محکمہ کسٹمزائیر فریٹ یونٹ کراچی سے ڈھائی کروڑ کے موبائل فون چوری
کسٹمز افسران نے ضبط شدہ موبائل فونز کو محکمہ کسٹمز کے ایئرفریٹ یونٹ میں قائم ’’سب گریل‘‘ میں جمع کرادیا تھا.
کراچی ایئرپورٹ پرتعینات عملے نے6ماہ قبل ضبط کیے تھے،مسافرنے عدالت سے رجوع کرلیا،فیصلہ آنے پرڈیوٹی جمع کرادی مگرموبائل کے بجائے ڈبے ہی مل سکے۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
محکمہ کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ کراچی سے ڈھائی کروڑ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون چوری ہونے کا انکشاف ہواہے۔
ذرائع نے''ایکسپریس'' کو بتایاکہ کراچی ایئرپورٹ پرتعینات محکمہ کسٹمز کے عملے نے 6 ماہ قبل مسافرکے ذاتی سامان میں لائے گئے برانڈڈموبائل فونز ضبط کیے گئے تھے کیونکہ پرسنل بیگیج کے تحت تجارتی بنیادوں پرموبائل فونز کی ایک بڑی مقدار ملک میں لانے کی اجازت نہیں ہے، کسٹمز افسران نے ضبط شدہ موبائل فونز کو محکمہ کسٹمز کے ایئرفریٹ یونٹ میں قائم ''سب گریل'' میں جمع کرادیا تھا لیکن بعد ازاں سب گریل سے یہ موبائل فونز غائب کردیے گئے۔ ذرائع نے بتایاکہ کسٹمز حکام کی جانب سے موبائل فون ضبط کیے جانے کے بعد متعلقہ مسافر نے عدالت سے رجوع کیا جس پرعدالت کی جانب سے فیصلہ دیا گیاکہ رائج ڈیوٹی وٹیکسوں کی وصولی کے بعد ضبط شدہ موبائل فونز کے کنسائمنٹ کوکلیئرکردیاجائے جس پرمتعلقہ مسافر نے کسٹم ڈیوٹی و ٹیکسزکی ادائیگیاں کیں لیکن تاحال اسے موبائل فونز کی ڈلیوری حاصل نہ ہو سکی۔
کیونکہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ کراچی کے ''سب گریل''میں رکھے گئے ڈھائی کروڑ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون ایئرفریٹ یونٹ پر تعینات عملہ نے چوری کرکے موبائل کے خالی ڈبے وہاں پر چھوڑدیے ہیں جبکہ کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ کی ''سب گریل ''میں ضبط کیے جانے والے فی موبائل کی مالیت 50 ہزار تا 70ہزارروپے بتائی گئی ہے، کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ میں تعینات کسٹمز افسران کی جانب سے موبائل فونزکی گمشدگی سے متعلق کسی قسم کا جواب دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ کراچی کے افسر کا موقف ہے کہ موبائل فونز کی پارٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والا عدالتی فیصلہ مذکورہ کیس سے متعلق نہیں بلکہ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے کسی دوسرے کنسائنمنٹ کی کلیئرنس کے لیے دیاگیاہے جبکہ دوسری جانب بعض دیگرکسٹمزحکام کا کہنا ہے کہ کسٹمز ایئرفریٹ یونٹ کراچی کے '' سب گریل ''میں موبائل فونز کے کچھ خالی ڈبے ضرورملے ہیں اورڈبوں سے غائب ہونے والے موبائل فونز کی تلاش بھی جاری ہے کہ وہ گودام کے کسی اور حصے میں نہ رکھے گئے ہوں۔
محکمہ کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ کراچی سے ڈھائی کروڑ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون چوری ہونے کا انکشاف ہواہے۔
ذرائع نے''ایکسپریس'' کو بتایاکہ کراچی ایئرپورٹ پرتعینات محکمہ کسٹمز کے عملے نے 6 ماہ قبل مسافرکے ذاتی سامان میں لائے گئے برانڈڈموبائل فونز ضبط کیے گئے تھے کیونکہ پرسنل بیگیج کے تحت تجارتی بنیادوں پرموبائل فونز کی ایک بڑی مقدار ملک میں لانے کی اجازت نہیں ہے، کسٹمز افسران نے ضبط شدہ موبائل فونز کو محکمہ کسٹمز کے ایئرفریٹ یونٹ میں قائم ''سب گریل'' میں جمع کرادیا تھا لیکن بعد ازاں سب گریل سے یہ موبائل فونز غائب کردیے گئے۔ ذرائع نے بتایاکہ کسٹمز حکام کی جانب سے موبائل فون ضبط کیے جانے کے بعد متعلقہ مسافر نے عدالت سے رجوع کیا جس پرعدالت کی جانب سے فیصلہ دیا گیاکہ رائج ڈیوٹی وٹیکسوں کی وصولی کے بعد ضبط شدہ موبائل فونز کے کنسائمنٹ کوکلیئرکردیاجائے جس پرمتعلقہ مسافر نے کسٹم ڈیوٹی و ٹیکسزکی ادائیگیاں کیں لیکن تاحال اسے موبائل فونز کی ڈلیوری حاصل نہ ہو سکی۔
کیونکہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ کراچی کے ''سب گریل''میں رکھے گئے ڈھائی کروڑ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون ایئرفریٹ یونٹ پر تعینات عملہ نے چوری کرکے موبائل کے خالی ڈبے وہاں پر چھوڑدیے ہیں جبکہ کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ کی ''سب گریل ''میں ضبط کیے جانے والے فی موبائل کی مالیت 50 ہزار تا 70ہزارروپے بتائی گئی ہے، کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ میں تعینات کسٹمز افسران کی جانب سے موبائل فونزکی گمشدگی سے متعلق کسی قسم کا جواب دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ کراچی کے افسر کا موقف ہے کہ موبائل فونز کی پارٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والا عدالتی فیصلہ مذکورہ کیس سے متعلق نہیں بلکہ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے کسی دوسرے کنسائنمنٹ کی کلیئرنس کے لیے دیاگیاہے جبکہ دوسری جانب بعض دیگرکسٹمزحکام کا کہنا ہے کہ کسٹمز ایئرفریٹ یونٹ کراچی کے '' سب گریل ''میں موبائل فونز کے کچھ خالی ڈبے ضرورملے ہیں اورڈبوں سے غائب ہونے والے موبائل فونز کی تلاش بھی جاری ہے کہ وہ گودام کے کسی اور حصے میں نہ رکھے گئے ہوں۔