بلوچستان میں کیا ہوگا
ایک کشمکش، متضاد بیانات، اپوزیشن سے مقابلہ کی کیا ضرورت تھی؟
ایک کشمکش، متضاد بیانات، اپوزیشن سے مقابلہ کی کیا ضرورت تھی؟ فوٹو: فائل
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے ایک روز قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیراعلیٰ کے استعفیٰ کے بعد صوبائی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں جام کمال نے کہا کہ گزشتہ روز ہمارے پورے اتحاد نے ملاقات کی اور پوری صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
پچھلے ایک ماہ کے دوران جو سازشیں ہوئیں اور جو چیلنجز سامنے آئے ہمارے ارکان اسمبلی نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، الحمد اللہ ہم ٹوٹے نہیں بالا آخر مکمل مشاورت کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ پی ڈی ایم ہمیں مزید نقصان نہ پہنچائے۔
جام کمال خان نے ایک صائب فیصلہ کیا، مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ وہ شیکسپیئر کے چار ڈراموں جیسے سسپنس سے پہلے کرلیتے تو کیا برا تھا، ایک کشمکش، متضاد بیانات، اپوزیشن سے مقابلہ کی کیا ضرورت تھی؟ جام کمال 18 اگست 2018 کو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے تھے۔ استعفے کے بعد تحریک عدم اعتماد کی کارروائی ختم ہو جائے گی۔
ذرایع کے مطابق اگلے مرحلے میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کا شیڈول جلد جاری کیا جائیگا ۔ بلوچستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ المیوں کی سیاست سے نیم جان ہے، شورشوں ، جمہوری محاذ آرائیوں اور قبائلی معرکہ آرائیوں سے عوام کو کیا ملا، جو لوگ پہاڑوں پر چلے گئے ان کی علیحدگی پسندی اور ریاست سے ٹکرانے کی پالیسیوں نے بھی بلوچستان کے عوام کو کوئی سکھ نہیں دیا ، غربت لمبی مدت سے بلوچستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، جمہوری دور بھی آئے۔
جام غلام قادرکا دور نسبتاً ایک ایسا دور تھا جس میں عوام کو ایک جمہوری اور پاور سسٹم سے جڑے رہنے کا موقع ملا۔ گرم پانیوں کے تعاقب میں بڑی طاقتوں نے بلوچستان کو اپنی مفادات کے لیے کبھی چین سے رہنے نہیں دیا ، پورے صوبے کو قبائلیت ، جمہوریت اور آمریت کے درمیان سسٹم '' یوسف بے کارواں'' بنا رہا۔ سیاسی کشمکش، قبائلی تنازعات اور سیاست دانوں کی سردارانہ رعونت، غیر جمہوری رویے، سیاسی جوڑ توڑ، مفادات اور کرپشن نے بلوچستان کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے سے بلوچستان پر عالمی طاقتوں کی حریصانہ نظریں لگی ہوئی تھیں،In the Afghanistan shadow Baluch nationalism and Soviet Temtation میں بلوچستان کے ممتاز سیاسی رہنماؤں سے طویل انٹرویوز کیے ، سردار عطاء اللہ مینگل ، نواب اکبر بگٹی، سردار شیر باز مزاری، سردار خیر بخش مری، شیر محمد مری عرف (جنرل شیروف) سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں اور مینگل، مری، بگٹی بلوچ سیاست دانوں کے خیالات کا حوالہ دیا، اس تحقیقی کتاب نے بڑی دھوم مچائی تھی لیکن آج کی پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ وہ بلوچستان کہیں کھو گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں بلوچ سیاست دان، سیاسی بصیرت اور مکالمہ کے حوالے سے اپنی ایک شناخت رکھتے تھے۔ شیر باز مزاری کی دو منزلہ نجی لائبریری ان کے سیاسی و ادبی ذوق کی نمایندگی کرتی تھی، وہ بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو، اکبر بگٹی کے ساتھ مل کر بلوچستان بحران کا پر امن جمہوری حال تلاش کرسکتے تھے، انھیں بد قسمتی سے سیاسی حریفوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکالمہ کے موقع کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا، سیاسی ماحول گرم زمین کی طرح تپتا رہا۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ناراض بلوچ رہنماؤں سے ملاقات اور مکالمہ کی خواہش کی تھی، صوبہ میں امن و امان کی بہتری اور بلوچ سیاستدانوں سے دوستی اور مفاہمت کا ہاتھ بڑھا تھا مگر صوبہ کے سیاست دانوں میں ہونے والی محاذ آرائی پسند عناصر نے یہ موقع ضایع کردیا۔
حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بلوچستان کے سیاسی اختلافات کی تپش بنیادی مسئلہ ہے، مفادات کی جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، حقیقت میں جام کمال خان کو اندازہ تھا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک خالی خولی دھمکی نہیں، سیاسی حریفوں کے مقاصد تبدیلی کے ذریعے صوبہ میں امن وامان اور ترقی کی بحالی تھی مگر بلوچستان کی سیاسی تاریخ '' میر کیا سادہ ہیں'' سے زیادہ پیچیدہ ، مشکل اور مفادات وکرپشن سے لتھڑی ہوئی ہے۔
بدامنی، دہشت گردی بلوچستان کا سنگین مسئلہ ہے، جب کہ شفافیت، اچھی حکمرانی کی تمنا عوام کی دلی خواہش ہے، وہ ایک جمہوری فضا میں سانس لینے کے متمنی ہیں، اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے سے دل گرفتہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی و سماجی اور معاشی نظام کی خرابی اور بربادی میں سیاسی چہروں کی شناخت مشکل ہے، بلوچستان ایک پولیٹیکل اسٹرکچرل بحران میں پھنسا ہے، بات وزیر اعلیٰ جام خان کی حکومت کے خاتمے کی نہیں بلکہ اس بڑے سوال کاہے کہ جام کے بعد مسائل کا نئی حکومت کے پاس کیا حل ہے، بلوچستان کے سیاسی رہنما جہاں دیدہ، سیاسی شعور اور صوبہ کی سیاسی صورتحال کی گمبھیرتا سے گہری آشنائی رکھتے ہیں، آخر وزیراعظم عمران خان بلوچوں سے مکالمہ کیے بغیر خاموش کیوں ہوگئے۔
کیا سیاسی طاقتوں نے انھیں الجھا دیا، دوسری طرف بلوچستان کے عوام کی غربت، پسماندگی، ناخواندگی اور بیروزگاری کا مناسب حل کیا ہے، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صوبہ کے عوام تک مراعات، امداد اور پیکیجز کے ثمرات کیوں نہیں پہنچتے۔ ان کی زندگی کے حالات کیوں نہیں بدلتے، صوبے کے انفرا اسٹرکچر اور تعلیمی، سماجی اور صحت کے مسائل کا حل کرنا کس کی ذمے داری ہے، لیکن جب صوبے میں خلفشار، افراتفری، بے یقینی اور دہشتگردی کی جو لہریں اٹھتی ہیں اس کو روکنے کے لیے اسٹیک ہولڈرزکب سر گرمی سے قانون پر عملدرآمد کے لیے تیار ہونگے۔
میڈیا کے مطابق بلوچستان میں داعش فعال ہے، اس سے نظریں ہٹانا ایک سنگین مغالطہ ہوگا، پاکستان کی سلامتی اور بلوچستان میں امن کا قیام جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں، رجائیت پسند سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ اقتدار اور لالچ کے بھوکے اپنا شوق بھی پورا کرلیں، بلوچستان میں تبدیلی پاکستان کی سیاست میں نئے دور کا آغاز ہوگی لیکن صوبے کی ترقی میں نقصان کی ساری ذمے داری پی ڈی ایم، پی ٹی آئی اور بی اے پی کے ساتھ وفاق کے کچھ سمجھدار اور ذمے دار افراد، بی اے پی (ناراض گروپ) اور مافیاز پر عائد ہوگی۔
جام کمال نے کہا کہ بہت سی سیاسی رکاوٹوں کے باوجود بلوچستان کی ترقی کے لیے اپنا وقت اور توانائی صرف کی۔ جام کمال نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ اپنے اطراف میں موجود لوگوں پر نظر ڈالیں۔
بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی ہوا کا ایک جھونکا تب نوید لائے گا جب پاور سٹرکچر اور سیاسی میں ''تو چل میں آیا''کی روایت کا خاتمہ ہوگا، بلوچستان کے عوام کوایک آزادانہ جمہوری اور انسانی ماحول میں ملک کے دیگر صوبوں کے ہمدوش چلنا چاہیے، ان کے سیاسی رہنماؤں کو عوام کے دکھ درد کا ادراک کرنا ہوگا، بلوچستان کی سیاست میں ٹھہراؤ، تدبر، رواداری اور استحکام کی ضرورت ہے۔ صبر و تحمل کے ساتھ بلوچستان کے مسائل کا کوئی پائیدار حل ڈھونڈنا مشکل ضرور ہے ، مگر ناممکن نہیں۔
پچھلے ایک ماہ کے دوران جو سازشیں ہوئیں اور جو چیلنجز سامنے آئے ہمارے ارکان اسمبلی نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، الحمد اللہ ہم ٹوٹے نہیں بالا آخر مکمل مشاورت کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ پی ڈی ایم ہمیں مزید نقصان نہ پہنچائے۔
جام کمال خان نے ایک صائب فیصلہ کیا، مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ وہ شیکسپیئر کے چار ڈراموں جیسے سسپنس سے پہلے کرلیتے تو کیا برا تھا، ایک کشمکش، متضاد بیانات، اپوزیشن سے مقابلہ کی کیا ضرورت تھی؟ جام کمال 18 اگست 2018 کو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے تھے۔ استعفے کے بعد تحریک عدم اعتماد کی کارروائی ختم ہو جائے گی۔
ذرایع کے مطابق اگلے مرحلے میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کا شیڈول جلد جاری کیا جائیگا ۔ بلوچستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ المیوں کی سیاست سے نیم جان ہے، شورشوں ، جمہوری محاذ آرائیوں اور قبائلی معرکہ آرائیوں سے عوام کو کیا ملا، جو لوگ پہاڑوں پر چلے گئے ان کی علیحدگی پسندی اور ریاست سے ٹکرانے کی پالیسیوں نے بھی بلوچستان کے عوام کو کوئی سکھ نہیں دیا ، غربت لمبی مدت سے بلوچستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، جمہوری دور بھی آئے۔
جام غلام قادرکا دور نسبتاً ایک ایسا دور تھا جس میں عوام کو ایک جمہوری اور پاور سسٹم سے جڑے رہنے کا موقع ملا۔ گرم پانیوں کے تعاقب میں بڑی طاقتوں نے بلوچستان کو اپنی مفادات کے لیے کبھی چین سے رہنے نہیں دیا ، پورے صوبے کو قبائلیت ، جمہوریت اور آمریت کے درمیان سسٹم '' یوسف بے کارواں'' بنا رہا۔ سیاسی کشمکش، قبائلی تنازعات اور سیاست دانوں کی سردارانہ رعونت، غیر جمہوری رویے، سیاسی جوڑ توڑ، مفادات اور کرپشن نے بلوچستان کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے سے بلوچستان پر عالمی طاقتوں کی حریصانہ نظریں لگی ہوئی تھیں،In the Afghanistan shadow Baluch nationalism and Soviet Temtation میں بلوچستان کے ممتاز سیاسی رہنماؤں سے طویل انٹرویوز کیے ، سردار عطاء اللہ مینگل ، نواب اکبر بگٹی، سردار شیر باز مزاری، سردار خیر بخش مری، شیر محمد مری عرف (جنرل شیروف) سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں اور مینگل، مری، بگٹی بلوچ سیاست دانوں کے خیالات کا حوالہ دیا، اس تحقیقی کتاب نے بڑی دھوم مچائی تھی لیکن آج کی پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ وہ بلوچستان کہیں کھو گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں بلوچ سیاست دان، سیاسی بصیرت اور مکالمہ کے حوالے سے اپنی ایک شناخت رکھتے تھے۔ شیر باز مزاری کی دو منزلہ نجی لائبریری ان کے سیاسی و ادبی ذوق کی نمایندگی کرتی تھی، وہ بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو، اکبر بگٹی کے ساتھ مل کر بلوچستان بحران کا پر امن جمہوری حال تلاش کرسکتے تھے، انھیں بد قسمتی سے سیاسی حریفوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکالمہ کے موقع کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا، سیاسی ماحول گرم زمین کی طرح تپتا رہا۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ناراض بلوچ رہنماؤں سے ملاقات اور مکالمہ کی خواہش کی تھی، صوبہ میں امن و امان کی بہتری اور بلوچ سیاستدانوں سے دوستی اور مفاہمت کا ہاتھ بڑھا تھا مگر صوبہ کے سیاست دانوں میں ہونے والی محاذ آرائی پسند عناصر نے یہ موقع ضایع کردیا۔
حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بلوچستان کے سیاسی اختلافات کی تپش بنیادی مسئلہ ہے، مفادات کی جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، حقیقت میں جام کمال خان کو اندازہ تھا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک خالی خولی دھمکی نہیں، سیاسی حریفوں کے مقاصد تبدیلی کے ذریعے صوبہ میں امن وامان اور ترقی کی بحالی تھی مگر بلوچستان کی سیاسی تاریخ '' میر کیا سادہ ہیں'' سے زیادہ پیچیدہ ، مشکل اور مفادات وکرپشن سے لتھڑی ہوئی ہے۔
بدامنی، دہشت گردی بلوچستان کا سنگین مسئلہ ہے، جب کہ شفافیت، اچھی حکمرانی کی تمنا عوام کی دلی خواہش ہے، وہ ایک جمہوری فضا میں سانس لینے کے متمنی ہیں، اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے سے دل گرفتہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی و سماجی اور معاشی نظام کی خرابی اور بربادی میں سیاسی چہروں کی شناخت مشکل ہے، بلوچستان ایک پولیٹیکل اسٹرکچرل بحران میں پھنسا ہے، بات وزیر اعلیٰ جام خان کی حکومت کے خاتمے کی نہیں بلکہ اس بڑے سوال کاہے کہ جام کے بعد مسائل کا نئی حکومت کے پاس کیا حل ہے، بلوچستان کے سیاسی رہنما جہاں دیدہ، سیاسی شعور اور صوبہ کی سیاسی صورتحال کی گمبھیرتا سے گہری آشنائی رکھتے ہیں، آخر وزیراعظم عمران خان بلوچوں سے مکالمہ کیے بغیر خاموش کیوں ہوگئے۔
کیا سیاسی طاقتوں نے انھیں الجھا دیا، دوسری طرف بلوچستان کے عوام کی غربت، پسماندگی، ناخواندگی اور بیروزگاری کا مناسب حل کیا ہے، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صوبہ کے عوام تک مراعات، امداد اور پیکیجز کے ثمرات کیوں نہیں پہنچتے۔ ان کی زندگی کے حالات کیوں نہیں بدلتے، صوبے کے انفرا اسٹرکچر اور تعلیمی، سماجی اور صحت کے مسائل کا حل کرنا کس کی ذمے داری ہے، لیکن جب صوبے میں خلفشار، افراتفری، بے یقینی اور دہشتگردی کی جو لہریں اٹھتی ہیں اس کو روکنے کے لیے اسٹیک ہولڈرزکب سر گرمی سے قانون پر عملدرآمد کے لیے تیار ہونگے۔
میڈیا کے مطابق بلوچستان میں داعش فعال ہے، اس سے نظریں ہٹانا ایک سنگین مغالطہ ہوگا، پاکستان کی سلامتی اور بلوچستان میں امن کا قیام جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں، رجائیت پسند سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ اقتدار اور لالچ کے بھوکے اپنا شوق بھی پورا کرلیں، بلوچستان میں تبدیلی پاکستان کی سیاست میں نئے دور کا آغاز ہوگی لیکن صوبے کی ترقی میں نقصان کی ساری ذمے داری پی ڈی ایم، پی ٹی آئی اور بی اے پی کے ساتھ وفاق کے کچھ سمجھدار اور ذمے دار افراد، بی اے پی (ناراض گروپ) اور مافیاز پر عائد ہوگی۔
جام کمال نے کہا کہ بہت سی سیاسی رکاوٹوں کے باوجود بلوچستان کی ترقی کے لیے اپنا وقت اور توانائی صرف کی۔ جام کمال نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ اپنے اطراف میں موجود لوگوں پر نظر ڈالیں۔
بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی ہوا کا ایک جھونکا تب نوید لائے گا جب پاور سٹرکچر اور سیاسی میں ''تو چل میں آیا''کی روایت کا خاتمہ ہوگا، بلوچستان کے عوام کوایک آزادانہ جمہوری اور انسانی ماحول میں ملک کے دیگر صوبوں کے ہمدوش چلنا چاہیے، ان کے سیاسی رہنماؤں کو عوام کے دکھ درد کا ادراک کرنا ہوگا، بلوچستان کی سیاست میں ٹھہراؤ، تدبر، رواداری اور استحکام کی ضرورت ہے۔ صبر و تحمل کے ساتھ بلوچستان کے مسائل کا کوئی پائیدار حل ڈھونڈنا مشکل ضرور ہے ، مگر ناممکن نہیں۔