چیف الیکشن کمشنر کے نام پر اتفاق رائے

چیف الیکشن کمشنر کے نام پر اتفاق رائے

ایک خبر کے مطابق چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کے لیے معروف قانون دان فخرالدین جی ابراہیم کے نام پر اتفاق رائے کر لیا گیا ہے جو اس حوالے سے ایک خوش آیند پیش رفت ہے کہ اس سے ملکی سیاسی قوتوں میں قومی معاملات متفقہ طور پر چلانے کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے جس سے نہ صرف ملک میں جمہوریت کو فروغ ملے گا بلکہ سیاسی عمل کو بھی آگے بڑھایا جا سکے گا۔

اگرچہ موجودہ دور حکومت میں کئی معاملات اتفاق رائے سے طے کیے گئے ہیں جن میں این ایف سی ایوارڈ کی منظوری اور اٹھارہویں ترمیم بھی شامل ہے تاہم الیکشن کمشنر آف پاکستان کے نام پر حکومت و اپوزیشن کا اتفاق رائے اس آئینی ترمیم پر عمل درآمد کا آغاز قرار دیا جا سکتا ہے جس میں طے کیا گیا تھا کہ ملک میں عام انتخابات سے قبل الیکشن کمشنر اور نگران وزیر اعظم وغیرہ کا انتخاب و تقرر اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ عام انتخابات کے جو نتائج بھی سامنے آئیں گے کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا ورنہ قبل ازیں یہ ہوتا تھا کہ ملک میں منعقد ہونے والے ہر انتخاب کے بعد ہارنے والی پارٹیاں انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں اور الزام عام طور یہی ہوتا تھا کہ دھاندلی کی گئی ہے یا کرائی گئی ہے یا پھر اس سے صرف نظر کیا گیا ہے۔


اب کم از کم الزامات در الزامات کے اس سلسلے سے نجات مل جائے گی۔ فخرالدین جی ابراہیم کا نام ان قانون دانوں میں ہوتا ہے جو اپنے کردار کی وجہ سے اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ 1928میں بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں پیدا ہونے والے اور آزادی کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آ بسنے والے فخرالدین جی ابراہیم اس سے پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایسوسی ایٹ جج' سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بھی رہ سکے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کے طور خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دور حکومت یعنی 1988میں وہ سندھ کے گورنر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

ان تمام عہدوں پر اور حیثیتوں میں انھوں نے ایمانداری سے خدمات سر انجام دیں چنانچہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شفاف' غیرجانبدارانہ اور ایماندارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور اپنا تجربہ کام میں لائیں گے جس سے ملک میں سیاسی عمل کو استحکام ملے گا اور جمہوری قدروں کی جڑیں مضبوط ہو سکیں گی۔ ہمارا ملک فی زمانہ لاتعداد مسائل کا شکار ہے جن سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی ایسی ہی کمٹمنٹ اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کے انتخاب کے حوالے سے کیا گیا ہے' اس سلسلے میں قوم نے اپنی قیادت سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں جن پر پورا اترنا سیاسی قوتوں کی ذمے داری ہے' اس میں عوام کا ملک کا بھلا تو ہے ہی ان کا اپنا بھی فائدہ ہے کہ جب وہ متحد ہوں گی تو غیرجمہوری قوتوں کو آگے آنے کا موقع نہیں ملے گا یعنی ملک میں جمہوریت کی گاڑی ڈی ریل نہیں کی جا سکے گی۔
Load Next Story