مشرف اور افتخار چوہدری کے اخٹلافات2007ء میں شروع ہر چکے تھے شریف الدین پیرزادہ

صاف گوئی قابل تعریف ہے،مشرف نے سمجھاہوگا اس بار بھی توثیق ہوجائیگی،سپریم کورٹ

3جج متعصب تھے،مشرف وافتخارچوہدری میں دشمنی تھی،پیرزادہ،3جج دیگرپرکیسے اثراندازہوسکتے ہیں؟ جسٹس ثاقب،آج فیصلے کاامکان فوٹو: فائل

پی سی او کو غیرآئینی قرار دینے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے عدلیہ کے تعصب کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مارچ2007ء میں اس کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجا تھا اس وقت سے دونوں بڑوں کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے تھے اور31 جولائی کا فیصلہ اسی تعصب کی عکاسی کرتا ہے ۔

اس پر چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے کو اس وقت کے چیف جسٹس کے سامنے اٹھایا گیا؟ اس پر شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اس معاملے کو اٹھایا گیا تھا جس کی تمام بینچ تردید کی اور کہا کہ ایسی کوئی چیز ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔ بی بی سی کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں ججوں کے متعصب ہونے کا معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اٹھایا گیا جبکہ پرویز مشرف کے مقدمے میں ایسا نہیں ہے۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق اس موقف پر فاضل ججوں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا آپ نے تو کیس ہی حل کر دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں14رکنی لارجربینچ نے درخواست کی سماعت کی، مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے اعتراف کیاکہ پرویز مشرف نے ایمرجنسی اکیلے لگائی لیکن یہ اقدام انھوں نے بحیثیت آرمی چیف کیا، ان کااقدام غیرآئینی تھا،وزیر اعظم نے انھیں سیکیورٹی صورتحال کاخاکہ پیش کیاکہ کچھ جج خودکواحتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، اقدام صرف عدلیہ کی حدتک تھا، باقی ملک آئین کے تحت چل رہا تھا۔بی بی سی کے مطابق ابراہیم ستّی نے کہاکہ مشرف نے ایمرجنسی اپنے صوابدیدی اختیارکے تحت لگائی، اس موقف پرعدالت نے فاضل وکیل کا شکریہ ادا کیا، جسٹس ناصرالملک نے کہا آپ نے تو کیس ہی حل کر دیا ۔


کیونکہ غداری مقدمہ بھی ایک ہی شخص پرویزمشرف کیخلاف بنایا گیا، آپ کی صاف گوئی قابل تحسین ہے۔ جسٹس جواد نے کہاکہ آپ نے تو معاملہ کلیئر کردیا، اب بتائیں آئین کاکونسا آرٹیکل آرمی چیف کوایمرجنسی لگانے کی اجازت دیتا ہے،ابراہیم ستی نے کہا آئین آرمی چیف کو ایمرجنسی لگانے کی اجازت نہیں دیتا، یہ اختیار عدالتوں نے دیا، جسٹس جواد نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ کا جواب آ گیا ،آپ نے کہا کہ مشرف نے آئین کے تحت ایمرجنسی لگائی، ہم نے ابہام دور کرنے کیلیے سوال کیا۔ابراہیم ستی نے کہا کہ اس سے پہلے بھی4 مرتبہ آئین سے انحراف ہوا اور ہر بار سپریم کورٹ نے اس کو قانونی حیثیت دی۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ شاید اس بار بھی مشرف نے فرض کر لیا کہ توثیق ہوجائے گی مگر نہیں ہوئی، جسٹس سرمد عثمانی نے کہا یا شاید یہ ان کی عادت بن چکی تھی، اس پر ابراہیم ستی نے کہا کہ ٹکا اقبال کیس میں توثیق ہوئی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا اگر ٹکا اقبال کیس میں توثیق نہ ہوئی ہوتی تو پھر غداری کا مقدمہ بنتا؟ ابراہیم ستی نے کہا کہ ماضی میں کسی کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی، جسٹس اعجاز چوہدری نے کہا آپ چاہتے ہیں یہ روایت چلتی رہے اور کسی کیخلاف کارروائی نہ ہو۔ جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ ججوں پر الزام لگا کہ وہ دہشت گردوں کو چھوڑ رہے ہیں لیکن پی سی او کا حلف اٹھانے کیلیے ان ججوں کو بلایا گیا جنھوں نے بقول ان کے دہشت گرد چھوڑے تھے۔ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ مشرف کیخلاف سندھ ہائیکورٹ کی آبزرویشن کو سپریم کورٹ نے غیر موثر کردیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ درست حقائق نہیں بتارہے۔

عدالت نے ایسی کوئی آبزرویشن نہیں دی۔ جسٹس جوادخواجہ نے کہا کہ ہم نے تو فیصلہ میں کچھ لکھا ہی نہیں، وفاق کے جواب کے بعد معاملہ نمٹا دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی بھی یہی استدعا تھی اورآپ مطمئن بھی تھے۔ جسٹس اعجاز چوہدری نے پوچھا شوکت عزیز نے خط صدر کو لکھا، ایمرجنسی کس نے لگائی، جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات پر وزیراعظم ایڈوائس کرتا ہے، خط میں ایڈوائس نہیں کی گئی۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئین کے تحت ایڈوائس صدر کو ہو سکتی ہے، آرمی چیف کو نہیں، ابراہیم ستی نے کہا صورتحال مخدوش تھی تو معاملہ صدر پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، 7رکنی بینچ نے3 نومبر کو فیصلہ دیا، جسٹس بھگوان داس نے5 نومبر کو دستخط کیے، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سوا 6 بجے خود فون کرکے جسٹس بھگوان داس نے بتایا کہ ہم نے یہ فیصلہ دیا ہے، میں اس کا گواہ ہوں، جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ میں خود بنچ کا حصہ تھا، جسٹس بھگوان داس نے میرے سامنے دستخط کیے، آپ کی معلومات غلط ہیں۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ خصوصی عدالت میں آپ کے خلاف کارروائی ایمرجنسی لگانے پر ہو رہی ہے، ہمارا اس سے تعلق نہیں، ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ مشرف اکیلے ذمے دار نہیں، جسٹس کھوسہ نے کہاکہ مدعی وفاقی حکومت ہے، یہ اکیلے اکیلے کی بات نہیں، مدعی کو کیسے کہہ دیں فلاں کو ملزم بنائیں، فلاں کو نہیں۔

ابراہیم ستی نے کہا کہ حکومت بادشاہ نہیں کہ امتیازی سلوک کرے۔ جسٹس ناصر الملک نے کہاکہ آپ ٹرائل میں خود پر لگے الزامات کا دفاع کریں ،چیف جسٹس نے کہاکہ ریاستی ڈھانچے میں ہر ادارے کا اپنا کردار ہے لیکن کوئی ادارہ اپنا کام نہ کرے توعدالت کو مداخلت کا اختیارہے۔شریف الدین پیرزادہ نے دلائل دیے کہ 3جج جسٹس غلام ربانی،جسٹس طارق پرویز اور چیف جسٹس افتخار چوہدری متعصب تھے،پرویز مشرف اور افتخار چوہدری کے مابین ریفرنس کے باعث دشمنی تھی، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اگر لارجر بینچ میں ایک جج پرتعصب کا الزام ہو تو فیصلہ متاثر نہیں ہوسکتا، جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھاکہ فیصلہ14 رکنی بینچ نے دیا، ایک جج نکال بھی دیں تو باقی13 رہ جاتے ہیں، جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ مشرف کو ججوں پر اعتراض تھا تو کیوں نہیں اٹھایا، جانبداری کے ثبوت ہیں تو پیش کریں، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 3 جج باقی ججز پر کیسے اثرانداز ہو سکتے ہیں، جسٹس کھوسہ نے کہا آپ جو بات کررہے ہیں وہ دور تک جائے گی۔ بی بی سی کے مطابق شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ مارچ 2007 میں ریفرنس آنے کے بعد مشرف اور افتخارچوہدری میں اختلافات شروع ہو گئے تھے اور 31 جولائی کا فیصلہ اسی تعصب کی عکاسی کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے کو افتخارچوہدری کے سامنے اْٹھایا گیا؟ پیرزادہ نے کہا کہ معاملہ اْٹھایا گیا تاہم ججز نے اس کی تردید کی اور کہا کہ ایسی کوئی چیز ریکارڈ پر موجود نہیں۔ جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں۔ عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کردی ۔ درخواست پر آج فیصلہ سْنائے جانے کاامکان ہے۔
Load Next Story