امریکا کے خلاف نفرت بڑھنے پر ڈرون حملے کم کردیے باراک اوباما

متاثرہ ملکوں میں مخالفت بڑھی تو امریکا بھی محفوظ نہیں رہے گا،12سال سے جاری افغان جنگ ختم کر رہے ہیں،امریکی صدر

القاعدہ کا خاتمہ کردیا مگر اس کے چھوٹے گروپ جڑیں پکڑ رہے ہیں، امریکی صدر کا اسٹیٹ آف یونین خطاب۔فوٹو:اے ایف پی

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا کیخلاف نفرت بڑھنے کے پیش نظر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرون حملے کم کر دیے ہیں، متاثرہ ملکوں میں ڈرون کی مخالفت بڑھی تو امریکا بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

افغانستان میں گزشتہ 12سال سے جاری جنگ ختم ہونے جا رہی ہے، القاعدہ کو شکست ہو چکی لیکن خطرہ ختم نہیں ہوا، ہمارا عزم ہے کہ آئندہ کوئی دہشت گرد ہمارے ملک پر حملہ نہ کر سکے، امریکا کے مفاد میں آپریشن سے نہیں ہچکچائوں گا لیکن انتہائی ضرورت کے بغیر فوج بھیجنے کیخلاف ہوں، ایران نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جوہری بم نہیں بنائے گا، ایران کیخلاف نئی پابندیوں کا بل پیش کیا گیا تو ویٹو کروں گا لیکن اگر ایران نے موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو اس پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔ واشنگٹن میں سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ رواں سال افغانستان میں فوجی مشن پورا ہونے کے ساتھ امریکا کی طویل جنگ ختم ہو جائے گی، افغانستان میں سیکیورٹی کی ذمے داریاں افغان فورسز نے سنبھال لی ہیں، امریکی فوج اب صرف افغان فورسز کی مدد کر رہی ہے۔


اپنے اتحادیوں کی صلاحیتیں بڑھا کر امریکا کو مسلسل حالت جنگ سے نکلنا ہو گا، اسی لیے انھوں نے ڈرون طیاروں کے استعمال کو دانشمندی سے محدود کر دیا ہے کیونکہ ان ممالک میں اگر عوام یہ سمجھتے رہے کہ امریکا ان کی سرزمین پر بنا سوچے سمجھے حملے کر رہا ہے تو امریکا بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ کی ذیلی تنظیموں اور دیگر شدت پسندوں نے مختلف ملکوں میں جڑیں پکڑ لی ہیں جن کا نیٹ ورک توڑنے کیلیے اتحادیوں کے ساتھ ملکر کام جاری رکھنا پڑے گا۔ دوسرے ملکوں میں بڑے پیمانے پر فوج بھیجنے سے امریکہ کی مضبوطی کم ہوتی ہے اور شدت پسندی بڑھتی ہے۔ اوباما نے کہا کہ کانگریس قیدیوں کی منتقلی پر پابندیاں ختم کرے تو ہم گوانتاموبے جیل کو بند کر دیں گے۔

ہم صرف انٹیلی جنس اور فوجی کارروائی کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں آئینی نظریات پر بھی کاربند ہونا ہو گا اور دنیا کے سامنے مثال بننا ہو گا۔ اوباما نے کہا کہ عراق سے تمام امریکی فوجی جبکہ افغانستان سے 60ہزار سے زائد امریکی فوجی واپس آگئے ہیں۔ عراق، صومالیہ، مالی اور دیگر ملکوں میں انتہاپسندی کیخلاف کام کرنا ہو گا۔ اوباما نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر معاشی عدم مساوات کو ختم کرنے کیلیے انہیں منقسم کانگریس کو نظرانداز کرنا پڑا تو وہ کریں گے۔ انھوں نے قانون سازی کے بغیر بھی ہرممکن اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔ انھوں نے ایک ایگزیکٹو حکم جاری کیا جس میں وفاقی کنٹریکٹ کے تحت کام کرنے والے افراد کو فی گھنٹہ کم سے کم 10' 10ڈالر ملیں گے۔
Load Next Story