پی آئی اے کی نجکاری دسمبر تک ممکن نہیں لگ رہیچیئر مین پی سی بورڈ
آئی ایم ایف ناراض ہو سکتا ہے، ڈیڈ لائن میں توسیع کیلیے منانے کی کوشش کروں گا،چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر
نجکاری پروگرام سے 30 جون تک 150 ارب حاصل ہوں گے، بعض مسائل کے باعث بجٹ اہداف میں تبدیلیاں کی گئیں، مسئلہ کرپشن نہیں نااہلی کی سزا نہ ہونا ہے، محمد زبیر فوٹو:فائل
نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر نے کہا ہے کہ چند روز میں نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں فیسکو، حیسکو اور مظفر گڑھ تھرمل پاور جنریشن اسٹیشن سمیت دیگر اداروں کی نجکاری کی بھی منظوری دی جائے گی جبکہ 30جون2014 تک سرکاری اداروں کی نجکاری کی مد میں 150 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے ۔
تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 26 فیصد حصص کی نجکاری دسمبر 2014 تک مکمل ہونا نظر نہیں آتی۔ نجکاری کمیشن میں منگل کو سینئر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اور اگر پی آئی اے کی نجکاری کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے انہیں آئی ایم ایف کو جا کر بتانا پڑا تو وہ بتائیں گے، اس سے آئی ایم ایف ناراض ہوسکتا ہے لیکن آئی ایم ایف کو ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاہم پی آئی اے کی نجکاری نومبر میں بھی ہوسکتی ہے لیکن اگر تکنیکی وجوہ اور پراسیس کو صاف شفاف رکھنے کے پیش نظر اس میں کچھ تاخیر ہوئی بھی تو وہ زیادہ نہیں ہو گی اور اگر تاخیر ہوتی ہے تو نجکاری جنوری فروری 2015 تک بھی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ رواں مالی سال ریونیو اور نان ٹیکس ریونیو سمیت بعض دیگر مسائل کی وجہ سے وفاقی بجٹ کے اہداف میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ چیئرمین نجکاری کمیشن نے کہاکہ موجودہ حکومت کا نجکاری پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ Ambitious اور فاسٹ ٹریک نجکاری پروگرام ہے۔
پی آئی اے، پاکستان اسٹیل سمیت دیگر اداروں کی وجہ سے 500 ارب روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے، انہیں جتنی جلدی پرائیویٹائز کردیا جائے اتنا ہی بہتر ہو گا۔ ایک سوال پرانہوں نے بتایا کہ نجکاری کمیشن بورڈ کی طرف سے 8 اداروں کی نجکاری کی منظوری دیے جانے کے بعد اب چند روز میں نجکاری کمیشن بورڈ کا دوبارہ اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور مظفر گڑھ تھرمل پاور جنریشن اسٹیشن سمیت مزید اداروں کی نجکاری کی منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مکمل اور پختہ ارادہ ہے کہ تمام تر شدید اور سنگین مخالفت کے باوجود نجکاری کی جائے گی کیونکہ لوگوں کے بہترین مفاد میں جو فیصلے ہیں وہ مخالفت کی نظر نہیں ہونے دیں گے، ان فیصلوں سے آنے والی نسلوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ سرکاری اداروں کی نجکاری 100فیصد صاف و شفاف ہوگی تاہم وہ عقل کل نہیں اوران سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن تنقید برائے تنقید کے بجائے مثبت تجاویز دی جائیں ان کا جائزہ لے کر اچھی تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔ ایک سوال پر محمد زبیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔
ایک اورسوال پر انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پر نجکاری کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ پی آئی اے کو خریدنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہوگا بلکہ اسکی ری اسٹرکچرنگ کی جائے گی جس کا پراسیس شروع کردیا گیا ہے، اس پلان کے تحت پی آئی اے کا ذیلی ادارہ قائم کیا جائے گا جس میں پی آئی اے کے ذمے واجب الادا قرضے، اضافی ملازمین ودیگر واجبات کو شامل کر دیا جائے گا، پی آئی اے کے آپریشنز و دیگر کور بزنس کو پی آئی اے ون میں رکھا جائے گا، اس اقدام سے پی آئی اے منافع بخش ہوجائے گا جس سے اس کی اچھی قیمت ملے گی اور پی آئی اے ٹو میں رہ جانے والی سروسز کو آہستہ آہستہ پرائیویٹائز کیا جائے گا۔
پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے 80کروڑ ڈالر کے واجبات کی وصولی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ حکومت نے اتصالات سے واجبات کی وصولی کے لیے مذاکرات شروع کررکھے ہیں، وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے دبئی میں ہیں جہاں وہ اتصالات کی انتظامیہ سے بھی ملاقات کریں گے اور80 کروڑ ڈالر کے واجبات کی وصولی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ نجکاری پروگرام کے حوالے سے بیرونی یا اندرونی دباؤ کے سوال پر محمد زبیر نے کہا کہ وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں دباؤ سے نمٹنے کی ہمت عطا فرمائے۔ ایک اورسوال پرانھوں نے کہا کہ کرپشن مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ نا اہلی ہے اور قانون میں نااہلی کی کوئی سزا نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ نااہل سربراہ یا افسر کوعہدے سے ہٹادیا جاتا ہے جبکہ حال ہی میں نااہلی کی وجہ سے جن اداروں کے سربراہان اور افسران کو حکومت کی طرف سے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے تو عدالتوں نے انہیں بحال کر دیا۔
تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 26 فیصد حصص کی نجکاری دسمبر 2014 تک مکمل ہونا نظر نہیں آتی۔ نجکاری کمیشن میں منگل کو سینئر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اور اگر پی آئی اے کی نجکاری کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے انہیں آئی ایم ایف کو جا کر بتانا پڑا تو وہ بتائیں گے، اس سے آئی ایم ایف ناراض ہوسکتا ہے لیکن آئی ایم ایف کو ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاہم پی آئی اے کی نجکاری نومبر میں بھی ہوسکتی ہے لیکن اگر تکنیکی وجوہ اور پراسیس کو صاف شفاف رکھنے کے پیش نظر اس میں کچھ تاخیر ہوئی بھی تو وہ زیادہ نہیں ہو گی اور اگر تاخیر ہوتی ہے تو نجکاری جنوری فروری 2015 تک بھی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ رواں مالی سال ریونیو اور نان ٹیکس ریونیو سمیت بعض دیگر مسائل کی وجہ سے وفاقی بجٹ کے اہداف میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ چیئرمین نجکاری کمیشن نے کہاکہ موجودہ حکومت کا نجکاری پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ Ambitious اور فاسٹ ٹریک نجکاری پروگرام ہے۔
پی آئی اے، پاکستان اسٹیل سمیت دیگر اداروں کی وجہ سے 500 ارب روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے، انہیں جتنی جلدی پرائیویٹائز کردیا جائے اتنا ہی بہتر ہو گا۔ ایک سوال پرانہوں نے بتایا کہ نجکاری کمیشن بورڈ کی طرف سے 8 اداروں کی نجکاری کی منظوری دیے جانے کے بعد اب چند روز میں نجکاری کمیشن بورڈ کا دوبارہ اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور مظفر گڑھ تھرمل پاور جنریشن اسٹیشن سمیت مزید اداروں کی نجکاری کی منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مکمل اور پختہ ارادہ ہے کہ تمام تر شدید اور سنگین مخالفت کے باوجود نجکاری کی جائے گی کیونکہ لوگوں کے بہترین مفاد میں جو فیصلے ہیں وہ مخالفت کی نظر نہیں ہونے دیں گے، ان فیصلوں سے آنے والی نسلوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ سرکاری اداروں کی نجکاری 100فیصد صاف و شفاف ہوگی تاہم وہ عقل کل نہیں اوران سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن تنقید برائے تنقید کے بجائے مثبت تجاویز دی جائیں ان کا جائزہ لے کر اچھی تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔ ایک سوال پر محمد زبیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔
ایک اورسوال پر انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پر نجکاری کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ پی آئی اے کو خریدنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہوگا بلکہ اسکی ری اسٹرکچرنگ کی جائے گی جس کا پراسیس شروع کردیا گیا ہے، اس پلان کے تحت پی آئی اے کا ذیلی ادارہ قائم کیا جائے گا جس میں پی آئی اے کے ذمے واجب الادا قرضے، اضافی ملازمین ودیگر واجبات کو شامل کر دیا جائے گا، پی آئی اے کے آپریشنز و دیگر کور بزنس کو پی آئی اے ون میں رکھا جائے گا، اس اقدام سے پی آئی اے منافع بخش ہوجائے گا جس سے اس کی اچھی قیمت ملے گی اور پی آئی اے ٹو میں رہ جانے والی سروسز کو آہستہ آہستہ پرائیویٹائز کیا جائے گا۔
پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے 80کروڑ ڈالر کے واجبات کی وصولی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ حکومت نے اتصالات سے واجبات کی وصولی کے لیے مذاکرات شروع کررکھے ہیں، وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے دبئی میں ہیں جہاں وہ اتصالات کی انتظامیہ سے بھی ملاقات کریں گے اور80 کروڑ ڈالر کے واجبات کی وصولی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ نجکاری پروگرام کے حوالے سے بیرونی یا اندرونی دباؤ کے سوال پر محمد زبیر نے کہا کہ وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں دباؤ سے نمٹنے کی ہمت عطا فرمائے۔ ایک اورسوال پرانھوں نے کہا کہ کرپشن مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ نا اہلی ہے اور قانون میں نااہلی کی کوئی سزا نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ نااہل سربراہ یا افسر کوعہدے سے ہٹادیا جاتا ہے جبکہ حال ہی میں نااہلی کی وجہ سے جن اداروں کے سربراہان اور افسران کو حکومت کی طرف سے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے تو عدالتوں نے انہیں بحال کر دیا۔