اسامیاں ختم ہونے کیخلاف متاثرہ کمرشل اتاشیوں کا عدالت جانے کا فیصلہ

اس عمل سے انکم ٹیکس،ڈسٹرکٹ منیجمنٹ اورکسٹمزگروپ سے تعلق رکھنے والے کمرشل اتاشی اپنےکیریئرکو غیرمحفوظ تصور کرنے لگے ہیں

وزارت تجارت نے23 دسمبر2013 کومیکسیکو، پورٹ لوئیس، قاہرہ، ایتھنز، ٹریپولی، باکو، سانتیاگو ،او آئی سی مشن جدہ میں کمرشل اتاشی کی آسامی ختم کرنے سے آگاہ کیا تھا۔ فوٹو: فائل

وزارت تجارت کی جانب سے 9 ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانوں سے کمرشل اتاشی کی اسامیاں ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف متاثرہ کمرشل اتاشیوں نے مشترکہ طور پر عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت تجارت نے23 دسمبر2013 کو ایک مکتوب کے ذریعے میکسیکوسٹی، پورٹ لوئیس، قاہرہ، ایتھنز، ٹریپولی، باکو، سانتاگو کے علاوہ او آئی سی مشن جدہ میں کمرشل اتاشی کی آسامی ختم کرنے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اس سے قبل وزارت تجارت نے29 نومبر2013 تک تعینات کمرشل اتاشیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان آسامیوں کے جواز کے بارے میں اپنی معروضات اور دلائل پیش کریں۔ دوسری جانب وزارت تجارت نے29 نومبر2013 کی صبح ہی وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے امورخارجہ کی صدارت میں اس حوالے سے منعقدہ اجلاس میں مذکورہ دفاتر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ان کمرشل اتاشیوں میں سے متعدد نے ان آسامیوں کی افادیت وضرورت کے بارے میں اپنی اپنی رپورٹس 29 نومبر سے قبل ہی ارسال کردی تھیں جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ متعلقہ حکام نے ان رپورٹس کا سرے سے جائزہ ہی نہیں لیا اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر کے حامل پاکستان کی معیشت کی بہتری کے بارے میں ان تجاویز اور رپورٹس کو ردی کے ٹوکرے میں ڈال دیا ہے۔




ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وزارت تجارت کے اس طرز عمل سے انکم ٹیکس، ڈسٹرکٹ منیجمنٹ گروپ اور کسٹمزگروپ سے تعلق رکھنے والے کمرشل اتاشی اپنے مستقبل اورکیریئرکو غیرمحفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔ ان کمرشل اتاشیوں بیشتر وہ اتاشی جنہیں تعیناتی کا فی الوقت ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا ہے کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف پاکستانی مصنوعات کی جارحانہ انداز میں مارکیٹنگ کررہے ہیں بلکہ پاکستان کے مثبت تاثرکو بھی اجاگر کرنے حکمت عملی پر گامزن ہیں تاکہ پاکستان کی تجارت وبرآمدات کو فروغ مل سکے اور یہی غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں جاکر ترجیحی بنیادوں پرسرمایہ کاری کے منصوبے ترتیب دیں لیکن وزارت تجارت کی جانب سے قلم ہماری تعیناتی کے چند ماہ بعد سے ہی یک جنبش قلم ان آسامیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس سے ہماری پاکستانی تجارت وسرمایہ کاری سے متعلق اقدامات وحکمت عملی کو زبردست دھچکا لگا ہے اور مستقبل میں بھی مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کے امکانات ہوگئے ہیں۔

متاثرہ کمرشل اتاشیوں نے بتایا کہ وزارت تجارت کی ہدایات کے مطابق ارسال کردہ رپورٹس میں متعلقہ ذمے دار پاکستانی سفارتکاروں نے بھی بندکیے جانے والے مجوزہ کمرشل سیکشنز کو بند نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ممالک میں تعینات کمرشل اتاشیوں کے خاندان وزارت تجارت کے فیصلے کے باعث نہ صرف مالی بلکہ ذہنی ونفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ انہوں نے متوقع طور پر4 سالہ تعیناتی کے پیش نظر اپنے کی بچوں کی تعلیم، رہائش اور دیگر سہولتوں کے بارے میں جو منصوبہ بندی کی تھی اور متعدد منقولہ جائیداد کوڑیوں کے دام فروخت کردی تھیں وہ ان کے نقصان کا سبب بنیں۔ متاثرہ افسران نے تجویز دی ہے کہ انہیں دیگر مقامات سے ریٹائرڈیا تبادلہ کیے جانیوالے افسران کی آسامیوں پر تعینات کرکے نقصانات کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔
Load Next Story