بگ تھری سفارشات پاکستانی حکام آج سر جوڑ کر بیٹھیں گے

ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 کے لیے ٹیموں کو بنگلہ دیش بھجوانے پر بھی غور ہوگا

نئے چیف سلیکٹر اور کمیٹی اراکین کے نام بھی زیر بحث آئیں گے، سینٹرل کنٹریکٹ پر بات ہوگی، ملازمین کے معاہدے میں توسیع کی منظوری لی جائے گی۔ فوٹو: فائل

آئی سی سی بگ تھری منصوبے کے بارے میں مشکل فیصلوں کیلیے پاکستان کرکٹ کے بڑے آج سرجوڑ کر بیٹھیں گے،گورننگ بورڈ کے اجلاس میں آئندہ کیلیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 چیمپئن شپ کیلیے قومی ٹیم کو بنگلہ دیش بھجوانے کا معاملہ زیر بحث آئے گا، نئے چیف سلیکٹر اور کمیٹی کے دیگر اراکین کے ناموں پر غور ہوگا،کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ اور تنخواہوں پر بات چیت متوقع، ملازمین کے معاہدوں میں توسیع کی منظوری لی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق پی سی بی کے گورننگ بورڈ کا اجلاس پیر کو لاہور میں ہوگا۔ چیئرمین ذکا اشرف کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ کیلیے محمد شکیل شیخ، محمد رفیق بھوگیو، قیصرخان جمالی، محمد ہارون رشید، اقبال قاسم، مسعود انور حمید، کموڈور(ر) مرزا راشد حسین، ڈاکٹرجواد ساجد خان، امتیاز احمد، وجاہت اللہ واسطی، یوسف نسیم کھوکھر، امان عزیزصدیقی اور سبحان احمد کو مدعو کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق دوپہر 12بجے مختلف ریجنز کے نمائندے قذافی اسٹیڈیم میں چیئرمین پی سی بی سے ملاقات کرینگے، بعد ازاں گورننگ بورڈ کے اراکین مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے کرنے کیلیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ اس موقع پر آئی سی سی کے انتظامی امور کرکٹ کے 3 بڑوں بھارت، انگلینڈ اورآسٹریلیا کو سونپے جانے کے بارے میں پاکستان کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے آغاز میں ذکا اشرف شرکا کو گزشتہ ماہ دبئی میں ہونے والی آئی سی سی میٹنگ کی تفصیلات سے آگاہ کرینگے جس کے بعد باہمی مشاورت سے بگ تھری ڈرافٹ کے بارے میں حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ یاد رہے کہ آئی سی سی کے نئے ڈرافٹ کے حوالے سے پی سی بی کو انتہائی مشکل فیصلے کرنے کا چیلنج درپیش ہے، بنگلہ دیش کی حمایت کے بعد کرکٹ کی عالمی باڈی پر اجارہ داری کا منصوبہ بظاہر نوشتہ دیوار نظر آنے لگا ہے، بگ تھری کو سپورٹ کرنے کی صورت میں بورڈ کو پاکستان کے اندر عوامی رد عمل کا سامنا کرنا ہوگا، مخالفت کی صورت میں اور کچھ تو ہاتھ نہیں آئے گا لیکن بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی بے رخی پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار پی سی بی کے ذرائع آمدن انتہائی محدود کردے گی۔




بگ تھری کی طرف سے انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرانے کا وعدہ اس لیے فضول ہے کہ فی الحال پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث کئی برس تک ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا، پی سی بی آفیشلز نے زبانی پیشکشوں کی بجائے گارنٹی ضرور طلب کی ہے لیکن غیر ملکی کرکٹ بورڈز کی 'ہاں' کے بعد اگر پلیئرز ہی پاکستان آنے سے انکار کردیں تو ساری پیشرفت کاغذوں تک محدود رہ جائے گی، بے وفائی کے خدشات کو تقویت دینے کیلیے اتنا ثبوت ہی کافی ہے کہ بھارت نے اعتماد کی بحالی کیلیے پاکستانی کھلاڑیوں پر آئی پی ایل کے دروازے کھولنے جیسا اقدام اٹھانے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی، پی سی بی حکام اور شائقین جانتے ہیں کہ ماضی کے تجربات دیکھتے ہوئے بھارتی وعدوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

مشکل فیصلوں کیلیے حکومت کی مشاورت اور ہدایات انتہائی اہمیت اختیار کرچکیں لیکن ذکا اشرف کی بورڈ کے پیٹرن انچیف وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف سے ملاقات نہیں ہو پارہی، تذبذب کا شکار پی سی بی کے گورننگ بورڈ کے ارکان کو پیر کو ان تمام امور پر مشکل فیصلوں کیلیے سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہوگا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل پیٹرن انچیف کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش بھی جاری رہے گی۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی ایشیا کپ اور آئی سی سی ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کیلیے قومی ٹیم کو بنگلہ دیش بجھوانا کی خواہش کا اظہار میڈیا سے بات چیت میں کر چکے ہیں تاہم وہ اجلاس میں دونوں میگا ایونٹس کیلیے گورننگ بورڈ سے باقاعدہ منظوری لیں گے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ بورڈحکام نے چیف سلیکٹر کی تعیناتی سمیت سلیکشن کمیٹی میں بھی ردوبدل کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد نئے چیف سلیکٹر اور دیگر اراکین کے ناموں کو بھی فائنل کیا جائے گا، کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ اور تنخواہوں کے حوالے بات چیت بھی متوقع ہے، پی سی بی کے کئی ملازمین کے کنٹریکٹ31 جنوری کو ختم ہو چکے ہیں، اجلاس میں ان کے معاہدوں میں توسیع کی بھی منظوری لی جائے گی۔

Recommended Stories

Load Next Story