سپر ہائی وے ہوٹلوں پر کھا نا کھانے جانیوالے کئی نوجوان لاپتہ
کئی افراد بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد بحفاظت گھروں کو واپس پہنچے ہیں، ذرائع
کئی افراد بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد بحفاظت گھروں کو واپس پہنچے ہیں، ذرائع
شہر قائد میں جہاں ہر طرف لاقانونیت کا راج ہے تو وہیں سیروتفریح کی غرض سے جانے والے افراد کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
سپر ہائی وے پر قائم مختلف ریسٹورنٹس پر کھانا کھانے کے لیے جانے والے کئی نوجوان لاپتہ ہوگئے جبکہ کئی افراد بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد بحفاظت گھروں کو واپس پہنچے ، ذرائع کے مطابق روشنیوں کے شہر کراچی میں جہاں ہر جانب لاقانونیت اور دہشت گردی کا دور دورہ ہے تو وہیں دوسری جانب اپنی مصروف ترین زندگی کے فارغ لمحات میں سیرو تفریح کی غرض سے جانے والے متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کے سلسلے کا بھی آغاز ہوگیا ہے ، سپر ہائی وے پر قائم مختلف ریسٹورنٹس اپنے لذیز پکوان کی وجہ سے شہر بھر میں مشہور ہیں اور مختلف علاقوں سے شہری کھانا کھانا اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وہاں جاتے ہیں لیکن سپر ہائی وے بھی اب غیر محفوظ ہوگیا، ریسٹورنٹس جانے والے کئی نوجوان لاپتہ ہوگئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ سپر ہائی وے کا علاقہ ضلع ملیرکی حدود میں آتا ہے اور حالیہ دنوں میں شہریوں کے غائب ہونے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
علاقے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کو ڈبل کیبن گاڑیوں اور کاروں میں سوار افراد اٹھا کر لے جاتے ہیں جس کے بعد ان کا کچھ پتہ نہیں چلتا، کئی افراد کے اہل خانہ سے رابطہ بھی کرلیا جاتا ہے اور وہ ایک بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد اپنی واپسی کو یقینی بناتے ہیں، اس سلسلے میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گلشن اقبال کے ایک نوجوان نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ سپر ہائی وے کھانا کھانے گیا تھا کہ اچانک ڈبل کیبن میں سوار افراد آئے اور ریسٹورنٹ سے اس کے دوستوں اور موقع پر موجود درجنوں افراد کے سامنے اسے اٹھا کر لے گئے ، اس کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور تشدد کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔
اسے کچھ نہیں معلوم کہ اسے کہاں رکھا گیا،2روز بعد اسے نشہ آور انجکشن لگا کر دوبارہ بے ہوش کردیا گیا اور اسے کسی گاڑی میں گلشن اقبال میں مسکن چورنگی پر چھوڑ کر نامعلوم افراد چلے گئے، اس نے اپنے اہل خانہ کو وہاں سے پی سی او کے ذریعے فون کیا اور جب اہل خانہ پہنچے تو انھوں نے بتایا کہ اس کی رہائی کے لیے2لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں ، اسی طرح ملیر کے رہائشی ایک اور نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کے 4 کزن ایک ہفتے سے لاپتہ ہیں، وہ سپر ہائی وے پر کھانا کھانے گئے تھے جبکہ ان کی کار سہراب گوٹھ کے علاقے سے مل گئی جس کے بارے میں پولیس نے انھیں مطلع کیا ، اس سلسلے میں انھوں نے متعلقہ تھانے ، رینجرز اور دیگر اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی اور انھیں واقعے سے آگاہ کیا لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوسکی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مذکورہ افراد کو تحویل میں لیے جانے سے انکار کررہے ہیں ، انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں اپنے رشتے داروں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا جبکہ وہ اس ضمن میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
سپر ہائی وے پر قائم مختلف ریسٹورنٹس پر کھانا کھانے کے لیے جانے والے کئی نوجوان لاپتہ ہوگئے جبکہ کئی افراد بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد بحفاظت گھروں کو واپس پہنچے ، ذرائع کے مطابق روشنیوں کے شہر کراچی میں جہاں ہر جانب لاقانونیت اور دہشت گردی کا دور دورہ ہے تو وہیں دوسری جانب اپنی مصروف ترین زندگی کے فارغ لمحات میں سیرو تفریح کی غرض سے جانے والے متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کے سلسلے کا بھی آغاز ہوگیا ہے ، سپر ہائی وے پر قائم مختلف ریسٹورنٹس اپنے لذیز پکوان کی وجہ سے شہر بھر میں مشہور ہیں اور مختلف علاقوں سے شہری کھانا کھانا اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وہاں جاتے ہیں لیکن سپر ہائی وے بھی اب غیر محفوظ ہوگیا، ریسٹورنٹس جانے والے کئی نوجوان لاپتہ ہوگئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ سپر ہائی وے کا علاقہ ضلع ملیرکی حدود میں آتا ہے اور حالیہ دنوں میں شہریوں کے غائب ہونے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
علاقے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کو ڈبل کیبن گاڑیوں اور کاروں میں سوار افراد اٹھا کر لے جاتے ہیں جس کے بعد ان کا کچھ پتہ نہیں چلتا، کئی افراد کے اہل خانہ سے رابطہ بھی کرلیا جاتا ہے اور وہ ایک بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد اپنی واپسی کو یقینی بناتے ہیں، اس سلسلے میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گلشن اقبال کے ایک نوجوان نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ سپر ہائی وے کھانا کھانے گیا تھا کہ اچانک ڈبل کیبن میں سوار افراد آئے اور ریسٹورنٹ سے اس کے دوستوں اور موقع پر موجود درجنوں افراد کے سامنے اسے اٹھا کر لے گئے ، اس کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور تشدد کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔
اسے کچھ نہیں معلوم کہ اسے کہاں رکھا گیا،2روز بعد اسے نشہ آور انجکشن لگا کر دوبارہ بے ہوش کردیا گیا اور اسے کسی گاڑی میں گلشن اقبال میں مسکن چورنگی پر چھوڑ کر نامعلوم افراد چلے گئے، اس نے اپنے اہل خانہ کو وہاں سے پی سی او کے ذریعے فون کیا اور جب اہل خانہ پہنچے تو انھوں نے بتایا کہ اس کی رہائی کے لیے2لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں ، اسی طرح ملیر کے رہائشی ایک اور نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کے 4 کزن ایک ہفتے سے لاپتہ ہیں، وہ سپر ہائی وے پر کھانا کھانے گئے تھے جبکہ ان کی کار سہراب گوٹھ کے علاقے سے مل گئی جس کے بارے میں پولیس نے انھیں مطلع کیا ، اس سلسلے میں انھوں نے متعلقہ تھانے ، رینجرز اور دیگر اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی اور انھیں واقعے سے آگاہ کیا لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوسکی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مذکورہ افراد کو تحویل میں لیے جانے سے انکار کررہے ہیں ، انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں اپنے رشتے داروں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا جبکہ وہ اس ضمن میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔