سپریم کورٹ بلوچستان کے لاپتا افراد کی معلومات کیلیے سیکریٹری دفاع و داخلہ طلب
لاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں،جسٹس ناصر،جہاں زندگی کے حق پرحرف آیامداخلت کرینگے،جسٹس ثاقب
بلوچستان حکومت کی ایف سی کے عدم تعاون کی شکایت،جن پرالزامات ہیں وہ فوج میں واپس چلے گئے ہیں ،وکیل ایف سی۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن وامان اور لاپتہ افرادکے بارے میں ٹھوس معلومات حاصل کرنے کیلیے سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو طلب کر لیا۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زندگی بہت قیمتی ہے، یہ عام کیس نہیں اس کا تعلق انسانی حقوق اور زندگی کے حق سے ہے، جہاں بنیادی حقوق خصوصاً زندگی کے حق پر حرف آئے گا تو یہ عدالت مداخلت کرے گی،کوئی یہ نہ سمجھے کہ مقدمہ ان کیخلاف ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے اور اس کو اس تناظر میں دیکھا جائے۔فاضل جج نے کہاکہ اس وقت بلوچستان کے لوگ متذبذب ہیں،سب کی ذمے داری ہے کہ انھیں اس تذبذب سے نکالا جائے،بلوچستان حکومت کے وکیل شاہد حامد نے تسلیم کیا کہ ایف سی پر حکومت کا مؤثرکنٹرول نہیں،قانون میں تو ایف سی حکومت کے زیر انتظام ہے لیکن فورس کا سربراہ فوج کا حاضر سروس افسر ہوتا ہے جوکمانڈ سے ہدایات لیتا ہے ،انھوں نے ایف سی کے عدم تعاون کے رویے کی شکایت کی۔جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ اگر ایجنسیوں پر لوگ جبری طور پر اٹھانے کے الزامات ہیں تو ایجنسیاں خود تفتیش کرکے اصل حقائق سامنے لائیں،عدالت ثبوتوں پرفیصلے کرتی ہے، زیر غورکیس میں ایسا ٹھوس مواد ہونا چاہیے جس سے یہ اخذ ہو سکے کہ ان لوگوں کو واقعی سیکیورٹی اداروں نے اٹھایا ۔
فاضل جج نے کہا سیکیورٹی ایجنسیاں خودتفتیش کرکے الزامات جھٹلاسکتی ہیں۔بلوچستان میں ڈاکٹروں کی حفاظت سے متعلق صوبائی حکومت کے وکیل شاہد حامد نے کہا 24 سینئر پروفیسر ڈاکٹروں کو سیکیورٹی دیدی گئی ہے جس پر30 کروڑ روپے خرچ آئے گا، جسٹس ناصر الملک نے کہاکہ ڈاکٹر اپنے پیشے سے کماتے ہیں، انھیں سکیورٹی اخراجات خود اٹھانے چاہئیں ۔ شاہدحامد نے کیس بلوچستان ہائیکورٹ منتقل کرنے کی تجویز دی تاہم درخواست گزار نصراللہ بلوچ نے مخالفت کی اورکہاکہ ہمیں انصاف نہیں ملے گا ۔ایف سی کے وکیل عرفان قادر نے تعاون کا یقین دلایا اورکہاکہ جن اہلکاروں پر الزام تھا انھیں پیش کیا گیا تاہم جو لوگ فوج سے ڈیپوٹیشن پر آئے تھے انھیں واپس بھیج دیا گیا ہے اور اب ان تک رسائی نہیں۔عرفان قادر نے کہا لاپتہ عبدالمالک کے کیس میں کمانڈر ایف سی چاغی بریگیڈیئر اورنگزیب پر الزام ہے لیکن وہ واپس فوج میں جا چکے ہیں ۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا آپ تسلیم کررہے ہوکہ بریگیڈیئر ملزم ہے لیکن واپس فوج میں بھیج دیا گیا ہے۔ فاضل وکیل نے کہا کہ میں ہرگز تسلیم نہیں کررہا بلکہ یہ کہہ رہا ہوںکہ جس پر الزام ہے وہ ایف سی میں نہیں ۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جن لوگوں پر الزام ہے انھیں پولیس کے سامنے بیان کیلیے پیش کیا جاتا توکچھ دلاسہ مل جاتا۔جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ ایف سی کس کے ماتحت ہے؟ ابھی یہ طے نہیں ہوسکا،ہم سیکریٹری دفاع اور داخلہ کو طلب کرلیتے ہیں اور پوچھ لیتے ہیںکہ فوج کے جو لوگ واپس گئے انھیں لانا کس وزارت کی ذمے داری ہے۔عدالت نے نوشکی میں ملنے والی 25لاشوں سے متعلق بلوچستان حکومت کی رپورٹ واپس کردی ۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زندگی بہت قیمتی ہے، یہ عام کیس نہیں اس کا تعلق انسانی حقوق اور زندگی کے حق سے ہے، جہاں بنیادی حقوق خصوصاً زندگی کے حق پر حرف آئے گا تو یہ عدالت مداخلت کرے گی،کوئی یہ نہ سمجھے کہ مقدمہ ان کیخلاف ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے اور اس کو اس تناظر میں دیکھا جائے۔فاضل جج نے کہاکہ اس وقت بلوچستان کے لوگ متذبذب ہیں،سب کی ذمے داری ہے کہ انھیں اس تذبذب سے نکالا جائے،بلوچستان حکومت کے وکیل شاہد حامد نے تسلیم کیا کہ ایف سی پر حکومت کا مؤثرکنٹرول نہیں،قانون میں تو ایف سی حکومت کے زیر انتظام ہے لیکن فورس کا سربراہ فوج کا حاضر سروس افسر ہوتا ہے جوکمانڈ سے ہدایات لیتا ہے ،انھوں نے ایف سی کے عدم تعاون کے رویے کی شکایت کی۔جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ اگر ایجنسیوں پر لوگ جبری طور پر اٹھانے کے الزامات ہیں تو ایجنسیاں خود تفتیش کرکے اصل حقائق سامنے لائیں،عدالت ثبوتوں پرفیصلے کرتی ہے، زیر غورکیس میں ایسا ٹھوس مواد ہونا چاہیے جس سے یہ اخذ ہو سکے کہ ان لوگوں کو واقعی سیکیورٹی اداروں نے اٹھایا ۔
فاضل جج نے کہا سیکیورٹی ایجنسیاں خودتفتیش کرکے الزامات جھٹلاسکتی ہیں۔بلوچستان میں ڈاکٹروں کی حفاظت سے متعلق صوبائی حکومت کے وکیل شاہد حامد نے کہا 24 سینئر پروفیسر ڈاکٹروں کو سیکیورٹی دیدی گئی ہے جس پر30 کروڑ روپے خرچ آئے گا، جسٹس ناصر الملک نے کہاکہ ڈاکٹر اپنے پیشے سے کماتے ہیں، انھیں سکیورٹی اخراجات خود اٹھانے چاہئیں ۔ شاہدحامد نے کیس بلوچستان ہائیکورٹ منتقل کرنے کی تجویز دی تاہم درخواست گزار نصراللہ بلوچ نے مخالفت کی اورکہاکہ ہمیں انصاف نہیں ملے گا ۔ایف سی کے وکیل عرفان قادر نے تعاون کا یقین دلایا اورکہاکہ جن اہلکاروں پر الزام تھا انھیں پیش کیا گیا تاہم جو لوگ فوج سے ڈیپوٹیشن پر آئے تھے انھیں واپس بھیج دیا گیا ہے اور اب ان تک رسائی نہیں۔عرفان قادر نے کہا لاپتہ عبدالمالک کے کیس میں کمانڈر ایف سی چاغی بریگیڈیئر اورنگزیب پر الزام ہے لیکن وہ واپس فوج میں جا چکے ہیں ۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا آپ تسلیم کررہے ہوکہ بریگیڈیئر ملزم ہے لیکن واپس فوج میں بھیج دیا گیا ہے۔ فاضل وکیل نے کہا کہ میں ہرگز تسلیم نہیں کررہا بلکہ یہ کہہ رہا ہوںکہ جس پر الزام ہے وہ ایف سی میں نہیں ۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جن لوگوں پر الزام ہے انھیں پولیس کے سامنے بیان کیلیے پیش کیا جاتا توکچھ دلاسہ مل جاتا۔جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ ایف سی کس کے ماتحت ہے؟ ابھی یہ طے نہیں ہوسکا،ہم سیکریٹری دفاع اور داخلہ کو طلب کرلیتے ہیں اور پوچھ لیتے ہیںکہ فوج کے جو لوگ واپس گئے انھیں لانا کس وزارت کی ذمے داری ہے۔عدالت نے نوشکی میں ملنے والی 25لاشوں سے متعلق بلوچستان حکومت کی رپورٹ واپس کردی ۔