محاصرہ

بیسویں صدی کے دوران متعدد شہروں کے محاصرے ہوئے لیکن اس صدی کا خوف ناک ترین محاصرہ لینن گراڈ کا کہلاتا ہے

zahedahina@gmail.com

''محاصرہ'' ایک ایسا لفظ ہے کہ گفتگو یا تحریر میں آئے تو ذہن بے ساختہ قدیم تاریخ میں کارتھیج اور جدید دور کے لینن گراڈ (سینٹ پیٹرز برگ) کی طرف چلا جاتا ہے۔ دو سو برس قبل مسیح کار تھیج کو رومن افواج نے محاصرے میں لیا۔کارتھیج کے باشندوں نے 3 برس تک اس محاصرے کا مقابلہ جس شان سے کیا وہ جنگوں کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ روما کی افواج نے یہ قسم کھاکر کارتھیج کا محاصرہ کیا تھا کہ ہم اس شہر کو خاک میں ملادیں گے۔ کارتھیج 3 برس کی بے مثال مقادمت کے بعد فتح ہوا۔ اس کا ہر شہری کیا جوان،کیا بوڑھا،کیا عورت اور کیا بچہ غلام بنالیا گیا، غلام بازار میں فروخت کردیا گیا اور شہر کی ہر عمارت کو ڈھاکر اس پر سیکڑوں من نمک چھڑک دیا گیا۔ نسلوں تک وہاں گھاس کی ایک پتی اورگیہوں کی ایک بالی سر نہ اٹھا سکی۔

لینن گراڈ کا قدیم نام سینٹ پیٹرز برگ تھا، سوویت یونین کی تحلیل کے بعد ایک بار پھر اس کا پرانا نام بحال ہوچکا ہے۔ اسی شہر سے گزشتہ ہفتے یہ خبر آئی کہ وہاں نازی افواج کی پسپائی اور 872دن پر مشتمل محاصرے کے خاتمے کی 70ویں سالگرہ منائی گئی۔ روسی صدر ولادی میرپیوٹن کی تصویریں شایع ہوئیں جن میں وہ لینن گراڈ کی لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے لگ بھگ دس لاکھ شہریوں کی یادگار پر دو زانو ہوکر پھولوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ پسکارے و سکوئی قبرستان میں ان ہلاک شدگان کی 186اجتماعی قبریں ہیں جو قطار در قطار دور تک چلی گئی ہیں۔ اس قبرستان میں کانسی کا ایک بلند و بالا مجسمہ اس غم زدہ عورت کا ہے جسے مادر وطن کا نام دیا گیا ہے۔ وہاں ایک ابدی شعلہ روشن ہے جو ہلاک ہونے والوں کی یاددلاتا رہتا ہے۔

یہ لینن گراڈ کے وہ شہری تھے جنہو ں نے سوویت سپاہیوں کے شانہ بشانہ بھوک، پیاس اور نازی افواج کی بمباری اور گولہ باری سہی، جن کے گھر ملیا میٹ ہوئے اور ہزاروں کی قبریں ان کے مسمار ہوجانے والے گھروں کے ملبے میں بنیں، بھوک نے انھیں چوہے، بلیاں اور دوسرے جاندار کھانے پر مجبور کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے ہلاک ہوجانے والوں کی لاشوں سے اپنی بھوک مٹائی۔ منفی 30 سینٹی گریڈ پر مٹی کے تیل اور گیس سے محروم شہریوں نے مہینوں صرف 125گرام ڈبل روٹی کے یومیہ راشن پرگزارا کیا۔ شیر خوار بچے دودھ کے لیے بلکتے رہے، بوڑھے اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے اپنے بچوں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھتے رہے لیکن ان تمام اذیتوں اور سختیوں سے گزرتے ہوئے کسی نے بھی ہتھیار ڈالنے کا تصور تک نہیں کیا۔

اس سر بلند شہر کے رہنے والے آج تک اولگا برغولز کو نہیں بھولے جو صحافی تھی، شعر کہتی تھی، ریڈیو کے لیے پروگرام کرتی تھی۔ او لگانے زندگی کے 872دن لینن گراڈ کے محاصرے میں گزارے۔ شہر پر جرمن طیارے بمباری کرتے تھے، شہر کی فصیل سے پرے جرمن توپیں محصورین پر گولے برساتی تھیں۔ اس نازک زمانے میں لینن گراڈ کے ریڈیو اسٹیشن سے اولگا اپنی شاعری، حکایتوں اور تقریروں سے شہریوں کا دل بڑھاتی۔ مادر وطن سے غداری نہیں کی جاسکتی تھی۔ ہٹلر کی بھیجی ہوئی نازی فوجوں کو فتح کے ذائقے سے آشنا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اولگا کی آواز اس محصور شہرکے لوگوں کے لیے منارہ نور بن گئی، یہ آواز ان کے دلوں کو گرماتی، ان کی اندھیری راتوں کو روشن کرتی اور انھیں آنے والے اچھے دنوں کا یقین دلاتی۔ ابھی ایسے بہت سے لوگ زندہ ہیں جنہوں نے بچپن میں اس کی آواز سنی تھی۔ وہ آج اس کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔

یوں تو لینن گراڈ کے ہلاک شدگان کی یاد ہر سال منائی جاتی ہے لیکن اس یاد کی 70ویںسالگرہ اس حوالے سے خاص اہمیت اختیار کرگئی کہ اس مرتبہ جرمن صدر نے روسی صدر کو ایک خط بھیجا ہے جس میں جرمن قوم کی طرف سے لینن گراڈ کے محاصرے پر گہرے رنج و الم اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے خط میں انھوں نے لکھا کہ جرمنی اپنی تاریخی ذمے داری قبول کرتا ہے۔ لینن گراڈ کا تحفظ کرنے والی سوویت افواج اور اس کے شہریوں پر جرمن سپاہیوں،کمانڈو دستوں اور خفیہ ایجنسیوں نے جو ستم توڑے ہم اس پر شرمسار ہیں۔ جرمن صدر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی فوجوں نے محاصرے کے دوران شہریوں کے لیے خوراک کی رسد بند کرکے اس عمل کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ ایک سفاک فوجی حکمت عملی تھی۔ اس پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔

بیسویں صدی کے دوران دو عظیم جنگیں لڑی گئیں، متعدد شہروں کے محاصرے ہوئے لیکن اس صدی کا خوف ناک ترین محاصرہ لینن گراڈ کا کہلاتا ہے، لینن گراڈ ہم سے ہزاروں میل دور ہے، لیکن اس شہر کے محاصرے سے ہمارا بھی ایک رشتہ ہے۔ یہ جملہ یقیناآپ کو حیران کرے گا۔ اس حوالے سے یہ عرض کروں کہ یہ رشتہ ہمارے محبوب اور مقبول شاعر فیض احمد فیض نے قائم کیا تھا جنھیں لینن امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ فیض صاحب کی ایک شارح سابق سوویت یونین اور حالیہ روس کی دانشور اور اردو ادیب لدمیلاوسیلیوا نے فیض صاحب کے اس سفر کے بارے میں لکھا ہے جب وہ لینن گراڈ گئے تھے۔ یہ 1976 کی بات ہے جب فیض لینن گراڈ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک روز وہ اس قبرستان میں گئے جہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں اور شہریوں کی اجتماعی قبریں تھیں۔ انھوں نے کانسی میں ڈھلی ہوئی سوگوار مادر وطن، کے قدموں میں پھول چڑھائے۔ اس اجتماعی قبرستان میں دس لاکھ کے لگ بھگ انسانوں کی علامتی قبروں نے فیض جیسے حساس اور پُردرد دل رکھنے والے شاعر کی آنکھوں کو نم اور دل کو اتنا بوجھل اور مضطرب کیا کہ انھوں نے برجستہ ایک نظم کہی جو ''لینن گراڈ کا گورستان'' کے عنوان سے ان کے مجموعے ''شامِ شہرِیاراں'' میں شامل ہے۔

سرد سلوں پر
زرد سلوں پر

تازہ گرم لہو کی صورت
گلدستوں کے چھینٹے ہیں
کتبے سب بے نام ہیں لیکن
ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے
غافل سونے والے کا
یاد میں رونے والے کا
اپنے فرض سے فارغ ہوکر
اپنے لہو کی تان کے چادر
سارے بیٹے خواب میں ہیں
اپنے غموں کا ہار پُروکر
اماں اکیلی جاگ رہی ہے

''جنگ'' جس کے نقش و نگار ہمارے یہاں روپہلے اور سنہرے رنگوں سے بنائے جاتے ہیں، وہ اپنے جلو میں انسانوں ، ان کی بستیوں، ان کے سبزہ زاروں اور ان کی تہذیبی علامتوں کے لیے کیسی بھیانک تباہیاں لاتی ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں تاریخ کے ورق الٹنے پڑتے ہیں۔ انسان کس طرح اپنے ہی جیسے انسانوں پر جہنم کے در کھولتا ہے، اس کی ایک جھلک ہمیں لینن گراڈ کے اس قبرستان میں بھی نظر آتی ہے۔

کئی برس سے ہمارے کئی شہر اور ان گنت بستیاں حالت جنگ میں ہیں۔ دیدہ و نادیدہ سپاہ کے محاصرے نے لاکھوں انسانوں کو در بہ در کردیا ہے، کروڑوں اس جنگ کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ ہمارے ہزاروں فوجی اور شہری گم نام قبروں میں سو رہے ہیں اور ان کی منتظر مائیں ایک ایسے الم ناک انتظار میں مبتلا ہیں، جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ایسے زمانے میں لینن گراڈ کے اس قبرستان کو کیوں نہ یاد کیا جائے جس سے ہمارا رشتہ فیض صاحب کے اشعار نے قائم کیاتھا۔ ایک ایسے پُر آشوب دور میں ہم اپنے لوگوں اور اپنی بستیوں کے لیے امن کے طلب گار کیوں نہ ہوں۔ لیکن یہ امن ہماری آزادی، خود مختاری اور خوب صورت خوابوں کی قیمت پر قائم نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اس وقت محاصرے میں ہیں اور شاید ہمارے لیے محاصرے کے یہ دن ابھی طویل ہوں گے۔
Load Next Story