ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود دہشت گردی کے واقعات بڑھ گئے
9 روز میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے2سب انسپکٹر ،اے ایس آئی اور 3 پولیس اہلکاروں سمیت 22 افرادکوہلاک کردیا
شہر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ فوٹو : ایکسپریس/فائل
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی کے باوجود شہر میں موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرز آزادانہ شہریوں اور پولیس افسران و اہلکاروں کو چن چن قتل کررہے ہیں۔
پابندی کے 9 روز کے دوران مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے 2 سب انسپکٹر ، ایک اے ایس آئی اور3پولیس اہلکاروں سمیت 22 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ، پولیس افسر سمیت درجنوں افراد زخمی کردیے گئے ، ڈبل سواری کی پابندی کے باعث ہزاروں شہری روزانہ بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کررہے ہیں ، موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرزشہر میں گھوم رہے ہیں ،شہریوں کا کہنا ہے کہ تمام پابندیاں اور قانون صرف امن پسند عوام کے لیے ہے جبکہ حکومت پولیس کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے پہلا ہتھیار موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کر کے استعمال کرتی ہے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پابندی کا اطلاق ٹارگٹ کلرز پر نہیں ہوتا اور وہ کھلے عام اس پابندی کی دھجیاں اڑا کر پولیس اور رینجرز کی رٹ کو نہ صرف چیلنج کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں بلکہ اپنی موجودگی کا بھی احساس دلاتے رہتے ہیں۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے 26 جنوری کی شب 12 بجے شہر میں ایک ماہ کے لیے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد کی گئی جس کے اعلان پر شہری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اوانھوں نے اس پابندی کو سراسر شہریوں کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی قرار دیا تھا ، پابندی کے اطلاق کو ابھی 12 گھنٹے ہی نہیں گزرے تھے کہ 27 جنوری کی صبح تھانہ پیر آباد کے علاقے اسلامیہ کالونی میں 2 سگے بھائیوں محمد ریاض اور ابراہیم سمیت 4 افراد کو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ، 28 جنوری کو لیاقت آباد اور نیپئر میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے 2 افراد مارے گئے ، 29 جنوری کو بریگیڈ اور کھارادر میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے 2 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ، 30 جنوری کو اورنگی ٹاؤن سیکٹر 16 گلشن بہار میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے اے ایس آئی منظور حسین جاں بحق ہوا۔
منگھوپیر میں اکبر ، قائد آباد میں کار پر فائرنگ سے شفاعت جاں بحق اوردوست زخمی ہوا، گلبرگ میں شادی کی تقریب سے گھر واپس جانے والے سید اطہر حسین زیدی کو قتل جبکہ اہلیہ کوزخمی کردیا گیا، اورنگی ٹاؤن چمچہ ہوٹل کے قریب رکشا ڈرائیور فائرنگ سے ہلاک ہوا ، 31 جنوری کو پی آئی بی میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے ایک شخص جبکہ یکم فروری کو اورنگی ٹاؤن رئیس امروہی کالونی میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے سب انسپکٹر نیاز جبکہ نیو کراچی صنعتی ایریا میں موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی فائرنگ سے دکاندار سلیم زندگی کی بازی ہار گیا ، 2 فروری کو گلشن ضیا میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے تنویر نامی شخص جبکہ میٹروول میں فائرنگ سے سب انسپکٹر شدید زخمی ہوگیا جسے جسم پر 4 گولیاں لگی تھیں ، 3 فروری کو تھانہ ابراہیم حیدری کے علاقے علی اکبر گوٹھ میں پولیس موبائل پر موٹر سائیکل سوار ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے سب انسپکٹر اور ہیڈ کانسٹیبل سمیت 4 پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ اسی رات رضویہ سوسائٹی میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے عارف نامی شخص جاں بحق جبکہ اس کا دوست رفیق شدید زخمی ہوگیا۔
شہر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، پابندی کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد جو موٹر سائیکلوں پر اپنے والد ، بھائی یا دوستوں کے ہمراہ اپنے کام کاج پر جاتے تھے اب انھیں پبلک ٹرانسپورٹ میں مجبوراً سفر کرنا پڑ رہا ہے اور اس حوالے سے انھیں کرایے کی مد میں اضافی مالی بوجھ کے ساتھ ساتھ بسوں ، کوچز اور منی بسوں میں نہ صرف دھکے کھانا پڑ رہے ہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی چھتوں پر بیٹھ کر غیر محفوظ طریقے سے سفر کر کے اپنے گھر جانا پڑ رہا ہے ، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بھی بدستور جاری ہیں اور اس دوران موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی جانب سے معمولی مزاحمت پر شہریوں کو فائرنگ کر کے زخمی کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پابندی کے دوران موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے کسی بھی جانی نقصان پر ذمے داروں کا نہ صرف تعین کیا جائے بلکہ ایسی مثال قائم کی جائے کہ پابندی پر عملدرآمد بھی دکھائی دے بصورت دیگر فیصلہ واپس لیاجائے۔
پابندی کے 9 روز کے دوران مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے 2 سب انسپکٹر ، ایک اے ایس آئی اور3پولیس اہلکاروں سمیت 22 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ، پولیس افسر سمیت درجنوں افراد زخمی کردیے گئے ، ڈبل سواری کی پابندی کے باعث ہزاروں شہری روزانہ بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کررہے ہیں ، موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرزشہر میں گھوم رہے ہیں ،شہریوں کا کہنا ہے کہ تمام پابندیاں اور قانون صرف امن پسند عوام کے لیے ہے جبکہ حکومت پولیس کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے پہلا ہتھیار موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کر کے استعمال کرتی ہے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پابندی کا اطلاق ٹارگٹ کلرز پر نہیں ہوتا اور وہ کھلے عام اس پابندی کی دھجیاں اڑا کر پولیس اور رینجرز کی رٹ کو نہ صرف چیلنج کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں بلکہ اپنی موجودگی کا بھی احساس دلاتے رہتے ہیں۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے 26 جنوری کی شب 12 بجے شہر میں ایک ماہ کے لیے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد کی گئی جس کے اعلان پر شہری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اوانھوں نے اس پابندی کو سراسر شہریوں کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی قرار دیا تھا ، پابندی کے اطلاق کو ابھی 12 گھنٹے ہی نہیں گزرے تھے کہ 27 جنوری کی صبح تھانہ پیر آباد کے علاقے اسلامیہ کالونی میں 2 سگے بھائیوں محمد ریاض اور ابراہیم سمیت 4 افراد کو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ، 28 جنوری کو لیاقت آباد اور نیپئر میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے 2 افراد مارے گئے ، 29 جنوری کو بریگیڈ اور کھارادر میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے 2 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ، 30 جنوری کو اورنگی ٹاؤن سیکٹر 16 گلشن بہار میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے اے ایس آئی منظور حسین جاں بحق ہوا۔
منگھوپیر میں اکبر ، قائد آباد میں کار پر فائرنگ سے شفاعت جاں بحق اوردوست زخمی ہوا، گلبرگ میں شادی کی تقریب سے گھر واپس جانے والے سید اطہر حسین زیدی کو قتل جبکہ اہلیہ کوزخمی کردیا گیا، اورنگی ٹاؤن چمچہ ہوٹل کے قریب رکشا ڈرائیور فائرنگ سے ہلاک ہوا ، 31 جنوری کو پی آئی بی میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے ایک شخص جبکہ یکم فروری کو اورنگی ٹاؤن رئیس امروہی کالونی میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے سب انسپکٹر نیاز جبکہ نیو کراچی صنعتی ایریا میں موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی فائرنگ سے دکاندار سلیم زندگی کی بازی ہار گیا ، 2 فروری کو گلشن ضیا میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے تنویر نامی شخص جبکہ میٹروول میں فائرنگ سے سب انسپکٹر شدید زخمی ہوگیا جسے جسم پر 4 گولیاں لگی تھیں ، 3 فروری کو تھانہ ابراہیم حیدری کے علاقے علی اکبر گوٹھ میں پولیس موبائل پر موٹر سائیکل سوار ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے سب انسپکٹر اور ہیڈ کانسٹیبل سمیت 4 پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ اسی رات رضویہ سوسائٹی میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے عارف نامی شخص جاں بحق جبکہ اس کا دوست رفیق شدید زخمی ہوگیا۔
شہر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، پابندی کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد جو موٹر سائیکلوں پر اپنے والد ، بھائی یا دوستوں کے ہمراہ اپنے کام کاج پر جاتے تھے اب انھیں پبلک ٹرانسپورٹ میں مجبوراً سفر کرنا پڑ رہا ہے اور اس حوالے سے انھیں کرایے کی مد میں اضافی مالی بوجھ کے ساتھ ساتھ بسوں ، کوچز اور منی بسوں میں نہ صرف دھکے کھانا پڑ رہے ہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی چھتوں پر بیٹھ کر غیر محفوظ طریقے سے سفر کر کے اپنے گھر جانا پڑ رہا ہے ، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بھی بدستور جاری ہیں اور اس دوران موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی جانب سے معمولی مزاحمت پر شہریوں کو فائرنگ کر کے زخمی کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پابندی کے دوران موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے کسی بھی جانی نقصان پر ذمے داروں کا نہ صرف تعین کیا جائے بلکہ ایسی مثال قائم کی جائے کہ پابندی پر عملدرآمد بھی دکھائی دے بصورت دیگر فیصلہ واپس لیاجائے۔