ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا خاتمہ
ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا خاتمہ
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ان ڈور اور آوٹ ڈور سروسز بحال کرنے کا اعلان اور اس حوالے سے جاری عدالتی کارروائی کے بعد مزید لائحہ عمل طے کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ اس طویل ہڑتال کا خاتمہ خوش آیند ہے' اس طرح مریضوں اور ان کے لواحقین کی ان مشکلات کا خاتمہ ہو گیا ہے جن سے وہ گزشتہ تین ہفتوں سے دوچار تھے۔ مریضوں کا یہ شکوہ اپنی جگہ بجا ہے کہ حکومت اگر بروقت توجہ دیتی تو یہ معاملہ کافی پہلے بھی طے ہو سکتا تھا۔ جہاں تک ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات کا تعلق ہے تو ان پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا' ان کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے
کیونکہ وائے ڈی اے کی جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد صدر ڈاکٹر حامد بٹ اور ترجمان ڈاکٹر ناصر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سروس اسٹرکچر کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی' انسانی جان بچانا ان کی پہلی ترجیح ہے لیکن انھیں مجبور کرکے ہڑتالوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ واضح ہے کہ اگر حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر غور نہ کیا تو حالات ایک بار پھر خراب ہو سکتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ گرفتار ڈاکٹرز کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔
ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈاکٹروں کے حقوق کے لیے لیگل ٹیم تشکیل دی جائے گی' ہڑتال کے دوران بھرتی کیے گئے ڈاکٹروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے پر بھی توجہ دینا چاہیے۔ اسی طرح ینگ ڈاکٹرز کے اس شکوے کا ازالہ بھی ہونا چاہیے کہ تاحال مختلف علاقوں میں ڈاکٹرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور جھوٹی ایف آئی آرز کاٹی جا رہی ہیں۔ امید کی جاتی ہے حکومت ینگ ڈاکٹرز سمیت دیگر سبھی اداروں اور محکموں کے ساتھ رابطے میں رہے گی تاکہ ان کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کے بروقت حل کی مناسب کوشش کی جا سکے۔
یہ ان اداروں کی کارکردگی بہتر رکھنے اور عوام کے مسائل حقیقی طور پر حل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ بہرحال ینگ ڈاکٹرز سے بھی امید کی جاتی ہے کہ وہ آیندہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے پُرامن راستے کا انتخاب کریں گے اور اپنے بنیادی فرض سے غفلت کے مرتکب نہیں ہوں گے۔
کیونکہ وائے ڈی اے کی جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد صدر ڈاکٹر حامد بٹ اور ترجمان ڈاکٹر ناصر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سروس اسٹرکچر کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی' انسانی جان بچانا ان کی پہلی ترجیح ہے لیکن انھیں مجبور کرکے ہڑتالوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ واضح ہے کہ اگر حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر غور نہ کیا تو حالات ایک بار پھر خراب ہو سکتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ گرفتار ڈاکٹرز کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔
ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈاکٹروں کے حقوق کے لیے لیگل ٹیم تشکیل دی جائے گی' ہڑتال کے دوران بھرتی کیے گئے ڈاکٹروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے پر بھی توجہ دینا چاہیے۔ اسی طرح ینگ ڈاکٹرز کے اس شکوے کا ازالہ بھی ہونا چاہیے کہ تاحال مختلف علاقوں میں ڈاکٹرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور جھوٹی ایف آئی آرز کاٹی جا رہی ہیں۔ امید کی جاتی ہے حکومت ینگ ڈاکٹرز سمیت دیگر سبھی اداروں اور محکموں کے ساتھ رابطے میں رہے گی تاکہ ان کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کے بروقت حل کی مناسب کوشش کی جا سکے۔
یہ ان اداروں کی کارکردگی بہتر رکھنے اور عوام کے مسائل حقیقی طور پر حل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ بہرحال ینگ ڈاکٹرز سے بھی امید کی جاتی ہے کہ وہ آیندہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے پُرامن راستے کا انتخاب کریں گے اور اپنے بنیادی فرض سے غفلت کے مرتکب نہیں ہوں گے۔