پاک سعودی نیول فورسز کی مشقیں لائیو ویپن فائرنگ کا مظاہرہ

مشق نسیم البحر13 میں سمندر میں روایتی خطرات کے خلاف مشترکہ رد عمل کا عملی مظاہرہ شامل تھا

مشق نسیم البحر13 میں سمندر میں روایتی خطرات کے خلاف مشترکہ رد عمل کا عملی مظاہرہ شامل تھا، (فوٹو: پاکستان نیوی)

پاکستان بحریہ اور رائل سعودی نیول فورسز کے جہازوں نے مشق نسیم البحر 13 کے دوران شمالی بحیرہ عرب میں ہتھیاروں سے لائیو ویپن فائرنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔


ایکسپریس نیوز کے مطابق بحری مشق نسیم البحر 13 کے دوران پاک بحریہ، رائل سعودی نیول اور ائیر فورسز نے شمالی بحیرہ عرب میں شاندار فائر پاور ڈسپلے کے ذریعے مشترکہ حربی تیاری اور جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔



چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی اور کمانڈر رائل سعودی نیول فورسز وائس ایڈمرل فہد بن عبد اللہ الغفیلی نے دونوں ممالک کے بحری اور فضائی یونٹس کی جانب سے لائیو ویپن فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔




فائر پاور ڈسپلے میں پہلی بار رائل سعودی ائیر فورس کے ایف 15 ایس/ اے جہاز کی شمولیت سے مشق نسیم البحر 13 کے دوران کیے جانے والے مشترکہ میری ٹائم آپریشنز میں ایک منفرد پہلو کا اضافہ ہوا۔ مشق نسیم البحر13 میں سمندر میں روایتی خطرات کے خلاف مشترکہ رد عمل کا عملی مظاہرہ شامل تھا۔



ہتھیاروں کی لائیو فائرنگ کے دوران پاک بحریہ، رائل سعودی بحریہ اور رائل سعودی ائیر فورس کے پلیٹ فارمز نے اپنے متعلقہ اہداف کو کام یابی سے نشانہ بنایا۔ مشق کا مقصد نیول وارفئیر اور میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز کے مختلف پہلووؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کی افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت اور آپریشنل تیاری میں اضافہ تھا۔

بعد ازاں دونوں افواج کے سربراہان نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ سمندر میں جوائنٹ فلیٹ ریویو کے دوران پاک بحریہ اور رائل سعودی نیول فورسز کے جہازوں کا معائنہ کیا۔

مشق نسیم البحر ہر دو سال بعد منعقد کی جانے والی آپریشنل مشق ہے جو دو دہائیوں کے دوران پاک سعودی اسٹریٹجک تعلقات اور سمندری خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا عملی مظاہرہ ہے۔
Load Next Story