ایک اور مختاراں مائی کیس بیٹی سے تعلقات کا بدلہ پنچایتی فیصلے پر 40 سالہ بیوہ سے زیادتی کا الزام
دائرہ دین پناہ میں متاثرہ خاتون کےبھائی اجمل کےایک لڑکی سےتعلقات تھے،ملنےگیاتوباپ،بیٹوں اوربھائیوں نےپکڑ کر باندھ لیا
عزت کے بدلے عزت کے فیصلے پر5 افرادنے زیادتی کی، پنچایت باہربیٹھی رہی، خاتون کوبرہنہ باہرنکال دیا، پولیس کا اظہارلاعلمی. فوٹو: فائل
بیٹی سے تعلقات کا بدلہ لینے کیلیے باپ پر اپنے 2 بیٹوں اور 2 بھائیوں سمیت نوجوان کی 40 سالہ بیوہ بہن سے پنچایتی فیصلے کی روشنی میں زیادتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ خاتون کوبرہنہ حالت میں دھکے دے کرگھر سے باہر نکال دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق چاہ راڈی والا کے بعض رہائشیوں نے مقامی صحافیوں کونام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی نوجوان اجمل عرف اجی چنڑکا رحیم بخش کے گھرآنا جانا تھا جہاں مبینہ طور پراس کی 20 سالہ شادی شدہ بیٹی سے اس کے تعلقات قائم ہوگئے۔ 3 روز قبل وہ رحیم بخش کے گھرآیا تو مبینہ طور پر رحیم بخش اور اس کے بیٹوں یاسین، محمد امین، بھائیوں فیض اورکریم بخش نے اجی چنڑکوپکڑکر باندھ دیا اور کمرے میں بندکردیا بعدازاں برادری کی پنچایت بلا لی۔
بتایا جاتا ہے کہ پنچایت میں 40 افراد شریک تھے، ثالث محمد نوازچنڑ کو مقرر کیا گیا جس نے مبینہ طور پر عزت کے بدلے عزت کا فیصلہ سنایا، فیصلے کی روشنی میں لڑکے کی 40 سالہ بیوہ بہن کو زبردستی گھر سے لاکر ایک کمرے میں بندکردیا اور اسے مبینہ طور پر لڑکی کے باپ نے اپنے 2 بیٹوں اور 2 بھائیوں سمیت باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا، اس دوران پنچایت باہربیٹھی رہی، بعد ازاں اسے برہنہ حالت میں دھکے دے کرکمرے سے باہرنکال دیا، خاتون کی چیخ و پکار سن کر علاقے کے ایک شخص سعید منشی نے اپنی چادرخاتون پر ڈال دی۔ بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ خاندان کو دھمکی دی گئی کہ انھوں نے منہ کھولا توجان سے ماردیا جائیگا، صحافیوں نے پولیس تھانہ دائرہ دین پناہ سے رابطہ کیا تومحرراللہ دتہ نے بتایا کہ انھیں واقعے کا علم ہے نہ کسی نے کارروائی کیلیے کوئی درخواست دی، جبکہ ایس ایچ اوسے فون پر رابطہ کیا گیا توانھوں نے اٹینڈ نہیں کیا۔
تفصیلات کے مطابق چاہ راڈی والا کے بعض رہائشیوں نے مقامی صحافیوں کونام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی نوجوان اجمل عرف اجی چنڑکا رحیم بخش کے گھرآنا جانا تھا جہاں مبینہ طور پراس کی 20 سالہ شادی شدہ بیٹی سے اس کے تعلقات قائم ہوگئے۔ 3 روز قبل وہ رحیم بخش کے گھرآیا تو مبینہ طور پر رحیم بخش اور اس کے بیٹوں یاسین، محمد امین، بھائیوں فیض اورکریم بخش نے اجی چنڑکوپکڑکر باندھ دیا اور کمرے میں بندکردیا بعدازاں برادری کی پنچایت بلا لی۔
بتایا جاتا ہے کہ پنچایت میں 40 افراد شریک تھے، ثالث محمد نوازچنڑ کو مقرر کیا گیا جس نے مبینہ طور پر عزت کے بدلے عزت کا فیصلہ سنایا، فیصلے کی روشنی میں لڑکے کی 40 سالہ بیوہ بہن کو زبردستی گھر سے لاکر ایک کمرے میں بندکردیا اور اسے مبینہ طور پر لڑکی کے باپ نے اپنے 2 بیٹوں اور 2 بھائیوں سمیت باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا، اس دوران پنچایت باہربیٹھی رہی، بعد ازاں اسے برہنہ حالت میں دھکے دے کرکمرے سے باہرنکال دیا، خاتون کی چیخ و پکار سن کر علاقے کے ایک شخص سعید منشی نے اپنی چادرخاتون پر ڈال دی۔ بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ خاندان کو دھمکی دی گئی کہ انھوں نے منہ کھولا توجان سے ماردیا جائیگا، صحافیوں نے پولیس تھانہ دائرہ دین پناہ سے رابطہ کیا تومحرراللہ دتہ نے بتایا کہ انھیں واقعے کا علم ہے نہ کسی نے کارروائی کیلیے کوئی درخواست دی، جبکہ ایس ایچ اوسے فون پر رابطہ کیا گیا توانھوں نے اٹینڈ نہیں کیا۔