سانحہ مہران ٹاؤن کا مقدمہ درج ورثا کو 10 لاکھ فی کس دینے کا اعلان
مقدمہ بلڈنگ مالک، فیکٹری مالک، منیجر، 2 سپروائزر اور چوکی دار کے خلاف درج کرلیا گیا تاہم کسی کو گرفتار نہ کیا جاسکا
مقدمہ بلڈنگ مالک، فیکٹری مالک، منیجر، 2 سپروائزر اور چوکی دار کے خلاف درج کرلیا گیا تاہم کسی کو گرفتار نہ کیا جاسکا (فوٹو : فائل)
کورنگی صنعتی ایریا پولیس نے سانحہ مہران ٹاؤن میں 16 افراد کی ہلاکت کا مقدمہ بلڈنگ مالک، فیکٹری مالک، منیجر، 2 سپروائزر اور چوکی دار کے خلاف درج کرلیا تاہم کسی کو گرفتار نہ کیا جاسکا۔
ایس ایس پی کورنگی شاہجہاں خان نے بتایا کہ کورنگی صنعتی ایریا پولیس نے جمعہ کی صبح سفری بیگ بنانے والی فیکٹری میں ہول ناک آتشزدگی کے نتیجے میں 16 افراد کی ہلاکت کا مقدمہ نمبر 1182 سال 2021 ایس ایچ او سب انسپکٹر طارق آرائیں کی مدعیت قتل خطا کی دفعہ 322/34 کے تحت درج کرلیا ہے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ مقدمہ میں عمارت کے مالک فیصل، فیکٹری کے مالک علی، مینجر عمران زیدی، 2 سپروائزر ظفر اور ریحان کے علاوہ چوکی دار سید زریں کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ پڑھیں : مہران ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو دہرا دیا
انھوں ںے بتایا کہ ہفتے کو پولیس ٹیم نے جائے وقوع کا دوبارہ معائنہ کیا اور شواہد جمع کیے تاہم 2 روز گزر جانے کے باوجود اب تک اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ آگ لگنے کی وجہ کیا تھی۔
بیٹے کی بچاؤ بچاؤ کی آوازیں اب تک کانوں میں گونج رہی ہیں، والدین کاشف
سانحہ مہران ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والے ایک نوجوان کاشف کے والدین فیکٹری کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے رو پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کا ایک بھی نمائندہ ہم سے ہمددری کے لیے نہیں آیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ واقعے کی مکمل غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور غفلت و لاپروائی کے مرتکب عناصر کو کڑی سزا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی میں کیمیکل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 17 مزدور جاں بحق
انھوں نے بتایا کہ فیکٹری کے سامنے ہی ہمارا گھر ہے، ہم چوکی دار اور دیگر عملے سے التجائیں کرتے رہے کہ خدارا دروازہ کھولو مگر چوکیدار نے دروزاہ نہیں کھولا، ہمارے بیٹے کاشف سمیت دیگر ملازمین کھڑکیوں سے بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگاتے رہے جبکہ ان کی چیخ و پکار اب تک ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے۔
متوفی کے والد ذوالفقار نے کہا کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ اتنی بڑی فیکٹری میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے، مذکورہ ڈپارٹمنٹ نے ابھی تک جائے وقوع کا معائنہ نہیں کیا۔
مرتضی وہاب کی متاثرین سے ملاقات
ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے دھوبی گھاٹ لیاری پہنچ کر مہران ٹاؤن کورنگی سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ملاقات و تعزیت کی۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے سندھ حکومت کی جانب سے شہداء کے ورثاء کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا اور کہا کہ سندھ حکومت دکھ کی اس گھڑی میں ورثاء کے ساتھ ہے۔
ایس ایس پی کورنگی شاہجہاں خان نے بتایا کہ کورنگی صنعتی ایریا پولیس نے جمعہ کی صبح سفری بیگ بنانے والی فیکٹری میں ہول ناک آتشزدگی کے نتیجے میں 16 افراد کی ہلاکت کا مقدمہ نمبر 1182 سال 2021 ایس ایچ او سب انسپکٹر طارق آرائیں کی مدعیت قتل خطا کی دفعہ 322/34 کے تحت درج کرلیا ہے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ مقدمہ میں عمارت کے مالک فیصل، فیکٹری کے مالک علی، مینجر عمران زیدی، 2 سپروائزر ظفر اور ریحان کے علاوہ چوکی دار سید زریں کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ پڑھیں : مہران ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو دہرا دیا
انھوں ںے بتایا کہ ہفتے کو پولیس ٹیم نے جائے وقوع کا دوبارہ معائنہ کیا اور شواہد جمع کیے تاہم 2 روز گزر جانے کے باوجود اب تک اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ آگ لگنے کی وجہ کیا تھی۔
بیٹے کی بچاؤ بچاؤ کی آوازیں اب تک کانوں میں گونج رہی ہیں، والدین کاشف
سانحہ مہران ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والے ایک نوجوان کاشف کے والدین فیکٹری کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے رو پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کا ایک بھی نمائندہ ہم سے ہمددری کے لیے نہیں آیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ واقعے کی مکمل غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور غفلت و لاپروائی کے مرتکب عناصر کو کڑی سزا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی میں کیمیکل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 17 مزدور جاں بحق
انھوں نے بتایا کہ فیکٹری کے سامنے ہی ہمارا گھر ہے، ہم چوکی دار اور دیگر عملے سے التجائیں کرتے رہے کہ خدارا دروازہ کھولو مگر چوکیدار نے دروزاہ نہیں کھولا، ہمارے بیٹے کاشف سمیت دیگر ملازمین کھڑکیوں سے بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگاتے رہے جبکہ ان کی چیخ و پکار اب تک ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے۔
متوفی کے والد ذوالفقار نے کہا کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ اتنی بڑی فیکٹری میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے، مذکورہ ڈپارٹمنٹ نے ابھی تک جائے وقوع کا معائنہ نہیں کیا۔
مرتضی وہاب کی متاثرین سے ملاقات
ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے دھوبی گھاٹ لیاری پہنچ کر مہران ٹاؤن کورنگی سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ملاقات و تعزیت کی۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے سندھ حکومت کی جانب سے شہداء کے ورثاء کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا اور کہا کہ سندھ حکومت دکھ کی اس گھڑی میں ورثاء کے ساتھ ہے۔