پلیئرزسہل پسندی کا شکار پاکستانی ٹیم عرش سے فرش پرواپس آگئی

تیسرے ٹی 20 میں آسٹریلیا کیخلاف74 پر آئوٹ ہوکر رسوائی کی نئی داستان رقم کردی

عمران نذیر صرف ایک رن بناکر مچل اسٹارک کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے. فوٹو: اے ایف پی

آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ٹوئنٹی 20 میں بدترین شکست کے بعد پاکستانی ٹیم عرش سے فرش پر واپس آ گئی۔

گرین شرٹس نے 74 رنز پر آئوٹ ہوکر رسوائی کی نئی داستان رقم کردی،94 رنز کی بدترین شکست کا شرمناک ریکارڈ بھی درج ہو گیا، سیریز جیتنے کے بعد سہل پسندی کا ٹیم کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا، ناصر جمشید نے سب سے زیادہ 17 رنز بنائے، 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں ہی نہیں پہنچ پائے، مچل اسٹارک اور پیٹ کمنز نے تین،تین وکٹیں لیں۔اس سے پہلے آسٹریلیا نے 7 وکٹ پر 168 رنز بنائے، ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن نے11 چھکوں کی مدد سے ٹیم کو ریکارڈ 111 کا آغاز فراہم کیا، وارنر نے 59 اور واٹسن نے 47 رنز اسکور کیے، آخری 9.2 اوورز میں 6 وکٹ پر 57 رنز بن پائے، شعیب ملک اور رضا حسن کو ایک ایک اوور میں تین، تین چھکے پڑے، یاسر عرفات، سعید اجمل اور عمرگل نے دو،دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کیخلاف ابتدائی 2 ٹوئنٹی 20 میچز جیتنے کے بعد آسمان پر پہنچنے والی پاکستانی ٹیم کو آخری مقابلے میں ایسی رسوا کن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جو اسے فرش پر واپس لے آئی، 169 رنزکا تعاقب کرنے والی سائیڈ19.1 اوورز میں 74 رنز پر آئوٹ ہوگئی، یہ اس فارمیٹ میں گرین شرٹس کی بدترین کارکردگی ہے اس سے قبل سب سے کم اسکور 89 رنز2007 میں انگلینڈ کے خلاف کارڈف میں بنایا تھا۔


پیر کو کھیلے گئے میچ میں عمران نذیر صرف ایک رن بناکر مچل اسٹارک کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے، کپتان محمد حفیظ کی9 رنز پر رخصتی ہوئی،کرسٹیان نے شارٹ ایکسٹرا کور پر پیٹ کمنز کی گیند پر کیچ لیا، اسی اوور کی پانچویں گیند پر شعیب ملک بغیر کھاتہ کھولے بولڈ ہوگئے ، کامران اکمل بھی صفر کی خفت سے دوچار ہوئے، انھوں نے مڈ آف پر واٹسن کو کیچ اور اسٹارک کو وکٹ کا تحفہ پیش کیا، واٹسن نے مائیک ہسی کی مدد سے عمر اکمل کو دو رنز پر چلتا کیا۔

36 کے مجموعی اسکور پر ناصر جمشید 17رنز بناکرایکسٹرا کور پر بیلی کا کیچ بنے، کامیاب بولر میکسویل تھے، بریڈ ہوگ کی گیند پر وائٹ کا کیچ بننے سے قبل یاسر عرفات نے 15 رنز بنائے، عمرگل (3) رن آئوٹ ہوئے، عبدالرزاق 13 رنز پر کمنز کا شکار ثابت ہوئے، کیچ متبادل فیلڈر ڈیوڈ ہسی نے تھاما، 74 کے مجموعے پر آخری وکٹ سعید اجمل (1) کی گری انھیں اسٹارک نے بولڈ کیا۔ قبل ازیں آسٹریلوی اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو 111 رنز کا انتہائی مضبوط آغاز فراہم کیا، دونوں نے مشترکہ طور 11 چھکے جڑے، وارنر نے 34 گیندوں پر 6 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 59 رنز اسکور کیے جبکہ واٹسن نے 5 چھکے اور ایک چوکا لگاتے ہوئے 32 گیندوں پر 47 کی اننگز کھیلی، یہ ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں کسی بھی وکٹ کیلیے آسٹریلیا کی سب سے بڑی شراکت ہے۔

ابتدائی 7 اوورز میں 50 رنز اسکور کرنے والی اس جوڑی نے آٹھویں اوور میں یکدم رفتار تیز کی جب شین واٹسن نے شعیب ملک کو 3 فلک بوس چھکے جڑے، دوسرے اینڈ سے وارنر نے اگلے اوور میں لیفٹ آرم اسپنر رضا حسن کی گیندوں پر بھی تین چھکے لگائے، سیریز کے کامیاب ترین بولر سعید اجمل کو بھی دو چھکوں کا سامنا کرنا پڑا، اوپنرز نے صرف 19 گیندوں کے دوران 9 چھکے لگائے یوں آسٹریلیا کے اگلے 50 رنز صرف 15 گیندوں پر سامنے آئے۔ سہیل تنویر کی جگہ پلیئنگ الیون میں جگہ پانے والے یاسر عرفات نے اس خطرناک جوڑی کا خاتمہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کے آسمان پر جاتے رن ریٹ کو بریک لگائی، ان کی شارٹ پچ بال واٹسن کے بیٹ کے آخری کونے سے ٹکرا کر شارٹ فائن لیگ کی جانب گئی جہاں پر عمرگل کیچ کیلیے تیار تھے، اگلے اوورمیں یاسر نے وارنر کو بھی پویلین واپس بھیج دیا۔

اس مرتبہ کیچ محمد حفیظ نے تھاما، ان دونوں بیٹسمینوں کے میدان بدر ہوتے ہی آسٹریلیا کے رنز بنانے کی رفتار انتہائی سست پڑگئی، اس طرح آخری 9.2 اوورز میں 6 وکٹ پر 57 رنز بن پائے، گلین میکسویل نے 20 گیندوں پر 27 رنز اسکور کرکے ٹیمپو برقرار رکھنے کی کوشش کی، ان کی اننگز ایک چھکے اور 3 چوکوں سے مزین تھی، انھیں رضا حسن نے ڈیپ مڈ وکٹ پر موجود ناصر جمشید کی مدد سے آئوٹ کیا۔ کپتان جارج بیلی (3) اور مائیک ہسی (12) کو سعید اجمل نے بولڈ کیا، اس دوران وائٹ نے بغیر کھاتہ کھولے عمر گل کی گیند کو لانگ آن پر موجود عمراکمل کے ہاتھوں میں پہنچا دیا، 167 پر گرنے والی ساتویں وکٹ کرسٹیان کی تھی جو 3 رنز پر عمرگل کی گیند پر وکٹ کیپر کامران اکمل کا کیچ بنے، یاسر، عمرگل اور سعید اجمل نے دو،دو وکٹیں لیں۔
Load Next Story