خوشگوار یادیں اورڈالرزسمیٹ کرواٹمور کی آج واپسی
رخت سفر باندھ لیا، ساتھ کام کرنے والے ملازمین سے الوداعی ملاقاتیں بھی جاری
پی سی بی نے کوچ کے اعزاز میں پُروقار الوداعی تقریب بھی سجائی۔ فوٹو: فائل
خوشگوار یادیں اور ڈھیروں ڈالرز سمیٹ کر قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈیوواٹمور جمعے کی شب وطن واپس روانہ ہوں گے، سابق آسٹریلوی کرکٹر نے رخت سفر باندھ لیا، ساتھ کام کرنے والے ملازمین سے الوداعی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
تفصیلات کے مطابق ٹیم کی ناقص کارکردگی کے سبب ایک سابق آسٹریلوی کرکٹر جیف لاسن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کا موقع نہیں مل سکا، قبل از وقت چھٹی کرائے جانے پر انھوں نے ایک ایک پائی وصول کرنے میں کسی جھجھک کا مظاہرہ نہیں کیا تھا،ڈیو واٹمور اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں اتار چڑھائو کے باوجود انھوں نے اپنے کنٹریکٹ کے2سال پورے کرلیے، سری لنکا سے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں ناقابل یقین فتح کے ساتھ ان کے سفر کا خوشگوار انداز میں اختتام ہوا، پی سی بی نے کوچ کے اعزاز میں پُروقار الوداعی تقریب بھی سجائی، بورڈ کی جانب سے ڈیفنس کے علاقے میں فراہم کی جانے والی رہائش گاہ پر واٹمور نے بھاری دل اور نمناک آنکھوں کے ساتھ اپنے ساتھ کام کرنے والے چھوٹے بڑے ملازمین سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
یاد رہے کہ سابق آسٹریلوی کرکٹر کو ایک ایسے وقت میں کوچ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جب قومی ٹیم نے محسن حسن خان کی رہنمائی میں عالمی نمبر ایک انگلینڈ کو وائٹ واش کیا تھا۔ واٹمور اپنی پہلی آزمائش میں کامیاب رہے، ان کی کوچنگ میں پاکستان کو دوسری بار ایشیا کپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے بعد ون ڈے میں گرین شرٹس کی کارکردگی کسی حد تک بہتر رہی،سب سے بڑی کامیابیاں روایتی حریف بھارت اور جنوبی افریقہ کو ان کی ہی سرزمین پر شکست دینا تھیں، ٹیسٹ کرکٹ میں زمبابوے جیسی کمزور ٹیم سمیت کسی سے بھی سیریز نہ جیتی جاسکی۔ سابق آسٹریلوی کھلاڑی عام طور پر اپنے جارحانہ مزاج اور کوچنگ کے باعث جانے جاتے تھے، ماضی میں اسی بنیاد پر پاکستانی کھلاڑیوں کے ایک بااثر گروہ نے ان کی تعیناتی ناکام بنا دی تھی، لیکن اپنے مزاج کے برخلاف وہ اپنے دوسالہ دور میں جارحانہ انداز اپنانے سے قاصر نظر آئے، دفاعی حکمت عملی کے باعث ٹیم نے کئی بار جیتی بازی ہار کر شائقین کے دل توڑ دیے۔
تفصیلات کے مطابق ٹیم کی ناقص کارکردگی کے سبب ایک سابق آسٹریلوی کرکٹر جیف لاسن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کا موقع نہیں مل سکا، قبل از وقت چھٹی کرائے جانے پر انھوں نے ایک ایک پائی وصول کرنے میں کسی جھجھک کا مظاہرہ نہیں کیا تھا،ڈیو واٹمور اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں اتار چڑھائو کے باوجود انھوں نے اپنے کنٹریکٹ کے2سال پورے کرلیے، سری لنکا سے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں ناقابل یقین فتح کے ساتھ ان کے سفر کا خوشگوار انداز میں اختتام ہوا، پی سی بی نے کوچ کے اعزاز میں پُروقار الوداعی تقریب بھی سجائی، بورڈ کی جانب سے ڈیفنس کے علاقے میں فراہم کی جانے والی رہائش گاہ پر واٹمور نے بھاری دل اور نمناک آنکھوں کے ساتھ اپنے ساتھ کام کرنے والے چھوٹے بڑے ملازمین سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
یاد رہے کہ سابق آسٹریلوی کرکٹر کو ایک ایسے وقت میں کوچ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جب قومی ٹیم نے محسن حسن خان کی رہنمائی میں عالمی نمبر ایک انگلینڈ کو وائٹ واش کیا تھا۔ واٹمور اپنی پہلی آزمائش میں کامیاب رہے، ان کی کوچنگ میں پاکستان کو دوسری بار ایشیا کپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے بعد ون ڈے میں گرین شرٹس کی کارکردگی کسی حد تک بہتر رہی،سب سے بڑی کامیابیاں روایتی حریف بھارت اور جنوبی افریقہ کو ان کی ہی سرزمین پر شکست دینا تھیں، ٹیسٹ کرکٹ میں زمبابوے جیسی کمزور ٹیم سمیت کسی سے بھی سیریز نہ جیتی جاسکی۔ سابق آسٹریلوی کھلاڑی عام طور پر اپنے جارحانہ مزاج اور کوچنگ کے باعث جانے جاتے تھے، ماضی میں اسی بنیاد پر پاکستانی کھلاڑیوں کے ایک بااثر گروہ نے ان کی تعیناتی ناکام بنا دی تھی، لیکن اپنے مزاج کے برخلاف وہ اپنے دوسالہ دور میں جارحانہ انداز اپنانے سے قاصر نظر آئے، دفاعی حکمت عملی کے باعث ٹیم نے کئی بار جیتی بازی ہار کر شائقین کے دل توڑ دیے۔