ذوالفقار بھٹو بینظیر بھٹو نے کراچی کو ریکارڈ ترقی دی شرجیل میمن

صرف سندھ حکومت دہشتگردوں سے لڑرہی ہے،آپریشن جاری رہیگا،میڈیاسے گفتگو

کراچی:صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن ملیر میں فلائی اوور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد دعا کررہے ہیں ۔ فوٹو: ایکسپریس

سندھ کے وزیربلدیات واطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کاموں کا آغازشہید ذوالفقارعلی بھٹوکے دورسے ہوااور شہیدمحترمہ بینظیربھٹو کے دورمیں کراچی میںریکارڈ ترقیاتی کام کرائے گئے۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کی خصوصی ہدایات اور وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی مہربانی سے اس میگاسٹی میں مزیدترقیاتی کاموں کاآغاز کردیا گیاہے۔1ارب روپے کی لاگت سے ملیر15 میں شہید عبداللہ مرادبرج اور ملیرہالٹ پرایک سال کے اندر 2پل تعمیر کرلیے جائیںگے۔ تمام تر مشکلات کے باوجودکراچی میں ٹارگٹڈآپریشن کومزید تیز کریںگے۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے بدھ کو ملیر15 اورملیرہالٹ میں 2پلوں کی تختی کی نقاب کشائی اور بعدازاں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیرنے پل کی تعمیرکو ایک سال کی بجائے 6 سے8 ماہ کے اندرمکمل کرنے اوراس کی تعمیرمیں اعلیٰ معیار کا مٹیریل استعمال کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ دن رات کام جاری رکھاجائے۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کاموں کا آغاز بھی پیپلز پارٹی کے بانی کے دورمیں ہوا۔ آج شارع فیصل سمیت کراچی زیادہ تر اہم شاہراہوں کی تعمیر بھی ان ہی دورمیں ہوئی۔ اس کے بعد شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دورمیں اس شہر میں پل اوراوور ہیڈپلوں کی تعمیر کاسلسلہ شروع ہوا۔


آج بھی کئی ترقی یافتہ ممالک ایسے ہیں جہاں کراچی جیسی بڑی اور اہم شاہراہیں نہیں ہیں۔ انھوںنے کہا کہ موجودہ حکومت بھی اپنے شہید قائد اور شہید چیئرپرسن کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ ہم نے گذشتہ5 سال کے دوران بھی کئی ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرایا اور اب بھی ایس3، کے4، سرکلرریلوے سمیت کئی منصوبوں پرکام جاری ہے۔ جبکہ ملیرمیں1ارب روپے کی لاگت سے 2پلوں کی تعمیر کا آغاز کیے جانے کے بعد آج اس کی تختی کی نقاب کشائی کی جا رہی ہے۔ ہم کراچی کو مثالی اور روشنیوں کا شہر بنائیں گے۔ میڈیا کے سوالوں کے جواب میں صوبائی وزیرنے کہاکہ لیاری ایکسپریس وے کے بقیہ5 سے6 کلومیٹر کے رقبے پر تجاوزات کاخاتمہ اور اس کے متاثرین کو متبادل زمین اور رقم فراہم کردی جائے گی۔ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے سوال پرصوبائی وزیرنے کہاکہ آج بھی بزدل دہشت گردوںنے فورسزاور عوام کونشانہ بنایاجس کی ہم بھرپورمذمت کرتے ہیں۔ دہشت گردسمجھتے ہیں کہ وہ اس آپریشن کو روک لیںگے تویہ ان کی بھول ہے۔

سندھ حکومت، ہماری فورسزکے حوصلے بلند ہیں۔ دہشت گردی ملک بھرمیں جاری ہے تاہم صرف سندھ حکومت دہشت گردوں کیخلاف لڑرہی ہے۔ وفاقی اوردیگر صوبائی حکومتیںتو ان سے مذاکرات کا راگ الاپ رہی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ دہشت گردصحافیوں، فورسز، مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اوراسکولوں پرحملے کررہے ہیں تاہم اس کے باوجودسندھ حکومت کے سواتمام حکومتیںخاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی25 سے30 برس سے ہورہی ہے۔ اسے چند ماہ میںختم نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم سندھ حکومت اورفورسز کے جوانوں نے ٹارگٹڈآپریشن کے ذریعے ان کے نیٹ ورک کو توڑاہے۔ فورسزپر حملے اسی کا ردعمل ہیں۔تمام صوبائی محکموںمیں ملازمین کی اسکریننگ شروع کردی گئی ہے۔ اگر کوئی سرکاری ملازم ملوث ہواتو اس کومنطقی انجام تک پہنچایاجائیگا۔ اس موقع پرانھوں نے ملیرپریس کلب کاجلد دورہ کرنے اوروہاں کے صحافیوں کو بھی پلاٹس اورزمین دینے کااعلان کیاجبکہ نیشنل ہائی وے پرٹریفک کی روانی کوبرقرار رکھنے کیلیے وہاںفوری طورپر بس اورٹرک اسٹینڈبنانے کی ہدایات دیں۔
Load Next Story