیں۔ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جس کا جائزہ لیتے ہو ئے ہمیں انسانی نفس کی بلندیاں اور اس کی پستیاں سب ہی دکھائی دیتی ہیں ۔
Load Next Story