آئی سی سی میں برپا طوفان وقتی طور پر ٹل گیا
بگ تھری نے تمام بورڈز کو سوچ بچار کیلیے وقت دے دیا، متنازع پوزیشن پیپر پر آئندہ ماہ پھر بحث ہوگی
ہرٹیم کو میرٹ پر کرکٹ کے تمام فارمیٹس کھیلنے کا حق حاصل ہوگا، کسی ملک سے خاص رعایت نہیں برتی جائے گی۔فوٹو:فائل
آئی سی سی میں برپا طوفان وقتی طور پر ٹل گیا، بگ تھری نے تمام بورڈز کو سوچ بچار کیلیے وقت دے دیا۔
متنازع پوزیشن پیپر پر بحث آئندہ ماہ پھر ہوگی، کئی سفارشات کی تمام بورڈز نے متفقہ حمایت کردی، ہرٹیم کو میرٹ پر کرکٹ کے تمام فارمیٹس کھیلنے کا حق حاصل ہوگا، کسی ملک سے خاص رعایت نہیں برتی جائے گی، بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے سوا باقی تمام فل ممبر ممالک کو خصوصی ٹیسٹ فنڈ سے سالانہ امداد دی جائے گی، باہمی طور پر طے پانے والی سیریز کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی، بھارتی بورڈ کی اجارہ داری کو تسلیم کرنے پر غور کیا جائے گا، جون 2014 سے آئی سی سی بورڈ کا چیئرمین بھارت سے ہوگا، مجوزہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی جگہ پھر سے چیمپئنز ٹرافی لے گی، تمام سفارت کو بورڈز کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایگزیکٹیو بورڈ کا 2روزہ اجلاس گذشتہ روز دبئی میں شروع ہوا، ابتدائی روز فنانس اینڈ کمرشل افیئر کمیٹی کے ورکنگ گروپ کی جانب سے تیار کیے جانے والے پوزیشن پیپر پر 6 گھنٹوں تک زوردار بحث ہوئی، جس کے بعد معاملہ آئندہ ماہ شیڈول میٹنگ تک ملتوی کردیاگیا،آئی سی سی نے دعویٰ کیاکہ تمام فل ممبران نے متفقہ طور پر پوزیشن پیپر میں شامل تجاویز کی حمایت کردی تاہم ان کی باضابطہ منظوری دی جانا باقی ہے۔
آئی سی سی بورڈ کی جانب سے متفقہ طور پر جن پرنسپلز کی حمایت کی گئی وہ کچھ اس طرح سے ہیں، تمام بورڈز کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ تمام فارمیٹس کو میرٹ کی بنیاد پرکھیلیں،اس سلسلے میں کسی ملک سے خاص طور پر کوئی رعایت نہ کی جائے، فل ممبر کے اسٹیٹس میں بھی کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔
ایک ٹیسٹ کرکٹ فنڈ قائم ہو جس سے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے سوا باقی تمام فل ممبران کو سالانہ طور پر امداد دی جائے گی تاکہ وہاں پر ٹیسٹ کرکٹ میں مزید بہتری آئے، ایسوسی ایٹ ممبران کو بھی زیادہ حصہ دیا جائے گا، باہمی طور پر طے پانے والے فیوچر ٹور پروگرام کو قانونی حیثیت اور بینک گارنٹی حاصل ہوگی، یہ معاہدے آئی سی سی کے کمرشل حقوق کی مدت 2015 سے 2023 تک کے لیے ہوں گے۔ اس بات کو تسلیم کیا گیاکہ کونسل میں ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے، جس میں بڑے ممبران شریک اور بی سی سی آئی کو قیادت کی ذمہ داری میں مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
آئی سی سی ایونٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے فل ممبران کو مختلف ادائیگیوں پر غور کی بھی ضرورت ہے۔ ایگزیکٹیو کمیٹی کی تشکیل اور فنانشل اینڈکمرشل افیئر کمیٹی کو آپریشنل لیول پر قیادت فراہم کرتے ہوئے اس میں بی سی سی آئی، سی اے اور انگلینڈ اینڈ ویلز سمیت پانچ ممبران شامل کیے جائیںگے، آئی سی سی بورڈ میں سے کوئی بھی چیئرمین بن سکتا ہے، اسی طرح نئی ایگزیکٹیو کمیٹی اور فنانشل کمیٹی میں شامل ممبران میں سے کوئی چیئرمین منتخب ہوسکتا ہے، چونکہ آئی سی سی تبدیلی کے مرحلے سے گزررہی،اس میں نیا گورننس اسٹرکچر لایا جارہا اور میڈیا رائٹس فروخت ہونے ہیں اس لیے نئی قیادت جون 2014 سے2 برس کے لیے ہوگی، بی سی سی آئی کا نمائندہ آئی سی سی بورڈ کا چیئرمین ہوگا، کرکٹ آسٹریلیا کا نمائندہ ایگزیکٹیو کمیٹی اور انگلش بورڈ کا نمائندہ فنانشل کمیٹی کا چیئرمین بنے گا۔ ایک نئی کمپنی تشکیل دی جائے گی جو آئی سی سی کے نئے ایونٹس کے نشریاتی اور اسپانسر شپ حقوق کیلیے ٹینڈر جاری کرے گی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی جگہ پھر سے چیمپئنز ٹرافی ہی لے گی۔
متنازع پوزیشن پیپر پر بحث آئندہ ماہ پھر ہوگی، کئی سفارشات کی تمام بورڈز نے متفقہ حمایت کردی، ہرٹیم کو میرٹ پر کرکٹ کے تمام فارمیٹس کھیلنے کا حق حاصل ہوگا، کسی ملک سے خاص رعایت نہیں برتی جائے گی، بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے سوا باقی تمام فل ممبر ممالک کو خصوصی ٹیسٹ فنڈ سے سالانہ امداد دی جائے گی، باہمی طور پر طے پانے والی سیریز کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی، بھارتی بورڈ کی اجارہ داری کو تسلیم کرنے پر غور کیا جائے گا، جون 2014 سے آئی سی سی بورڈ کا چیئرمین بھارت سے ہوگا، مجوزہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی جگہ پھر سے چیمپئنز ٹرافی لے گی، تمام سفارت کو بورڈز کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایگزیکٹیو بورڈ کا 2روزہ اجلاس گذشتہ روز دبئی میں شروع ہوا، ابتدائی روز فنانس اینڈ کمرشل افیئر کمیٹی کے ورکنگ گروپ کی جانب سے تیار کیے جانے والے پوزیشن پیپر پر 6 گھنٹوں تک زوردار بحث ہوئی، جس کے بعد معاملہ آئندہ ماہ شیڈول میٹنگ تک ملتوی کردیاگیا،آئی سی سی نے دعویٰ کیاکہ تمام فل ممبران نے متفقہ طور پر پوزیشن پیپر میں شامل تجاویز کی حمایت کردی تاہم ان کی باضابطہ منظوری دی جانا باقی ہے۔
آئی سی سی بورڈ کی جانب سے متفقہ طور پر جن پرنسپلز کی حمایت کی گئی وہ کچھ اس طرح سے ہیں، تمام بورڈز کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ تمام فارمیٹس کو میرٹ کی بنیاد پرکھیلیں،اس سلسلے میں کسی ملک سے خاص طور پر کوئی رعایت نہ کی جائے، فل ممبر کے اسٹیٹس میں بھی کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔
ایک ٹیسٹ کرکٹ فنڈ قائم ہو جس سے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے سوا باقی تمام فل ممبران کو سالانہ طور پر امداد دی جائے گی تاکہ وہاں پر ٹیسٹ کرکٹ میں مزید بہتری آئے، ایسوسی ایٹ ممبران کو بھی زیادہ حصہ دیا جائے گا، باہمی طور پر طے پانے والے فیوچر ٹور پروگرام کو قانونی حیثیت اور بینک گارنٹی حاصل ہوگی، یہ معاہدے آئی سی سی کے کمرشل حقوق کی مدت 2015 سے 2023 تک کے لیے ہوں گے۔ اس بات کو تسلیم کیا گیاکہ کونسل میں ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے، جس میں بڑے ممبران شریک اور بی سی سی آئی کو قیادت کی ذمہ داری میں مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
آئی سی سی ایونٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے فل ممبران کو مختلف ادائیگیوں پر غور کی بھی ضرورت ہے۔ ایگزیکٹیو کمیٹی کی تشکیل اور فنانشل اینڈکمرشل افیئر کمیٹی کو آپریشنل لیول پر قیادت فراہم کرتے ہوئے اس میں بی سی سی آئی، سی اے اور انگلینڈ اینڈ ویلز سمیت پانچ ممبران شامل کیے جائیںگے، آئی سی سی بورڈ میں سے کوئی بھی چیئرمین بن سکتا ہے، اسی طرح نئی ایگزیکٹیو کمیٹی اور فنانشل کمیٹی میں شامل ممبران میں سے کوئی چیئرمین منتخب ہوسکتا ہے، چونکہ آئی سی سی تبدیلی کے مرحلے سے گزررہی،اس میں نیا گورننس اسٹرکچر لایا جارہا اور میڈیا رائٹس فروخت ہونے ہیں اس لیے نئی قیادت جون 2014 سے2 برس کے لیے ہوگی، بی سی سی آئی کا نمائندہ آئی سی سی بورڈ کا چیئرمین ہوگا، کرکٹ آسٹریلیا کا نمائندہ ایگزیکٹیو کمیٹی اور انگلش بورڈ کا نمائندہ فنانشل کمیٹی کا چیئرمین بنے گا۔ ایک نئی کمپنی تشکیل دی جائے گی جو آئی سی سی کے نئے ایونٹس کے نشریاتی اور اسپانسر شپ حقوق کیلیے ٹینڈر جاری کرے گی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی جگہ پھر سے چیمپئنز ٹرافی ہی لے گی۔