سندھ پولیس سانحہ مواچھ دہشت گردی کا سراغ لگانے میں ناکام ہوگئی
گرفتاری کے دعوے دھرے رہ گئے،سی ٹی ڈی 2ماہ بعدبھی ملزمان نہ پکڑسکی،دہشتگردوں کی گرفتاری کیلیے اشتہاردیکرجان چھڑالی گئی۔
وزیراعلیٰ نے گرفتاری میں معاونت پر 50 لاکھ انعام کی منظوری دی ۔ فوٹو : فائل
سندھ پولیس 14 اگست کو بلدیہ ٹاؤن میں ہونے والی دہشت گردی کا اب تک سراغ نہیں لگاسکی۔
سی ٹی ڈی پولیس واقعے کے 2 ماہ بعد بھی ملوث عناصر کی نشاندہی میں ناکام ہے، دہشت گردوں کی گرفتاری اور ملوث عناصر کو سامنے لانے کے دعوے دھرے رہ گئے، سی ٹی ڈی حکام نے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اشتہار دے کر جان چھڑالی۔
سی ٹی ڈی حکام نے آئی جی سندھ کے حکم پر اشتہار تیار کرلیا ہے، سی ٹی ڈی حکام کے مطابق اشتہارجلد تمام اخبارات میں شائع ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ نے گرفتاری میں معاونت پر 50 لاکھ روپے انعام کی منظوری دی ہے۔
اشتہار کا متن کے مطابق 14اگست کو بلدیہ ٹاؤن میں مواچھ موڑ پر ٹرک پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا، دستی بم حملے میں خواتین اور بچوں سمیت13افراد جاں بحق اور8 زخمی ہوئے تھے گرفتاری میں معاونت کرنے والے شخص کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
اشتہار میں انچارج سی ٹی ڈی مظہر مشوانی کا موبائل فون اور دفتر کا نمبر بھی دیا گیا۔
سی ٹی ڈی پولیس واقعے کے 2 ماہ بعد بھی ملوث عناصر کی نشاندہی میں ناکام ہے، دہشت گردوں کی گرفتاری اور ملوث عناصر کو سامنے لانے کے دعوے دھرے رہ گئے، سی ٹی ڈی حکام نے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اشتہار دے کر جان چھڑالی۔
سی ٹی ڈی حکام نے آئی جی سندھ کے حکم پر اشتہار تیار کرلیا ہے، سی ٹی ڈی حکام کے مطابق اشتہارجلد تمام اخبارات میں شائع ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ نے گرفتاری میں معاونت پر 50 لاکھ روپے انعام کی منظوری دی ہے۔
اشتہار کا متن کے مطابق 14اگست کو بلدیہ ٹاؤن میں مواچھ موڑ پر ٹرک پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا، دستی بم حملے میں خواتین اور بچوں سمیت13افراد جاں بحق اور8 زخمی ہوئے تھے گرفتاری میں معاونت کرنے والے شخص کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
اشتہار میں انچارج سی ٹی ڈی مظہر مشوانی کا موبائل فون اور دفتر کا نمبر بھی دیا گیا۔