محسن کے دل میں کوچنگ کی خواہش انگڑائی لینے لگی

ماضی کی رنجشوں کو آگے لے کر چلنے کا فائدہ نہیں،درخواست دینے کو تیار ہوں، سابق کرکٹر

ملک کیلیے بطور کھلاڑی، سلیکٹر یا کوچ سمیت جس حیثیت میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ فوٹو: فائل

محسن خان کے دل میں ایک بار پھر کوچنگ کی خواہش انگڑائی لینے لگی، سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے سابقہ ریکارڈ اور کھلاڑیوں میں جذبہ ابھارنے کی صلاحیت ہونے کے ناتے خود کو اس اہم ذمہ داری کیلیے مضبوط امیدوار سمجھتا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈیواٹمور کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد پی سی بی نے یہ ذمہ داری سنبھالنے کے امیدواروں سے 6فروری تک درخواستیں طلب کر رکھی ہیں،غیر ملکی ویب سائٹ کو ایک انٹرویو میں اس حوالے سے محسن خان نے کہا کہ بہت غور و فکر کے بعد درخواست جمع کرانے کو بھی تیار ہوں،ملک کیلیے بطور کھلاڑی، سلیکٹر یا کوچ سمیت جس حیثیت میں بھی کام کرنے کا موقع ملا، پوری دیانتداری کے ساتھ اپنی صلاحیتوں سے انصاف کرنے کی پوری کوشش کی ۔ انھہوں نے کہا کہ اس وقت کے عالمی نمبر ون انگلینڈ کو کلین سویپ سمیت پاکستان کی کارکردگی ریکارڈ کا حصہ ہے،ایسے کارنامے کھلاڑیوں کے جذبہ سے مزین ٹیم ورک کی بدولت ہی سر انجام دیئے جاسکتے ہیں، ملک کے بہترین کرکٹرز کا بھرپور ساتھ اور اعتماد جیسا قیمتی اثاثہ مجھے حاصل رہا۔




انھوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے میں ٹیم اسپرٹ کی کمی نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا، پورا یقین ہے کہ ایک بار پھر کام کا موقع ملا تو کھلاڑیوں میں جذبہ ابھارنے اور جیت کی بھوک بڑھانے میں کامیاب ہوجائوں گا، محسن خان نے کہا کہ ہمارے کرکٹرز منفرد مزاج کے مالک ہیں، انہیں صلاحیتوں کے مطابق کھیل پیش کرنے کیلیے ذہنی طور پر تیار کرنا آسان کام نہیں، پرفارمنس کیلیے تحریک دلانا پڑتی ہے۔ ماضی میں ٹیم کے عمدہ کارکردگی کے باوجود نظر انداز کرکے ڈیو واٹمور کا تقرر کیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہاکہ اس وقت مجھے مایوسی ضرور ہوئی تھی تاہم ماضی کی رنجشوں کو آگے لے کر چلنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Load Next Story