سٹی کورٹ مال خانے میں خورد برد اور غیر قانونی اشیا رکھنے کا انکشاف
مال خانے کے سابقہ انچارج عبدالعزیز نے قتل کی نیت سے ڈیٹونیٹر بم کی پن نکال کر میری جانب پھینک دیا، درخواست گزار
ملزم نے چارج دینے پر لیت لعل سے کام لیا تھااسی لیے روزانہ تکرار ہورہی تھی،پیٹی سے رقم بھی غائب تھی، مضروب تراب علی۔ فوٹو: فائل
سٹی کورٹ مال خانہ میںلاکھوں روپے خورد برد کا اور غیر قانونی اشیا رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔
سابقہ مال خانہ انچارج نے قتل کرنے کی نیت سے چپکے سے ڈیٹونیٹر بم کی پن نکال کر مضروب کے ہاتھ میں تھمادیا تھا جو کہ دھماکا سے پھٹ گیا ، سابقہ مال خانہ انچارج کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا ہے، ہفتے کو تھانہ سٹی کورٹ کے انسپکٹر نذیر نے اقدام قتل کے الزام میں گرفتار سٹی کورٹ کے سابقہ مال خانہ انچارج عبدالعزیز عرف بھورا عرف ماما کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ذیشان منظور کے روبرو پیش کیا تھا، اس موقع پر پولیس نے ملزم سے تحقیقات کرنے کیلیے 14یوم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم فاضل عدالت نے 4 فروری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا، قبل ازیں ایف آئی آر میں مضروب ضلع وسطی کے مال خانہ انچارج تراب علی مری نے انکشاف کیا ہے سابقہ انچارج مال خانہ ملزم عبدالعزیز نے چارج دینے پر لیت لعل سے کام لیا، اسی لیے روزانہ تکرار ہورہی تھی جبکہ وہ 2010 سے 2013تک کا چارج دینے پر رضامند تھا، وہ تعیناتی سے اب تک کا تمام ریکارڈ طلب کرنے میں بضد تھا۔
اس دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ سابقہ مال خانہ انچارچ نے قانونی اشیاء مال خانہ میں چھپائی ہوئی ہے، اس نے غیر متعلقہ اورجرام پیشہ شخص سعید الرحمن جو کہ سیعدآباد کا رہائشی ہے کو اپنے ہمراہ مال خانہ میں ڈیوٹی کو دوران رکھتا تھا، قانونی طور پر غیرمتعلقہ افراد کا مال خانے میں داخلے پر سخت پابندی ہے لیکن وہ ہمیشہ اسے ساتھ رہتا تھا، مال خانہ میںموجود پیٹی جس کی چاپی ایک اس کے پاس اور ایک چابی اے ایس آئی اشتیاق کے پاس ہوتی ہے،25جنوری کو معمول کے مطابق ڈیوٹی پر تھا، پیٹی چیک کرنے پر انکشاف ہوا کہ اس میں سے 13لاکھ اور 37لاکھ روپے غائب تھے، اس بابت تمام ڈیوٹی پرمامور اہلکاروں سے معلومات حاصل کی لیکن انھون نے حلفیہ بیان دیکر انکار کردیا۔
اسی لین دین کا تنازع ملزم سے جاری تھا لیکن وقوع کے روز ملزم نے سعید الرحمن کے ہمراہ اسے باتوں میں الجھایا، اس کے ساتھی نے ڈیٹو نیٹربم ملزم کو دیا اور ملزم نے ڈیٹونیٹر کی پن نکا کر قتل کرنے کی نیت سے میر طرف اچھال دیا جو میرے ہاتھوں میں دھماکے سے پھٹ گیا، شدید زخمی ہونے پر مجھے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، مدعی نے دعوی بھی کیا ہے کہ عبدالعزیز اور اس کے ساتھی نے اسے قتل کرنے کی نیت سے حملہ کیا تاہم پولیس نے ملزم سابقہ مال خانہ انچارچ عبدالعزیز کو گرفتار کرلیا لیکن اسکا ساتھی ملزم تاحال مفرور ہے، مفرور ملزم کو اس سے قبل تھانہ گزری نے مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا جو کہ ضمانت پر رہا ہے۔
سابقہ مال خانہ انچارج نے قتل کرنے کی نیت سے چپکے سے ڈیٹونیٹر بم کی پن نکال کر مضروب کے ہاتھ میں تھمادیا تھا جو کہ دھماکا سے پھٹ گیا ، سابقہ مال خانہ انچارج کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا ہے، ہفتے کو تھانہ سٹی کورٹ کے انسپکٹر نذیر نے اقدام قتل کے الزام میں گرفتار سٹی کورٹ کے سابقہ مال خانہ انچارج عبدالعزیز عرف بھورا عرف ماما کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ذیشان منظور کے روبرو پیش کیا تھا، اس موقع پر پولیس نے ملزم سے تحقیقات کرنے کیلیے 14یوم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم فاضل عدالت نے 4 فروری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا، قبل ازیں ایف آئی آر میں مضروب ضلع وسطی کے مال خانہ انچارج تراب علی مری نے انکشاف کیا ہے سابقہ انچارج مال خانہ ملزم عبدالعزیز نے چارج دینے پر لیت لعل سے کام لیا، اسی لیے روزانہ تکرار ہورہی تھی جبکہ وہ 2010 سے 2013تک کا چارج دینے پر رضامند تھا، وہ تعیناتی سے اب تک کا تمام ریکارڈ طلب کرنے میں بضد تھا۔
اس دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ سابقہ مال خانہ انچارچ نے قانونی اشیاء مال خانہ میں چھپائی ہوئی ہے، اس نے غیر متعلقہ اورجرام پیشہ شخص سعید الرحمن جو کہ سیعدآباد کا رہائشی ہے کو اپنے ہمراہ مال خانہ میں ڈیوٹی کو دوران رکھتا تھا، قانونی طور پر غیرمتعلقہ افراد کا مال خانے میں داخلے پر سخت پابندی ہے لیکن وہ ہمیشہ اسے ساتھ رہتا تھا، مال خانہ میںموجود پیٹی جس کی چاپی ایک اس کے پاس اور ایک چابی اے ایس آئی اشتیاق کے پاس ہوتی ہے،25جنوری کو معمول کے مطابق ڈیوٹی پر تھا، پیٹی چیک کرنے پر انکشاف ہوا کہ اس میں سے 13لاکھ اور 37لاکھ روپے غائب تھے، اس بابت تمام ڈیوٹی پرمامور اہلکاروں سے معلومات حاصل کی لیکن انھون نے حلفیہ بیان دیکر انکار کردیا۔
اسی لین دین کا تنازع ملزم سے جاری تھا لیکن وقوع کے روز ملزم نے سعید الرحمن کے ہمراہ اسے باتوں میں الجھایا، اس کے ساتھی نے ڈیٹو نیٹربم ملزم کو دیا اور ملزم نے ڈیٹونیٹر کی پن نکا کر قتل کرنے کی نیت سے میر طرف اچھال دیا جو میرے ہاتھوں میں دھماکے سے پھٹ گیا، شدید زخمی ہونے پر مجھے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، مدعی نے دعوی بھی کیا ہے کہ عبدالعزیز اور اس کے ساتھی نے اسے قتل کرنے کی نیت سے حملہ کیا تاہم پولیس نے ملزم سابقہ مال خانہ انچارچ عبدالعزیز کو گرفتار کرلیا لیکن اسکا ساتھی ملزم تاحال مفرور ہے، مفرور ملزم کو اس سے قبل تھانہ گزری نے مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا جو کہ ضمانت پر رہا ہے۔