تجاوزات اورٹریفک بہاؤ میں رکاوٹ سے سالانہ 73 ارب کا نقصان
ٹریفک روانی میں بہتری نہ آنے پرنقصان 5 سال میں 106 ارب تک پہنچنے کاخدشہ
ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نقصان 5سال میں بڑھ کر 106ارب روپے سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ فوٹو : فائل
کراچی میں تجاوزات اور بدنظمی کے سبب ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ سے معیشت کو سالانہ 72ارب 90کروڑ روپے سے زائد (687.8ملین ڈالر) کا نقصان پہنچ رہا ہے۔
جو ملک کے مجموعی ٹیکسوں کا 2 فیصد ہے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نقصان 5سال میں بڑھ کر 106ارب روپے (ایک ارب ڈالر )سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ کراچی میں ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ سے معیشت،قومی خزانے اور پیداواریت کو پہنچنے والے نقصان کے اندازے کے لیے انڈس موٹر کمپنی کے تحت این این ڈی یونیورسٹی سے کرائی گئی ایک تحقیق 'ٹیوٹا ریسرچ آن ٹریفک کنجسشن' میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹیں ملکی معیشت کیلیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہیں، کراچی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تاہم ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار میں کراچی کا حصہ کم ہونے کا خطرہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2018 تک کراچی میں ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹوں کے سبب سالانہ نقصانات 1ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جو جی ڈی پی میں کراچی کے حصے کا 2 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصروف اوقات میں شہر کی سڑکوں سے گنجائش سے زیادہ گاڑیاں گزرتی ہیں جبکہ سڑکوں پر تجاوزات کی وجہ سے گنجائش میں بہت کمی واقع ہورہی ہے۔ مقامی ہوٹل میں رپورٹ کی اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈس موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرویز غیاث نے کہا کہ ٹریفک کے دباؤ کے پراجیکٹ پر ہم نے سائنسی بنیاد پر اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔اس موقع پر وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر افضل حق نے بھی خطاب کیا۔
جو ملک کے مجموعی ٹیکسوں کا 2 فیصد ہے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نقصان 5سال میں بڑھ کر 106ارب روپے (ایک ارب ڈالر )سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ کراچی میں ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ سے معیشت،قومی خزانے اور پیداواریت کو پہنچنے والے نقصان کے اندازے کے لیے انڈس موٹر کمپنی کے تحت این این ڈی یونیورسٹی سے کرائی گئی ایک تحقیق 'ٹیوٹا ریسرچ آن ٹریفک کنجسشن' میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹیں ملکی معیشت کیلیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہیں، کراچی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تاہم ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار میں کراچی کا حصہ کم ہونے کا خطرہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2018 تک کراچی میں ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹوں کے سبب سالانہ نقصانات 1ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جو جی ڈی پی میں کراچی کے حصے کا 2 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصروف اوقات میں شہر کی سڑکوں سے گنجائش سے زیادہ گاڑیاں گزرتی ہیں جبکہ سڑکوں پر تجاوزات کی وجہ سے گنجائش میں بہت کمی واقع ہورہی ہے۔ مقامی ہوٹل میں رپورٹ کی اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈس موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرویز غیاث نے کہا کہ ٹریفک کے دباؤ کے پراجیکٹ پر ہم نے سائنسی بنیاد پر اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔اس موقع پر وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر افضل حق نے بھی خطاب کیا۔