سیکیورٹی ادارے و ضلعی انتظامیہ تجاوزات کے خاتمے میں تعاون کرے عدالت عالیہ

سپر ہائی وے اور سہراب گوٹھ پر قائم کی جانیوالی 90 فیصد تجاوزات کا خاتمہ کردیا،ایڈیشنل رجسٹرارحیدرآبادکاعدالت میں بیان

تجاوزات سے ٹریفک جام رہتا ہے،ضلعی انتظامیہ اور رینجرز اور پولیس کو تجاوزات کے خاتمے میں بلدیاتی اداروں سے تعاون کی ہدایت ، فوٹو: فائل

عدالت عالیہ نے ڈی جی رینجرز، ڈی آئی جی ایسٹ اور ڈی سی ایسٹ کو سپرہائی وے پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے انتظامیہ سے تعاون کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ایڈیشنل رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ حیدرآبادکی درخواست کی سماعت کی، عدالت کو بتایا گیا کہ سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ اور اطراف سے90 فیصد تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور بقیہ کام بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا، قبل ازیں عدالت نے حکم دیا تھا کہ سہراب گوٹھ سمیت شہر کے داخلی اور خارجی راستوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، واضح رہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ سپرہائی وے پر تجاوزات کے باعث شدید ٹریفک جام ہوجاتا ہے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، ٹریفک جام کے دوران جرائم پیشہ عناصر لوٹ مار کرتے ہیں۔




سابق چیف جسٹس مشیرعالم نے رپورٹ کو آئینی درخواست میں تبدیل کردیا تھا اس سے قبل ٹریفک پولیس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سپر ہائی وے پر زیرو پوائنٹ سے سہراب گوٹھ تک انٹر سٹی بسوں کے کائونٹرز، ٹھیلے اور پتھارے قائم ہیں الاآصف اسکوائر پر انٹرسٹی بسیں آکر رکتی ہیں جس سے ٹریفک جام ہوتا ہے، اگر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے تو امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے،2007 میں انٹرسٹی بس اڈوں کی بیرون شہر منتقلی کا فیصلہ کیا گیا تھا، پہلے مرحلے میں کوئٹہ جانے والی بسوں کا اڈہ یوسف گوٹھ منتقل کیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں دیگر بس اڈوں کو بھی بیرون شہر منتقل کیا جانا تھا لیکن متبادل جگہ فراہم نہ کیے جانے کے سبب اس پر عمل نہیں ہوسکا۔
Load Next Story