پاکستانی ’’پھل فروش‘‘ فٹبالر کو محنت کا پھل مل گیا

عادل کاکرغزستان کے چیمپئن کلب ایف سی ڈورڈئی نیان کے ساتھ کھیلنے کا معاہدہ

ڈورڈئی کلب محمد عادل کے کھیل سے بہت متاثر ہوا،طارق لطفی۔ فوٹو: فائل

LONDON:
زمانہ طالب علمی میں تعلیم کے ساتھ پھلوں کا ٹھیلہ لگا کر گھر کی معاشی مشکلات کم کرنے والے محمد عادل کو محنت کا پھل مل گیا۔

21 سالہ محمد عادل نے انٹرنیشنل فٹبالر بننے کا جو خواب دیکھا وہ اب حقیقت کا روپ دھار چکا، انھوں نے کرغزستان کے چیمپئن کلب ایف سی ڈورڈئی نیان کے ساتھ کھیلنے کا معاہدہ کر لیا ہے،محمد عادل کا تعلق بہاولپور سے ہے، ان کیلیے زندگی آسان نہ تھی لیکن فٹبال سے جنون کی حد تک لگاؤ کی وجہ سے وہ کسی نہ کسی طرح کھیلنے کا وقت نکال لیتے تھے،ایک دن پاکستان الیکٹرون لمیٹڈ ( پی ای ایل ) نے انھیں اپنے اسکواڈ میں شامل کر لیا، ٹیم پاکستان پریمیئر لیگ سے باہر ہوگئی لیکن محمد عادل کی غیر معمولی صلاحیتیں کے آر ایل کو متاثر کرنے میں کامیاب رہیں، وہ تین سال سے ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تین سال سے کے آر ایل کے ہیڈ کوچ طارق لطفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہماری ٹیم اس وقت پاکستان پریمیئر لیگ میں ٹائٹل جیتنے کی ہیٹ ٹرک کے قریب آ چکی ہے، محمد عادل اہم کھلاڑی ہیں، وہ دونوں ونگز پر کھیلنے کی یکساں مہارت رکھتے ہیں، ان کے پاس بال کنٹرول اور اسپیڈ ہے جس سے وہ حریف ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔




طارق لطفی نے کہاکہ کے آر ایل نے گزشتہ سیزن میں اے ایف سی پریذیڈنٹ کپ کا فائنل کھیلا تھا، ڈورڈئی کلب محمد عادل کے کھیل سے بہت متاثر ہوا، اس کے بعد جب قومی ٹیم کرغزستان گئی تو اس وقت بھی وہ اچھا کھیلے، یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ یہ معاہدہ عمل میں آیا۔ڈورڈئی کی ٹیم کرغسزتان کی لیگ میں دوسرے نمبر پر آنے کے سبب اس سال اے ایف سی چیمپئنز لیگ نہیں کھیل سکے گی، البتہ محمد عادل کو یقین ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اگلے سیزن میں یہ اعزاز دلانے کی کوشش کری گے۔ طارق لطفی نے کہاکہ یہ ابتدا ہے، پاکستان میں کئی باصلاحیت فٹبالرز موجود اور اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کے بل پر بین الاقوامی سطح پر موجودگی کا احساس دلا سکتے ہیں۔
Load Next Story