سینیٹ دہری شہریت کے حامل ججوں کے نام شائع کرنیکی قرار داد منظور

حکومت کوعملدرآمدکیلیے 2ماہ کی مہلت،آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم، منشیات پرقابوکے اقدام کی قرار دادیں منظور

میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کی قرارداددیگرجماعتوں سے مشاورت کیلیے موخرکردی گئی،فوٹو:فائل

سینیٹ نے دہری شہریت رکھنے والے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے نام شائع کرنے اورسیکرٹ ایکٹ 1923میں ترمیم سمیت 5قراردادوں کی منظوری دے دی جبکہ2قراردادوں پرغور موخرکر دیاگیا۔ سینیٹ کااجلاس پیر کوچیئرمین نیئرحسین بخاری کی صدارت میںہوا۔

پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابرنے اعلیٰ عدلیہ کے دہری شہریت کے حامل ججوں کے نام شائع کرنے کی قرارداد پیش کی۔ قائدایوان راجا ظفرالحق نے بتایاکہ سپریم کورٹ، لاہور، سندھ اورپشاور ہائی کورٹس کاکہنا ہے کہ دہری شہریت پر نااہلی کاکوئی سوال نہیں بنتا۔ جبکہ شریعت کورٹ اوربلوچستان ہائیکورٹ کاکہنا ہے کہ کوئی جج دہری شہریت کاحامل نہیں۔ ہمیں قرارداد پرکوئی اعتراض نہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ قرارداد کومتفقہ منظورتصور کیاجاتا ہے اوراسے حکومت کوبھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ 2ماہ میںاس پرعمل کرکے ایوان کوآگاہ کیاجائے۔




فرحت اللہ بابرنے آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923میں ترمیم کی قراردادبھی پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایکٹ کاسیکشن فورانتہائی مضحکہ خیزہے۔ اس میں ترمیم ہونی چاہیے۔ حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنے پر قرارداد کی متفقہ منظوری دے دی گئی۔ ایوان بالانے ملک میں منشیات پرکنٹرول کے لیے موثراقدام کرنے اور پی آئی اے کے فارنسک آڈٹ کرنے کی قرار دادیں بھی منظور کرلیں۔
Load Next Story