سرمایہ دارانہ نظام اور نجکاری
سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں اور منصوبہ سازوں نے اس نظام کی کامیابی اور ناگزیریت کے حوالے۔۔۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں اور منصوبہ سازوں نے اس نظام کی کامیابی اور ناگزیریت کے حوالے سے جو فلسفہ پیش کیا ہے اس کا بنیادی نکتہ ''ترغیب'' ہے، ان فلسفیوں کا کہنا ہے کہ ہر شخص زیادہ سے زیادہ دولت کمانا چاہتا ہے اور زیادہ دولت حاصل کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا ضروری ہوتا ہے، اس زیادہ محنت کی وجہ سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، یہی ترقی کا راز اور سرمایہ دارانہ نظام کی کامیابی کا تیر بہ ہدف نسخہ ہے۔ یہ فلسفہ ویسے تو بادی النظر میں بڑا بامعنی اور جاندار نظر آتا ہے لیکن جب اس فلسفے کے مضمرات پر نظر ڈالیں تو اس کی ایسی مکروہات سامنے آتی ہیں کہ انسان حیرت سے چکرا کر رہ جاتا ہے۔
اس فلسفے کا بنیادی نکتہ زیادہ سے زیادہ محنت زیادہ سے زیادہ ترقی ہے۔ لیکن اس فلسفے کے پیش کاروں نے یا تو نشے کی حالت میں یہ فلسفہ گھڑا ہے یا پھر انتہائی عیاری کے ساتھ عوام کو ہی نہیں خواص کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش ہے۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ ترغیب انسان میں قوت محرکہ پیدا کرتی ہے اور یہی قوت متحرکہ پیداوار میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے جو آخر کار معاشرے کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیتی ہے لیکن اس فلسفے میں سب سے بڑا مسنگ پوائنٹ یہ ہے کہ زیادہ محنت کرنے والا زیادہ پیداوار تو کرتا ہے لیکن اس زیادہ پیداوار کا فائدہ پیدا کرنے والے کو نہیں ہوتا بلکہ اس مالک کو ہوتا ہے جو پیداوار کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے مثلاً ایک ملز میں 5 ہزار مزدور کام کرتے ہیں، ان کی آٹھ گھنٹے کی محنت سے جو پیداوار حاصل ہوتی ہے، اگر اس کی مالیت 10 کروڑ روپے فرض کرلی جائے تو اس 10 کروڑ میں سے مزدوروں کو جو زیادہ سے زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے وہ 2 کروڑ ہوسکتا ہے، یوں 8 کروڑ مالک کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔
مالک زیادہ پیداوار کے لیے بونس کا لالچ دیتا ہے، حاضری الاؤنس کی ترغیب فراہم کرتا ہے اور اوور ٹائم کا پانسہ پھینکتا ہے جس سے پیداوار میں بلاشبہ بہت اضافہ تو ہو جاتا ہے لیکن تقسیم کی صورت حال 10 اور 2 ہی کی ہوتی ہے۔ مزدور کو جو اضافی اجرت ملتی ہے اس سے وہ سیٹھ ساہوکار نہیں بنتا بلکہ اس زائد اجرت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مزدور پیاز روٹی کے بجائے دال روٹی کھا لیتا ہے یا پھر ہفتے میں تین فاقوں کی جگہ اسے دو فاقے کرنا پڑتے ہیں۔ یہ وہ ترقی ہے جو پیداوار میں اضافے سے مزدور کو حاصل ہوتی ہے جب کہ مالک کروڑوں اربوں کا منافع حاصل کرتا ہے۔
یہ ہے اس ترغیبی فلسفے کے ثمرات جو مزدور اور مالک میں تقسیم ہوتے ہیں۔ پیداواری لاگت اور مارکیٹ پرائس میں جو بھاری فرق ہوتا ہے اور جو سرمایہ دار ہڑپ کر جاتا ہے مارکس نے اس فرق کو ''قدر زائد'' کا نام دیا ہے جس پر سرمایہ دار محض اس لیے قبضہ کرلیتا ہے کہ اس نے سرمایہ لگایا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سرمایہ کار پیداوار پر جو سرمایہ لگاتا ہے وہ یا تو موروثی ہوتا ہے یعنی اپنے باپ دادا کی اسی طرح کی کمائی ہوتی ہے یا پھر بینکوں سے لیا ہوا قرض ہوتا ہے جو عوام کی بچتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ہے سرمایہ دارانہ نظام کی فطری ترقی کا وہ فلسفہ جو اس کے سرپرست انتہائی عیاری کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
محنت اور سرمائے کے اس کھیل کا ایک اور بڑا فریق ہاری یا کسان ہوتا ہے جو قومی پیداوار میں ایک بہت بڑا حصہ ادا کرتا ہے لیکن مقام حیرت ہے کہ ہاری اور کسان کو وہ سہولتیں یا ترغیب بھی میسر نہیں ہوتی جو مزدور کو ہوتی ہے یعنی طے شدہ اجرت بونس حاضری الاؤنس اور اوور ٹائم۔ حتیٰ کہ ہاری اور کسان کو روپے کی شکل میں اجرت بھی نہیں دی جاتی بلکہ اسے دن رات سردی گرمی اور بارشوں میں سخت مشقت کا معاوضہ عموماً اناج کی شکل میں دیا جاتا ہے جس سے وہ دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھاسکتا۔ عملاً ہاری اور کسان وڈیروں اور جاگیرداروں کے غلام ہوتے ہیں اور غلاموں کا کام سر جھکا کر مالک کا حکم بجا لانا ہوتا ہے مالک کے سامنے سر اٹھاکر بات کرنے کی سزا عموماً سر کاٹ کر دی جاتی ہے۔ ہاری اور کسان ترغیب سے بھی محروم ہوتا ہے اس کی ترغیب خوف زدہ زندگی ہوتی ہے۔
مزدور اور کسان دو ہی وہ محنت کش ہوتے ہیں جو پیداوار کے انبار لگا کر ملک کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیتے ہیں لیکن ان کا مقدر فاقہ کشی یا نیم فاقہ کشی ہی ہے۔ سرکاری ملازمین کا کام عموماً غیر پیداواری ہوتا ہے لیکن ان کی زندگی بھی ان ہی دکھوں سے عبارت ہوتی ہے جو مزدوروں اور کسانوں کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ یعنی فاقہ کشی یا نیم فاقہ کشی۔البتہ سرکاری ملازمین کو رشوت کی ترغیب ضرور حاصل ہوتی ہے لیکن ملازمین کی اکثریت کو بھی یہ ترغیب یا زائد آمدنی سیٹھ ساہوکار نہیں بناتی بلکہ چار وقت کے فاقے کے بجائے دو وقت کے فاقے کی سہولت دیتی ہے۔
اس پس منظر میں اگر ہم نجکاری کا جائزہ لیں تو اس کا حال بھی اس ترغیب سے مختلف نظر نہیں آتا جو مزدوروں کو حاصل ہوتی ہے۔ نجکاری سرمایہ دارانہ نظام کی ناگزیر ضرورت ہے نجکاری کا مطلب سرمایہ کاروں کے منافع یا لوٹ مار میں اضافہ ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نجکاری سے پیداوار میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور اسی تناسب سے منافع میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن تقسیم کا اصول مسلمہ ہے یعنی 80/20۔ پیداواری قیمت یا منافع 80 فیصد سیٹھ کی جیب میں جاتا ہے اور 20 فیصد عوام کے حصے میں آتا ہے جب کہ مالکوں کی تعداد دو فیصد اور عوام کی تعداد 98 فیصد ہے یعنی نجکاری کا مطلب لوٹ مار کی مزید آزادی۔ نجکاری کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ پبلک سیکٹر کے ادارے عموماً خسارے میں جاتے ہیں۔
یہ بھاری خسارے بیوروکریسی کی لوٹ مار کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن اس کی ذمے داری بڑی چالاکی سے ملازمین کے سر ڈال دی جاتی ہے جب کہ ملازمین کو سوائے تنخواہ کے ''اوپر کی کوئی'' آمدنی نہیں ہوتی۔ آج پبلک سیکٹر کے بیشتر ادارے اربوں کے خسارے میں جا رہے ہیں اور ان خساروں کی وجہ بھی میڈیا میں آ رہی ہے،اس کرپشن میں کوئی مزدور یا ملازم شامل نہیں بلکہ حکمران اشرافیہ کے ارکان شامل ہیں، اسی طرح خسارے میں جانے والے تمام اداروں کے بارے میں میڈیا یہی بتا رہا ہے کہ ان اداروں میں اربوں روپوں کی لوٹ مار ہوئی اور اس لوٹ مار میں کوئی مزدور یا ملازم شامل نہیں بلکہ ایلیٹ کے وہ شہزادے ملوث ہیں جو حکمرانوں کے فرنٹ مین کا کردار ادا کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خسارے میں مزدوروں کا کوئی ہاتھ ہی نہیں بلکہ ان سرکاری اداروں کے سربراہان اس خسارے کے ذمے دار ہیں اور ان کی لوٹ مار کی داستانوں سے میڈیا بھرا پڑا ہے تو پھر مزدوروں اور ملازمین کو اس کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ قومی اداروں کو جب بھی نجی مالکان کے ہاتھوں فروخت کیا گیا انھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ''فاضل ملازمین'' کو نکال باہر کیا۔ یہ فاصل ملازمین یا مزدور کون ہیں اور کیوں ہیں؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فاضل ملازمین حکمرانوں کی سفارش یا رشوت دے کر نوکری حاصل کرنے والے ہیں۔ اگر اس الزام کو سچ بھی مان لیا جائے تو اس کی ذمے داری کس پر آتی ہے سفارش کرنے والے یا سیاسی طور پر بھرتی ہونے والوں کو کس نے بھرتی کیا۔ اگر نوکریاں خریدی گئیں تو بیچنے والے کون ہیں؟ مزدور تو دونوں صورتوں میں بے روزگاری سے تنگ آیا ہوا ہی ہے۔
نوکری خواہ سفارشی ہو یا خریدی ہوئی بے روزگاروں ہی کو ملی۔ اور بے روزگاری میں کمی ہوئی۔ لیکن مجرم نہ بے روزگار مزدور ہے نا ملازم مجرم سفارش کرنے والے اور نوکریاں بیچنے والے ہی ہیں جو سزا سے بچے ہوئے ہیں۔ عام طور پر نجکاری کی شرائط میں چھانٹی نہ کرنا شامل ہوتا ہے لیکن کسی نہ کسی طور پر فاضل ملازمین کو جلد یا بدیر فارغ کردیا جاتا ہے۔ نجکاری کی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سرمایہ کار اچھا منتظم ہوتا ہے اور اسے اپنے سرمایہ کی فکر رہتی ہے۔ کیا پبلک سیکٹر کی انتظامیہ کو درست نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ترقی اور پیداوار میں اضافے کی بنیادی وجہ ترغیب ہی ہے تو کیا یہ ترغیب پبلک سیکٹر میں اپنا جادو نہیں دکھا سکتی؟ یہ سارے ڈھکوسلے محض سرمائے کی نجی ہاتھوں لوٹ مار کے لیے گھڑے ہوئے ہیں اور نجکاری کی اس نئی لہر کا آغاز میاں نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکا کے بعد ہوا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ کئی بڑے ادارے امریکی سرمایہ کاروں کو بیچے جا رہے ہیں۔ یہ ساری کرامات سرمایہ دارانہ نظام کی ہیں۔
اس فلسفے کا بنیادی نکتہ زیادہ سے زیادہ محنت زیادہ سے زیادہ ترقی ہے۔ لیکن اس فلسفے کے پیش کاروں نے یا تو نشے کی حالت میں یہ فلسفہ گھڑا ہے یا پھر انتہائی عیاری کے ساتھ عوام کو ہی نہیں خواص کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش ہے۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ ترغیب انسان میں قوت محرکہ پیدا کرتی ہے اور یہی قوت متحرکہ پیداوار میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے جو آخر کار معاشرے کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیتی ہے لیکن اس فلسفے میں سب سے بڑا مسنگ پوائنٹ یہ ہے کہ زیادہ محنت کرنے والا زیادہ پیداوار تو کرتا ہے لیکن اس زیادہ پیداوار کا فائدہ پیدا کرنے والے کو نہیں ہوتا بلکہ اس مالک کو ہوتا ہے جو پیداوار کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے مثلاً ایک ملز میں 5 ہزار مزدور کام کرتے ہیں، ان کی آٹھ گھنٹے کی محنت سے جو پیداوار حاصل ہوتی ہے، اگر اس کی مالیت 10 کروڑ روپے فرض کرلی جائے تو اس 10 کروڑ میں سے مزدوروں کو جو زیادہ سے زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے وہ 2 کروڑ ہوسکتا ہے، یوں 8 کروڑ مالک کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔
مالک زیادہ پیداوار کے لیے بونس کا لالچ دیتا ہے، حاضری الاؤنس کی ترغیب فراہم کرتا ہے اور اوور ٹائم کا پانسہ پھینکتا ہے جس سے پیداوار میں بلاشبہ بہت اضافہ تو ہو جاتا ہے لیکن تقسیم کی صورت حال 10 اور 2 ہی کی ہوتی ہے۔ مزدور کو جو اضافی اجرت ملتی ہے اس سے وہ سیٹھ ساہوکار نہیں بنتا بلکہ اس زائد اجرت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مزدور پیاز روٹی کے بجائے دال روٹی کھا لیتا ہے یا پھر ہفتے میں تین فاقوں کی جگہ اسے دو فاقے کرنا پڑتے ہیں۔ یہ وہ ترقی ہے جو پیداوار میں اضافے سے مزدور کو حاصل ہوتی ہے جب کہ مالک کروڑوں اربوں کا منافع حاصل کرتا ہے۔
یہ ہے اس ترغیبی فلسفے کے ثمرات جو مزدور اور مالک میں تقسیم ہوتے ہیں۔ پیداواری لاگت اور مارکیٹ پرائس میں جو بھاری فرق ہوتا ہے اور جو سرمایہ دار ہڑپ کر جاتا ہے مارکس نے اس فرق کو ''قدر زائد'' کا نام دیا ہے جس پر سرمایہ دار محض اس لیے قبضہ کرلیتا ہے کہ اس نے سرمایہ لگایا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سرمایہ کار پیداوار پر جو سرمایہ لگاتا ہے وہ یا تو موروثی ہوتا ہے یعنی اپنے باپ دادا کی اسی طرح کی کمائی ہوتی ہے یا پھر بینکوں سے لیا ہوا قرض ہوتا ہے جو عوام کی بچتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ہے سرمایہ دارانہ نظام کی فطری ترقی کا وہ فلسفہ جو اس کے سرپرست انتہائی عیاری کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
محنت اور سرمائے کے اس کھیل کا ایک اور بڑا فریق ہاری یا کسان ہوتا ہے جو قومی پیداوار میں ایک بہت بڑا حصہ ادا کرتا ہے لیکن مقام حیرت ہے کہ ہاری اور کسان کو وہ سہولتیں یا ترغیب بھی میسر نہیں ہوتی جو مزدور کو ہوتی ہے یعنی طے شدہ اجرت بونس حاضری الاؤنس اور اوور ٹائم۔ حتیٰ کہ ہاری اور کسان کو روپے کی شکل میں اجرت بھی نہیں دی جاتی بلکہ اسے دن رات سردی گرمی اور بارشوں میں سخت مشقت کا معاوضہ عموماً اناج کی شکل میں دیا جاتا ہے جس سے وہ دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھاسکتا۔ عملاً ہاری اور کسان وڈیروں اور جاگیرداروں کے غلام ہوتے ہیں اور غلاموں کا کام سر جھکا کر مالک کا حکم بجا لانا ہوتا ہے مالک کے سامنے سر اٹھاکر بات کرنے کی سزا عموماً سر کاٹ کر دی جاتی ہے۔ ہاری اور کسان ترغیب سے بھی محروم ہوتا ہے اس کی ترغیب خوف زدہ زندگی ہوتی ہے۔
مزدور اور کسان دو ہی وہ محنت کش ہوتے ہیں جو پیداوار کے انبار لگا کر ملک کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیتے ہیں لیکن ان کا مقدر فاقہ کشی یا نیم فاقہ کشی ہی ہے۔ سرکاری ملازمین کا کام عموماً غیر پیداواری ہوتا ہے لیکن ان کی زندگی بھی ان ہی دکھوں سے عبارت ہوتی ہے جو مزدوروں اور کسانوں کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ یعنی فاقہ کشی یا نیم فاقہ کشی۔البتہ سرکاری ملازمین کو رشوت کی ترغیب ضرور حاصل ہوتی ہے لیکن ملازمین کی اکثریت کو بھی یہ ترغیب یا زائد آمدنی سیٹھ ساہوکار نہیں بناتی بلکہ چار وقت کے فاقے کے بجائے دو وقت کے فاقے کی سہولت دیتی ہے۔
اس پس منظر میں اگر ہم نجکاری کا جائزہ لیں تو اس کا حال بھی اس ترغیب سے مختلف نظر نہیں آتا جو مزدوروں کو حاصل ہوتی ہے۔ نجکاری سرمایہ دارانہ نظام کی ناگزیر ضرورت ہے نجکاری کا مطلب سرمایہ کاروں کے منافع یا لوٹ مار میں اضافہ ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نجکاری سے پیداوار میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور اسی تناسب سے منافع میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن تقسیم کا اصول مسلمہ ہے یعنی 80/20۔ پیداواری قیمت یا منافع 80 فیصد سیٹھ کی جیب میں جاتا ہے اور 20 فیصد عوام کے حصے میں آتا ہے جب کہ مالکوں کی تعداد دو فیصد اور عوام کی تعداد 98 فیصد ہے یعنی نجکاری کا مطلب لوٹ مار کی مزید آزادی۔ نجکاری کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ پبلک سیکٹر کے ادارے عموماً خسارے میں جاتے ہیں۔
یہ بھاری خسارے بیوروکریسی کی لوٹ مار کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن اس کی ذمے داری بڑی چالاکی سے ملازمین کے سر ڈال دی جاتی ہے جب کہ ملازمین کو سوائے تنخواہ کے ''اوپر کی کوئی'' آمدنی نہیں ہوتی۔ آج پبلک سیکٹر کے بیشتر ادارے اربوں کے خسارے میں جا رہے ہیں اور ان خساروں کی وجہ بھی میڈیا میں آ رہی ہے،اس کرپشن میں کوئی مزدور یا ملازم شامل نہیں بلکہ حکمران اشرافیہ کے ارکان شامل ہیں، اسی طرح خسارے میں جانے والے تمام اداروں کے بارے میں میڈیا یہی بتا رہا ہے کہ ان اداروں میں اربوں روپوں کی لوٹ مار ہوئی اور اس لوٹ مار میں کوئی مزدور یا ملازم شامل نہیں بلکہ ایلیٹ کے وہ شہزادے ملوث ہیں جو حکمرانوں کے فرنٹ مین کا کردار ادا کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خسارے میں مزدوروں کا کوئی ہاتھ ہی نہیں بلکہ ان سرکاری اداروں کے سربراہان اس خسارے کے ذمے دار ہیں اور ان کی لوٹ مار کی داستانوں سے میڈیا بھرا پڑا ہے تو پھر مزدوروں اور ملازمین کو اس کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ قومی اداروں کو جب بھی نجی مالکان کے ہاتھوں فروخت کیا گیا انھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ''فاضل ملازمین'' کو نکال باہر کیا۔ یہ فاصل ملازمین یا مزدور کون ہیں اور کیوں ہیں؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فاضل ملازمین حکمرانوں کی سفارش یا رشوت دے کر نوکری حاصل کرنے والے ہیں۔ اگر اس الزام کو سچ بھی مان لیا جائے تو اس کی ذمے داری کس پر آتی ہے سفارش کرنے والے یا سیاسی طور پر بھرتی ہونے والوں کو کس نے بھرتی کیا۔ اگر نوکریاں خریدی گئیں تو بیچنے والے کون ہیں؟ مزدور تو دونوں صورتوں میں بے روزگاری سے تنگ آیا ہوا ہی ہے۔
نوکری خواہ سفارشی ہو یا خریدی ہوئی بے روزگاروں ہی کو ملی۔ اور بے روزگاری میں کمی ہوئی۔ لیکن مجرم نہ بے روزگار مزدور ہے نا ملازم مجرم سفارش کرنے والے اور نوکریاں بیچنے والے ہی ہیں جو سزا سے بچے ہوئے ہیں۔ عام طور پر نجکاری کی شرائط میں چھانٹی نہ کرنا شامل ہوتا ہے لیکن کسی نہ کسی طور پر فاضل ملازمین کو جلد یا بدیر فارغ کردیا جاتا ہے۔ نجکاری کی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سرمایہ کار اچھا منتظم ہوتا ہے اور اسے اپنے سرمایہ کی فکر رہتی ہے۔ کیا پبلک سیکٹر کی انتظامیہ کو درست نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ترقی اور پیداوار میں اضافے کی بنیادی وجہ ترغیب ہی ہے تو کیا یہ ترغیب پبلک سیکٹر میں اپنا جادو نہیں دکھا سکتی؟ یہ سارے ڈھکوسلے محض سرمائے کی نجی ہاتھوں لوٹ مار کے لیے گھڑے ہوئے ہیں اور نجکاری کی اس نئی لہر کا آغاز میاں نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکا کے بعد ہوا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ کئی بڑے ادارے امریکی سرمایہ کاروں کو بیچے جا رہے ہیں۔ یہ ساری کرامات سرمایہ دارانہ نظام کی ہیں۔