اہم شاہراہوں پر اندھیرے کا راج وارداتیں عام حادثات بڑھ گئے

اسٹریٹ لائٹس کی درستی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کرایا جائے اور پولیس کے گشت میں اضافہ کیا جائے، شہریوں کی اپیل

کلفٹن کے للی برج کی اسٹریٹ لائٹس بند ہونے کے سبب اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی میں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی فعال نہ ہونے کی بدولت رات کے اوقات میں شہر کی اہم شاہراہیں گزشتہ کئی ماہ سے روشنیوں سے محروم ہیں۔

ان شاہراہوں پر اندھیروں کے باعث شہری اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر گزر تے ہیں اور ان کی بڑی تعداد دوران سفر ہی لٹیروں کے ہاتھوں اپنی قیمتی اشیا سے محروم ہوجاتی ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ اب ہم خود سڑکوں پر جنریٹر لگاکر شاہراہوں کو روشن کریں یا اپنے گھروں سے بجلی کے کنکشن فراہم کرکے شاہراہوں پر بلب لگادیں تاکہ حادثات کے ساتھ لٹنے سے بھی بچ سکیں، تفصیلات کے مطابق شہر میں بلدیاتی نظام فعال نہ ہونے کی وجہ سے گذشتہ کئی ماہ سے اہم شاہراہوں پر اسٹریٹ لائٹس خراب ہیں اور ان کی درستگی پر کے ایم سی سمیت کوئی بلدیاتی ادارہ توجہ نہیں دے رہا ہے، کلفٹن للی برج، ٹاور،شاہراہ لیاقت ،کورنگی روڈ ،شاہراہ فیصل کے بیشتر مقامات ،کارساز روڈ ، یونیورسٹی روڈ ،راشد منہاس روڈ ،سگنل فری کوریڈور 1,2,3، ماڑی پور،شاہراہ پاکستان ،سائٹ ایریا ،بنارس چوک ،عبداللہ کالج چورنگی ،ناردرن بائی پاس ،سہراب گوٹھ ،ایکسپریس ہائی وے ،جام صادق پل ،جمشید روڈ،اورنگی ٹاون، ملیر ،لائنز ایریا دیگر علاقوں کی اہم شاہراہوں اور مقامات پر اسٹریٹ لائٹس گذشتہ کئی ماہ سے خراب ہیں۔




کئی شاہراہوں پر صرف ایک لائٹ جل رہی ہوتی ہے تو دوسری خراب ہوتی ہے اور کئی کئی گز فاصلے تک بعض شاہراہیں مکمل طور پر تاریکی میں ڈوبی رہتی ہیں،شاہراہوں پر تاریکی کے باعث جہاں حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں وہاں یہ شاہراہیں اسٹریٹ کرائم میں ملوث افراد کی آماجگاہیں بن گئی ہیں اور شہری روزانہ ان شاہراہوں پر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں لٹتے ہیں اور موبائل فون سمیت قیمتی اشیا سے محروم ہوجاتے ہیں،پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر گشت کا نہ ہونا بھی ان جرائم میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جبکہ پولیس ان واقعات کے مقدمات اندراج نہیں کرتی جس کی وجہ سے یہ واقعات حکومت اور میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ ،صوبائی وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن اور ایڈمنسٹریٹر کراچی سے اپیل کی ہے کہ شاہراہوں پر اسٹریٹ لائٹس کی درستی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کرایا جائے اور شاہراہوں پر پولیس کے گشت میں اضافہ کیا جائے ۔
Load Next Story