تعلیمی بورڈ میں غیر اعلانیہ طور پر افسران کی تعیناتی روک دی گئی
حکومت سندھ نے 2 کلیدی عہدوں پر تقرری کیلیے ٹیسٹ اورانٹرویو کے بعد تقرری کی حتمی فہرست سرد خانےکی نذر کردی
حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں تقرری کے لیے سیاسی دبائو پر تعیناتی روکی گئی ہے،ذرائع،دیگر تعلیمی بورڈزمیں بھی منتخب امیدواروںکا تقرر نہ ہوسکا فوٹو: فائل
سندھ کے تعلیمی بورڈز میں اہم عہدوں پر تعیناتی کا عمل غیراعلانیہ طور پرروک دیاگیا ہے اور20 روز قبل تعلیمی بورڈز میں2 کلیدی عہدوں پر تقرری کے سلسلے میں لیے گئے ٹیسٹ اورانٹرویو کے بعد حتمی فہرست میں شامل افرادکی تقرریوں کی سمری سرد خانے کی نذرکردی گئی ہے۔
11جنوری کو حکومت سندھ کی جانب سے صوبے کے تعلیمی بورڈز میں آڈٹ افسر اور انسپکٹرکالجز کی اسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ اور بعدازاں انٹرویو لیے گئے تھے جس کے بعد انٹرویو پینل نے2 عہدوں کے لیے 6 موزوں افسران کے نام منتخب کرکے ان کی تقرری کی سمری حکومت کو بھجوائی تھی ان افسران میں آڈٹ افسرکی اسامی کے لیے غلام اکبرسیہتو،ظہیر الدین اورمحمد حسن جبکہ انسپکٹرکالجز کی اسامی کے لیے رجب علی ،علی جبارعباسی اور ساجدہ سلیم کے نام منتخب کیے گئے، ساجدہ سلیم اس سے قبل بھی اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں متعلقہ عہدے پر فائز تھیں، واضح رہے کہ اس انٹرویو پینل میں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین فصیح الدین خان کے علاوہ سندھ کے دیگر تعلیمی بورڈزکے چیئرمین پروفیسرانواراحمد زئی،عبدالعلیم خانزادہ، مجتبیٰ شاہ، صوبائی محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل سیکریٹری اور ایس اینڈ جی اے ڈی کے نمائندے کے علاوہ سندھ کے تعلیمی بورڈزکے سیکریٹری ریاض میمن شامل تھے۔
میٹرک بورڈکے چیئرمین اجلاس کی اطلاع نہ ملنے پر نہیں آئے تھے 11 جنوری کی صبح 33 سرکاری افسران کے تحریری ٹیسٹ لیے گئے تھے تاہم ٹیسٹ کے عمل سے تعلیمی بورڈزکے ملازمین اورعام افرادکو علیحدہ کردیا گیا تھا بھرتی کے اس طویل عمل کے بعد پینل کی جانب سے منتخب امیدواروں کے ناموں پر مشتمل سمری حکومت سندھ کوبھجوائی گئی جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں متعلقہ اسامی پر بھرتی کے لیے آنے والے شدید سیاسی دبائو کے باعث بھرتی کاعمل روک دیاگیا ہے اوردیگرتعلیمی بورڈزمیں بھی منتخب امیدواروں کا تقرر نہیں ہوپارہا ہے۔
11جنوری کو حکومت سندھ کی جانب سے صوبے کے تعلیمی بورڈز میں آڈٹ افسر اور انسپکٹرکالجز کی اسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ اور بعدازاں انٹرویو لیے گئے تھے جس کے بعد انٹرویو پینل نے2 عہدوں کے لیے 6 موزوں افسران کے نام منتخب کرکے ان کی تقرری کی سمری حکومت کو بھجوائی تھی ان افسران میں آڈٹ افسرکی اسامی کے لیے غلام اکبرسیہتو،ظہیر الدین اورمحمد حسن جبکہ انسپکٹرکالجز کی اسامی کے لیے رجب علی ،علی جبارعباسی اور ساجدہ سلیم کے نام منتخب کیے گئے، ساجدہ سلیم اس سے قبل بھی اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں متعلقہ عہدے پر فائز تھیں، واضح رہے کہ اس انٹرویو پینل میں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین فصیح الدین خان کے علاوہ سندھ کے دیگر تعلیمی بورڈزکے چیئرمین پروفیسرانواراحمد زئی،عبدالعلیم خانزادہ، مجتبیٰ شاہ، صوبائی محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل سیکریٹری اور ایس اینڈ جی اے ڈی کے نمائندے کے علاوہ سندھ کے تعلیمی بورڈزکے سیکریٹری ریاض میمن شامل تھے۔
میٹرک بورڈکے چیئرمین اجلاس کی اطلاع نہ ملنے پر نہیں آئے تھے 11 جنوری کی صبح 33 سرکاری افسران کے تحریری ٹیسٹ لیے گئے تھے تاہم ٹیسٹ کے عمل سے تعلیمی بورڈزکے ملازمین اورعام افرادکو علیحدہ کردیا گیا تھا بھرتی کے اس طویل عمل کے بعد پینل کی جانب سے منتخب امیدواروں کے ناموں پر مشتمل سمری حکومت سندھ کوبھجوائی گئی جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں متعلقہ اسامی پر بھرتی کے لیے آنے والے شدید سیاسی دبائو کے باعث بھرتی کاعمل روک دیاگیا ہے اوردیگرتعلیمی بورڈزمیں بھی منتخب امیدواروں کا تقرر نہیں ہوپارہا ہے۔