کام نکلتے ہی بنگلہ دیش نے پاکستان سے آنکھیں پھیر لیں
نئے باہمی معاہدوں کی یقین دہانی مل گئی، آئی پی ایل میں پلیئرزکی بڑی قیمتیں مقرر
کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے، صرف 2 برس میں تینوں بڑوں سے ٹیسٹ سیریز کھیلیں گے، بھارتی بورڈ بھی اب ہماری میزبانی کرے گا، بورڈ چیف کا دعویٰ۔ فوٹو: فائل
کام نکلتے ہی بنگلہ دیش نے پاکستان سے آنکھیں پھیر لیں، پہلے پی سی بی کے ساتھ مل کر ''بگ تھری'' کو آنکھیں دکھائیں۔
ٹوٹائر ٹیسٹ نظام کی تجویز ختم ہونے پر دوبارہ بھارت سے جا ملا، بڑوں کی حمایت سے اس کی 'لاٹری' بھی نکل آئی، انعام و اکرام کی ہلکی سی جھلک سے ہی آفیشلز ہوائوں میں اڑنے لگے، مستقبل میں نئے باہمی معاہدوں کی یقین دہانی مل گئی، آئی پی ایل میں بھی کھلاڑیوں کی بڑی قیمتیں مقرر کردی گئیں، بورڈ کے صدر نظم الحسن کا کہنا ہے کہ ذکا اشرف کے چھوٹے بورڈز کے بلاک بنانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں، ہم کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے، انتہائی سمجھداری سے اپنا ٹیسٹ اسٹیٹس بھی بچالیااور سب سے زیادہ فائدہ بھی اٹھائیں گے، صرف 2 برس میں تینوں بڑوں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز کھیلیں گے، بھارتی بورڈ بھی اب ہماری میزبانی کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس بار بھی نہایت چالاکی و ہوشیاری سے اپنے مفادات کا تحفظ کرلیا، یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب بی سی بی کے اس وقت کے صدر مصطفیٰ کمال نے پاکستان کو آئی سی سی کا صدر بننے کیلیے ٹیم بھیجنے کی یقین دہانی کرائی اور پھر اپنی نامزدگی پر آنکھیں پھیر لیں، اس بار موجودہ صدر نظم الحسن نے بھی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پہلے پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ بلاک بنایا اور پھراپنا الو سیدھا کرکے اس اتحاد سے الگ ہوگئے، نظم الحسن نے بڑے فخر سے اپنے اس کارنامے کو ڈھاکا میں پریس کانفرنس میں بیان کیا، میڈیا سے خطاب کے دوران بورڈ ڈائریکٹرز اپنے صدر کی کامیابی حکمت عملی پر مسلسل تالیاں بجاتے رہے۔ نظم الحسن نے بتایا کہ انھوں نے بگ تھری کا ساتھ دے کر نہ صرف اپنے ملک کا ٹیسٹ اسٹیٹس بچالیا بلکہ تینوں بڑے ممالک بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ اگلے 2 برس کیلیے ان کی ٹیم سے کھیلنے کے لیے بھی تیار ہوگئے ہیں۔
نظم الحسن نے کہا کہ مجھے تینوں بورڈز کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ اگلے 2برس کے دوران ہمارے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو تیار ہیں، اس سلسلے میں ہمیں اپنی دستیابی کے حوالے سے مناسب وقت بتانے کو کہا گیا ہے، ہم جلد ہی یہ وقت تلاش کرکے انھیں آگاہ کردیں گے، مجھے پورا یقین ہے کہ 8 فروری کی میٹنگ میں تینوں ممالک کے ساتھ مستقبل کی باہمی سیریز کے حوالے سے ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ (ایم پی اے) طے پاجائے گا، اس کو فیوچر ٹور پروگرام سے زیادہ اہمیت حاصل ہوگی،2بورڈز کے قانونی معاہدے میں تیسری پارٹی نشریاتی ادارہ ہوگا، اگر تین ٹیسٹ کی سیریز کو 2تک محدود کیا جائے گا تو نشریاتی ادارے کو کیس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس موقع پر نظم الحسن نے پاکستانی کرکٹ بورڈ کے صدر ذکا اشرف کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور جنوبی افریقہ بورڈ پر مشتمل گروپ بنانے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہہ دیا کہ تمام تجاویز کی متفقہ حمایت کی گئی اس کے بعد اور کسی بات کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی، ہم کسی بھی اتحاد میں نہیں ہیں، میں نے سب پر واضح کردیا تھا کہ اگر میرا مسئلہ حل نہیں ہوگا تو میں کسی کے ساتھ نہیں اور اگر حل ہوگیا تو میں سب کے ساتھ ہوں، میری یہ حکمت عملی کامیاب رہی، ہم نے باقی تینوں کی طرح معاملہ موخر کرنے کو کہا مگر ایک خاص پوائنٹ پر مخالفت بھی کی ، اسی وجہ سے ٹیسٹ ٹیموں کو 2 ڈویژنز میں تقسیم کرنے کی تجویز واپس لی گئی۔ واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے بنگلہ دیش کو خوش کرنے کیلیے اس بار آئی پی ایل میں بھی تھوک کے حساب سے بنگال ٹائیگرز کو شامل کیا گیا، شکیب الحسن کی تو بنیادی قیمت ہی ایک کروڑ روپے مقرر کردی گئی، تمیم اقبال کی بولی 50 لاکھ سے شروع ہوگی، سوہاگ غازی، ناصر حسین، روبیل حسین اور محمود اللہ ریاض کی بنیادی قیمت 30 لاکھ روپے فی کس رکھی گئی ہے۔
ٹوٹائر ٹیسٹ نظام کی تجویز ختم ہونے پر دوبارہ بھارت سے جا ملا، بڑوں کی حمایت سے اس کی 'لاٹری' بھی نکل آئی، انعام و اکرام کی ہلکی سی جھلک سے ہی آفیشلز ہوائوں میں اڑنے لگے، مستقبل میں نئے باہمی معاہدوں کی یقین دہانی مل گئی، آئی پی ایل میں بھی کھلاڑیوں کی بڑی قیمتیں مقرر کردی گئیں، بورڈ کے صدر نظم الحسن کا کہنا ہے کہ ذکا اشرف کے چھوٹے بورڈز کے بلاک بنانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں، ہم کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے، انتہائی سمجھداری سے اپنا ٹیسٹ اسٹیٹس بھی بچالیااور سب سے زیادہ فائدہ بھی اٹھائیں گے، صرف 2 برس میں تینوں بڑوں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز کھیلیں گے، بھارتی بورڈ بھی اب ہماری میزبانی کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس بار بھی نہایت چالاکی و ہوشیاری سے اپنے مفادات کا تحفظ کرلیا، یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب بی سی بی کے اس وقت کے صدر مصطفیٰ کمال نے پاکستان کو آئی سی سی کا صدر بننے کیلیے ٹیم بھیجنے کی یقین دہانی کرائی اور پھر اپنی نامزدگی پر آنکھیں پھیر لیں، اس بار موجودہ صدر نظم الحسن نے بھی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پہلے پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ بلاک بنایا اور پھراپنا الو سیدھا کرکے اس اتحاد سے الگ ہوگئے، نظم الحسن نے بڑے فخر سے اپنے اس کارنامے کو ڈھاکا میں پریس کانفرنس میں بیان کیا، میڈیا سے خطاب کے دوران بورڈ ڈائریکٹرز اپنے صدر کی کامیابی حکمت عملی پر مسلسل تالیاں بجاتے رہے۔ نظم الحسن نے بتایا کہ انھوں نے بگ تھری کا ساتھ دے کر نہ صرف اپنے ملک کا ٹیسٹ اسٹیٹس بچالیا بلکہ تینوں بڑے ممالک بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ اگلے 2 برس کیلیے ان کی ٹیم سے کھیلنے کے لیے بھی تیار ہوگئے ہیں۔
نظم الحسن نے کہا کہ مجھے تینوں بورڈز کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ اگلے 2برس کے دوران ہمارے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو تیار ہیں، اس سلسلے میں ہمیں اپنی دستیابی کے حوالے سے مناسب وقت بتانے کو کہا گیا ہے، ہم جلد ہی یہ وقت تلاش کرکے انھیں آگاہ کردیں گے، مجھے پورا یقین ہے کہ 8 فروری کی میٹنگ میں تینوں ممالک کے ساتھ مستقبل کی باہمی سیریز کے حوالے سے ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ (ایم پی اے) طے پاجائے گا، اس کو فیوچر ٹور پروگرام سے زیادہ اہمیت حاصل ہوگی،2بورڈز کے قانونی معاہدے میں تیسری پارٹی نشریاتی ادارہ ہوگا، اگر تین ٹیسٹ کی سیریز کو 2تک محدود کیا جائے گا تو نشریاتی ادارے کو کیس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس موقع پر نظم الحسن نے پاکستانی کرکٹ بورڈ کے صدر ذکا اشرف کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور جنوبی افریقہ بورڈ پر مشتمل گروپ بنانے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہہ دیا کہ تمام تجاویز کی متفقہ حمایت کی گئی اس کے بعد اور کسی بات کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی، ہم کسی بھی اتحاد میں نہیں ہیں، میں نے سب پر واضح کردیا تھا کہ اگر میرا مسئلہ حل نہیں ہوگا تو میں کسی کے ساتھ نہیں اور اگر حل ہوگیا تو میں سب کے ساتھ ہوں، میری یہ حکمت عملی کامیاب رہی، ہم نے باقی تینوں کی طرح معاملہ موخر کرنے کو کہا مگر ایک خاص پوائنٹ پر مخالفت بھی کی ، اسی وجہ سے ٹیسٹ ٹیموں کو 2 ڈویژنز میں تقسیم کرنے کی تجویز واپس لی گئی۔ واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے بنگلہ دیش کو خوش کرنے کیلیے اس بار آئی پی ایل میں بھی تھوک کے حساب سے بنگال ٹائیگرز کو شامل کیا گیا، شکیب الحسن کی تو بنیادی قیمت ہی ایک کروڑ روپے مقرر کردی گئی، تمیم اقبال کی بولی 50 لاکھ سے شروع ہوگی، سوہاگ غازی، ناصر حسین، روبیل حسین اور محمود اللہ ریاض کی بنیادی قیمت 30 لاکھ روپے فی کس رکھی گئی ہے۔