آواران میں ریموٹ کنٹرول بم حملہ 4 ایف سی اہلکار شہید 3 زخمی
ایف سی اہلکارمتاثرین زلزلہ کی امداد کیلیے موجود ٹیموں کی حفاظت پر مامور تھے،سڑک کنارے نصب بم سے نشانہ بنایا گیا
وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے کی مذمت اورملوث عناصر کی گرفتاری کی ہدایت کردی۔ فوٹو ایکسپریس/فائل
بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے جھائو میں متاثرین زلزلہ بحالی ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور فرنٹیئرکور کی گشتی پارٹی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں 4 اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے، وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے کی مذمت اورملوث عناصر کی گرفتاری کی ہدایت کردی۔
فائرنگ کے مختلف واقعات وحادثات میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے، 2 افراد کی لاشیں مل گئیں، مسلح افراد قبائلی شخصیت کو اغوا کرکے لے گئے، ڈیرہ مراد جمالی میں 18 انچ گیس پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا گیا، کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں کو گیس سپلائی بند ہوگئی۔ فرنٹیئرکور کے ترجمان کے مطابق صبح کومتاثرین زلزلہ کی بحالی میں مصروف امدادی ٹیموں کی نگرانی پر مامور فرنٹیئرکور بلوچستان کی گشتی پارٹی آواران کے علاقے جھائو کراس سے جھائو کی طرف جا رہی تھی کہ سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی کے ذریعے نامعلوم شرپسندوں نے ان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4 ایف سی اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے تاہم امدادی ٹیموں کا عملہ جانی نقصان سے محفوظ رہا۔
واضح رہے کہ شرپسند شروع دن سے آواران میں متاثرین زلزلہ کی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کیلیے امدادی ٹیموں پر متواتر حملے کررہے ہیں تاکہ حکومت کی جانب سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سبوتاژ کرسکیں۔ اس سے پہلے بھی مذکورہ علاقے میں شرپسندوں نے امدادی ٹیموں اور سیکیورٹی پر مامور ایف سی اہلکاروں پر کئی حملے کیے لیکن فورسز کے جوانوں نے جانوں کی قربانی دیتے ہوئے امدادی ٹیموں کے عملے کو جانی اور مالی نقصان سے بچایا۔ آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل محمد اعجاز شاہد نے شہید ایف سی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیاہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آواران میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ صدرپولیس کے مطابق پٹ فیڈر بیرون کے مقام پر جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے راکٹ داغ کر شکارپور سے کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع کو گیس فراہم کرنے والی18انچ قطرکی گیس پائپ لائن تباہ کردی، واقعے کے بعد انتظامیہ نے شکارپور سے گیس کی فراہمی بند کردی، پائپ لائن تباہ ہونے کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گیس فراہمی معطل ہوگئی۔
فائرنگ کے مختلف واقعات وحادثات میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے، 2 افراد کی لاشیں مل گئیں، مسلح افراد قبائلی شخصیت کو اغوا کرکے لے گئے، ڈیرہ مراد جمالی میں 18 انچ گیس پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا گیا، کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں کو گیس سپلائی بند ہوگئی۔ فرنٹیئرکور کے ترجمان کے مطابق صبح کومتاثرین زلزلہ کی بحالی میں مصروف امدادی ٹیموں کی نگرانی پر مامور فرنٹیئرکور بلوچستان کی گشتی پارٹی آواران کے علاقے جھائو کراس سے جھائو کی طرف جا رہی تھی کہ سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی کے ذریعے نامعلوم شرپسندوں نے ان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4 ایف سی اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے تاہم امدادی ٹیموں کا عملہ جانی نقصان سے محفوظ رہا۔
واضح رہے کہ شرپسند شروع دن سے آواران میں متاثرین زلزلہ کی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کیلیے امدادی ٹیموں پر متواتر حملے کررہے ہیں تاکہ حکومت کی جانب سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سبوتاژ کرسکیں۔ اس سے پہلے بھی مذکورہ علاقے میں شرپسندوں نے امدادی ٹیموں اور سیکیورٹی پر مامور ایف سی اہلکاروں پر کئی حملے کیے لیکن فورسز کے جوانوں نے جانوں کی قربانی دیتے ہوئے امدادی ٹیموں کے عملے کو جانی اور مالی نقصان سے بچایا۔ آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل محمد اعجاز شاہد نے شہید ایف سی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیاہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آواران میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ صدرپولیس کے مطابق پٹ فیڈر بیرون کے مقام پر جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے راکٹ داغ کر شکارپور سے کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع کو گیس فراہم کرنے والی18انچ قطرکی گیس پائپ لائن تباہ کردی، واقعے کے بعد انتظامیہ نے شکارپور سے گیس کی فراہمی بند کردی، پائپ لائن تباہ ہونے کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گیس فراہمی معطل ہوگئی۔