سینئر و جہاندیدہ سیاستدان سردار عطاء اللہ مینگل انتقال کرگئے
انھیں دل کا عارضہ لاحق تھا اور وہ گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
انھیں دل کا عارضہ لاحق تھا اور وہ گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ فوٹو : فائل
بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ اور سینئر سیاسی رہنما سردار عطاء اللہ مینگل93 برس کی عمر میں انتقال کرگئے، انھیں دل کا عارضہ لاحق تھا اور وہ گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے، ان کی رحلت سے ملکی سیاست کا ایک شاندار باب اپنے اختتام کو پہنچا، وہ بلوچستانی سیاست کے بہت بڑے راز داں تھے اور علم و دانش ، سیاسی بصیرت ، تاریخ کے گہرے شعور اور علاقائی صورتحال سے کماحقہ واقفیت رکھتے تھے۔
ان سے اختلاف رائے کیا جاسکتا تھا لیکن ان کے انداز سیاست اور سیاسی معاملات پر گفتگوکا ہنر ان کی شخصیت کی انفرادیت تھی۔ وہ شائستگی متانت اور شرافت کی میراث دے کر رخصت ہوئے، عطااللّٰہ مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اختر مینگل کے والد تھے۔ سردار عطااللہ خان مینگل 1929 میں بلوچستان کے شہر وڈھ میں سردار رسول بخش مینگل کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔
وہ یکم مئی 1972 سے 13 فروری 1973 تک بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ رہے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب 1973 میں بلوچستان میں گورنر راج لگا کر ان کی حکومت ختم کر دی اور بلوچستان میں آپریشن کیا تو اس کے خلاف سردار عطااللہ مینگل نے مزاحمت کی اور اسی بنیاد پر انھیں کئی سال تک جیل میں رکھا گیا۔
بعد ازاں انھوں نے کئی سال تک لندن میں جلاوطنی اختیار کی اور 1990کی دہائی میں جلاوطنی ختم کر کے واپس وطن آئے، جس کے بعد بلوچستان اور ملکی سطح پر سیاست میں دوبارہ فعال کردار ادا کیا۔
6 دسمبر 1996 کو بلوچستان کے تمام قوم پرست جماعتوں پر مشتمل بلوچستان نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی اور1997 کے انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے صوبے میں اکثریت حاصل کی۔ سردار عطااللہ مینگل کے بیٹے اختر جان مینگل22 فروری 1997کو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے، اور 19 ماہ تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے۔
مرکزی حکومت کے ساتھ اختلافات کے بعد جولائی 1998 میں اختر جان مینگل نے استعفیٰ دے دیا۔ سردار عطااللہ مینگل 2006 میں ضعیف العمری کے باعث عملی سیاست میں غیر متحرک ہوگئے، بلوچ سیاست انھیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ان سے اختلاف رائے کیا جاسکتا تھا لیکن ان کے انداز سیاست اور سیاسی معاملات پر گفتگوکا ہنر ان کی شخصیت کی انفرادیت تھی۔ وہ شائستگی متانت اور شرافت کی میراث دے کر رخصت ہوئے، عطااللّٰہ مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اختر مینگل کے والد تھے۔ سردار عطااللہ خان مینگل 1929 میں بلوچستان کے شہر وڈھ میں سردار رسول بخش مینگل کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔
وہ یکم مئی 1972 سے 13 فروری 1973 تک بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ رہے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب 1973 میں بلوچستان میں گورنر راج لگا کر ان کی حکومت ختم کر دی اور بلوچستان میں آپریشن کیا تو اس کے خلاف سردار عطااللہ مینگل نے مزاحمت کی اور اسی بنیاد پر انھیں کئی سال تک جیل میں رکھا گیا۔
بعد ازاں انھوں نے کئی سال تک لندن میں جلاوطنی اختیار کی اور 1990کی دہائی میں جلاوطنی ختم کر کے واپس وطن آئے، جس کے بعد بلوچستان اور ملکی سطح پر سیاست میں دوبارہ فعال کردار ادا کیا۔
6 دسمبر 1996 کو بلوچستان کے تمام قوم پرست جماعتوں پر مشتمل بلوچستان نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی اور1997 کے انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے صوبے میں اکثریت حاصل کی۔ سردار عطااللہ مینگل کے بیٹے اختر جان مینگل22 فروری 1997کو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے، اور 19 ماہ تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے۔
مرکزی حکومت کے ساتھ اختلافات کے بعد جولائی 1998 میں اختر جان مینگل نے استعفیٰ دے دیا۔ سردار عطااللہ مینگل 2006 میں ضعیف العمری کے باعث عملی سیاست میں غیر متحرک ہوگئے، بلوچ سیاست انھیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔