جنوریٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں میں 222 شہری جاں بحق

ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود قتل وغارتگری کا سلسلہ جاری رہا،علمائےکرام،چوہدری اسلم سمیت کئی پولیس افسران کو قتل کردیا گیا

17 جنوری کو ایکسپریس نیوز کے 3 کارکنان کو شہید کیاگیا،فوٹو: فائل

LONDON:
پولیس اور رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن ، محاصرے، گھر گھر تلاشی اوراسنیپ چیکنگ کے باوجود رواں سال کے پہلے مہینے جنوری میں بھی خون ناحق سے شہر کی سڑکیں سرخ ہوتی رہیں۔

گزشتہ ماہ کے 31 روز میں ٹارگٹ کلنگ ، اغوا کے بعد قتل دیگر وارداتوں اور بم دھماکوں میں ایس پی چوہدری اسلم سمیت دیگر پولیس افسران و اہلکاروں اور رینجرز کے اہلکار وںسمیت 222 افراد کو زندگی سے محروم کر دیا گیا ، پولیس اور رینجرز کی جانب شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے تو ضرور کیے گئے تاہم شہری ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے اور وہ پولیس و رینجرز کو کسی بھی خاطر میں لائے بغیر نہ صرف اپنے ہدف کو سر راہ نشانہ بناتے رہے بلکہ اپنی موجودگی کا مکمل احساس بھی دلاتے رہے، رینجرز اور پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے اعداد و شمار میں برتری کا مقابلہ جاری رہا اور دونوں کی جانب سے گزشتہ ماہ جنوری کے 31 روز میں سیکڑوں ملزمان کی گرفتاری کے دعوے سامنے آتے رہے جس میں دہشت گرد ، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور سمیت دیگر جرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزمان شامل تھے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشن ، محاصرے اور اسنیپ چیکنگ کا عمل صرف پرامن شہریوں کے لیے ہے جبکہ قاتل شہر میںآزادانہ دندناتے رہے اور انھیں کوئی پکڑنے والا نہیں ، اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری کو شہر میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 2 جنوری کو 5 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 3 جنوری کو 3 افراد ، 4 جنوری کو15افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ، 5 جنوری کو 6 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 6 جنوری کو 3 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ، 7 جنوری کو 11افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 8 جنوری کو 3 افراد جبکہ 9 جنوری فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 10 جنوری کو 3افراد ، 11 جنوری کو4 افراد ، 12 جنوری کوایک شخص ، 13 جنوری کو 5 افراد ، 14 جنوری 12 ربیع الاول اور 15 جنوری کو مجموعی طور پر 5 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 16 جنوری4 افرادکو ابدی نیند سلا دیا گیا۔




17 جنوری کو ایکسپریس نیوز کے 3 کارکنان اور مفتی عثمان یار سمیت 11 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ، 18 جنوری کو قتل و غارت گری کے مختلف واقعات میں 7افراد ، 19 جنوری کو 4 افراد ،20 جنوری کو 6 افراد ،21 جنوری کو 5 افراد ، 22 جنوری کو 11 افراد ، 23 جنوری کو 3 افراد ، 24 جنوری کو 2 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، 25 جنوری کو10افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ، 26 جنوری 6افراد ، 27 جنوری کو 2 بھائیوں سمیت 6 افراد ، 28 جنوری کو 4 افراد ، 29 جنوری 6افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ، 30 جنوری کو 8 افراد جبکہ 31 جنوری کو شہر کے مختلف علاقوں میں 5 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

گزشتہ ماہ ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم سمیت 26 پولیس افسران واہلکاروں کو بم دھماکے اورٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں موت کی نیند سلا دیا گیا،لیاری میں جاری گینگ وار کے دوران ایک دوسرے پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ،کریکر ،دستی بم اور اوان گولے کے حملوں میں ماں،بیٹا اور ڈاکٹر سمیت 29 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ ناظم آباد میں رینجرز پر 2 دھماکوں اورنارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے میں رینجرز کے افسر سمیت 3اہلکار اور ایک سیکیورٹی گارڈ اپنی زندگی کی بازی ہار گیا ،شہر کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے نصب کیے جانے والے 9 بم دھماکے ہوئے،کریکر ، ٹینس بال بم ، دستی بم اور اوان گولوں کے درجنوں حملے کیے گئے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
Load Next Story