پی سی او فیصلہ سپریم کورٹ نے مشرف کی نظرثانی درخواست خارج کردی
اپیل زائدالمیعاد اور میرٹ پرنہیں اترتی،مشرف یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ سابق چیف جسٹس کا رویّہ متعصب تھا،لارجر بینچ
مشرف کا جسٹس افتخار سے تنازع تھا، معافی نہیں مانگیں گے، پیرزادہ، اخباری خبریں نہ سنائیں، ریکارڈ لائیں، عدالت، فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
سپریم کورٹ نے پی سی او فیصلے کیخلاف سابق صدر پرویز مشرف کی نظرثانی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس کی سربراہی میں 14 رکنی لارجر بینچ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ اپیل زائد المیعاد ہے۔
دیے گئے دلائل مقدمے سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ کیس میرٹ پر بھی پورا نہیں اترتا۔ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ 31 جولائی کے فیصلے میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا رویّہ متعصب تھا۔ عدالت فیصلے میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ قبل ازیں شریف الدین پیرزادہ نے ججوں کی جانبداری پر دلائل دیے، انھوں نے کہا کہ دونوں میں تنازع تھا، سابق چیف جسٹس نے بیان حلفی میں مشرف پر بدنیتی کا الزام لگایا، اگر ایک جج کسی کو حلفیہ طور پر بدنیت کہے تو جب اس شخص کا کیس اسی جج کے سامنے آئیگا تو کیا وہ جانبدار رہ سکتا ہے؟ جب وہی جج چیف جسٹس بھی ہو تو یقیناً مقدمہ متاثر ہو گا، بینچ نے اس موقف سے پھر اتفاق نہیں کیا۔ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ اخباری خبریں بیچ میں نہ لائیں، نظرثانی درخواست میں وہ پیرا دکھائیں جس میں تعصب کا ذکر ہو تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
پیرزادہ نے کہا کہ اندرا گاندھی نے آئین سے انحراف کرکے 1975میں ایمرجنسی لگائی، جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ پھر یہ بھی کہہ دیں وہ بھارتی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا آپ ہمیں واپس اس کالے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ آن لائن کے مطابق پیرزادہ نے کہا کہ میں نے کب کہا وہ اچھا اقدام تھا، میں تو مثال دے رہا ہوں کہ دیگر کئی ممالک میں بھی ایسا کئی بار ہوچکا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا یہ نظرثانی کی درخواست اسلیے تو نہیں کہ اب مشرف معافی مانگنا چاہتے ہیں، ایسا ہو نہیں سکتا کہ وہ معافی مانگیں، پیرزادہ نے کہا کہ 3نومبر کا اقدام غیر آئینی مگر قابل توثیق تھا، میں آئین شکنی کا لائسنس لینے نہیں آیا، بی بی سی کے مطابق پیرزادہ نے کہا کہ اْن کے موکل 3 نومبر کے اقدام پر معافی نہیں مانگیں گے اور سپریم کورٹ اسی طرح اس اقدام کی توثیق کرے جس طرح ماضی میں کرتی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا اب ایسا نہیں ہوگا۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کیا وہ نصرت بھٹو اور ظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دینا چاہتے ہیں تاکہ اب بھی کوئی ماورائے اقدام کر لیں، پیرزادہ کا کہنا تھا کہ وہ غیرآئینی اقدام کی بات نہیں کر رہے۔ جسٹس خلجی نے کہا کہ جب شوکت عزیز نے مشرف کو خط لکھا تھا اْس سال ملک میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2013 میں 6 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں، کیا اب بھی ملک میں ایمرجنسی لگا دی جائے؟ کیا دہشتگردی کو آئین سے انحراف کا جواز بنایا جا سکتا ہے؟۔ دلائل ختم ہونے کے بعد عدالت اٹھنے لگی تو ابراہیم ستی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میرے موکل کو انصاف ملنا چاہیے، لارجر بنچ کچھ کرے۔ خدا کیلئے ایسا فیصلہ دیں جس سے آئین کے آرٹیکل 10 کے تقاضے پورے ہوں، آپ آئین کے محافظ ہیں، وہ پنجرے میں ہیں، ہم خودکو عدالتی رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں، کم از کم انکے خلاف آبزرویشن حذف کرا دیں تاکہ پی سی او کیخلاف فیصلے سے انکے موکل متاثر نہ ہوں لیکن عدالت نے انکی استدعا مسترد کر دی، جسٹس ناصر الملک نے کہا ہمارے خیال میں وہ اسپتال میں ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اب جو کچھ کہا ہے وہ پہلے نہیں کہا ۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا فیصلہ آپکے حق میں ہوگا یا خلاف، اب دوسری کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے پہلے دن فاضل ججز نے تجویزدی تھی کہ اگر وہ اپنی درخواست واپس لیں تو عدالت یہ آبزرویشن دے سکتی ہے کہ خصوصی عدالت میرٹ پر فیصلہ کرے اور پی سی او کیس کے فیصلے سے متاثر نہ ہو لیکن ابراہیم ستی نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق مشرف اپنا یہ حق کھو چکے ہیں کہ انھیں31 جولائی کے فیصلے میں سنا ہی نہیں گیا۔ اب خصوصی عدالت کو غداری مقدمے کا فیصلہ کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔
سپریم کورٹ نے پی سی او فیصلے کیخلاف سابق صدر پرویز مشرف کی نظرثانی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس کی سربراہی میں 14 رکنی لارجر بینچ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ اپیل زائد المیعاد ہے۔
دیے گئے دلائل مقدمے سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ کیس میرٹ پر بھی پورا نہیں اترتا۔ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ 31 جولائی کے فیصلے میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا رویّہ متعصب تھا۔ عدالت فیصلے میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ قبل ازیں شریف الدین پیرزادہ نے ججوں کی جانبداری پر دلائل دیے، انھوں نے کہا کہ دونوں میں تنازع تھا، سابق چیف جسٹس نے بیان حلفی میں مشرف پر بدنیتی کا الزام لگایا، اگر ایک جج کسی کو حلفیہ طور پر بدنیت کہے تو جب اس شخص کا کیس اسی جج کے سامنے آئیگا تو کیا وہ جانبدار رہ سکتا ہے؟ جب وہی جج چیف جسٹس بھی ہو تو یقیناً مقدمہ متاثر ہو گا، بینچ نے اس موقف سے پھر اتفاق نہیں کیا۔ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ اخباری خبریں بیچ میں نہ لائیں، نظرثانی درخواست میں وہ پیرا دکھائیں جس میں تعصب کا ذکر ہو تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
پیرزادہ نے کہا کہ اندرا گاندھی نے آئین سے انحراف کرکے 1975میں ایمرجنسی لگائی، جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ پھر یہ بھی کہہ دیں وہ بھارتی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا آپ ہمیں واپس اس کالے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ آن لائن کے مطابق پیرزادہ نے کہا کہ میں نے کب کہا وہ اچھا اقدام تھا، میں تو مثال دے رہا ہوں کہ دیگر کئی ممالک میں بھی ایسا کئی بار ہوچکا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا یہ نظرثانی کی درخواست اسلیے تو نہیں کہ اب مشرف معافی مانگنا چاہتے ہیں، ایسا ہو نہیں سکتا کہ وہ معافی مانگیں، پیرزادہ نے کہا کہ 3نومبر کا اقدام غیر آئینی مگر قابل توثیق تھا، میں آئین شکنی کا لائسنس لینے نہیں آیا، بی بی سی کے مطابق پیرزادہ نے کہا کہ اْن کے موکل 3 نومبر کے اقدام پر معافی نہیں مانگیں گے اور سپریم کورٹ اسی طرح اس اقدام کی توثیق کرے جس طرح ماضی میں کرتی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا اب ایسا نہیں ہوگا۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کیا وہ نصرت بھٹو اور ظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دینا چاہتے ہیں تاکہ اب بھی کوئی ماورائے اقدام کر لیں، پیرزادہ کا کہنا تھا کہ وہ غیرآئینی اقدام کی بات نہیں کر رہے۔ جسٹس خلجی نے کہا کہ جب شوکت عزیز نے مشرف کو خط لکھا تھا اْس سال ملک میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2013 میں 6 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں، کیا اب بھی ملک میں ایمرجنسی لگا دی جائے؟ کیا دہشتگردی کو آئین سے انحراف کا جواز بنایا جا سکتا ہے؟۔ دلائل ختم ہونے کے بعد عدالت اٹھنے لگی تو ابراہیم ستی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میرے موکل کو انصاف ملنا چاہیے، لارجر بنچ کچھ کرے۔ خدا کیلئے ایسا فیصلہ دیں جس سے آئین کے آرٹیکل 10 کے تقاضے پورے ہوں، آپ آئین کے محافظ ہیں، وہ پنجرے میں ہیں، ہم خودکو عدالتی رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں، کم از کم انکے خلاف آبزرویشن حذف کرا دیں تاکہ پی سی او کیخلاف فیصلے سے انکے موکل متاثر نہ ہوں لیکن عدالت نے انکی استدعا مسترد کر دی، جسٹس ناصر الملک نے کہا ہمارے خیال میں وہ اسپتال میں ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اب جو کچھ کہا ہے وہ پہلے نہیں کہا ۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا فیصلہ آپکے حق میں ہوگا یا خلاف، اب دوسری کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے پہلے دن فاضل ججز نے تجویزدی تھی کہ اگر وہ اپنی درخواست واپس لیں تو عدالت یہ آبزرویشن دے سکتی ہے کہ خصوصی عدالت میرٹ پر فیصلہ کرے اور پی سی او کیس کے فیصلے سے متاثر نہ ہو لیکن ابراہیم ستی نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق مشرف اپنا یہ حق کھو چکے ہیں کہ انھیں31 جولائی کے فیصلے میں سنا ہی نہیں گیا۔ اب خصوصی عدالت کو غداری مقدمے کا فیصلہ کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔