پولیس موبائل پر حملے اور اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ درج
حملے کا مقصد دہشت پھیلانا ہے، 4 زاویوں سے تحقیق اوراداروں سے مدد لینگے، تفتیشی افسر
شہید کانسٹیبل اخترعلی اور شہید ہیڈ کانسٹیبل حاجی محمد شفیع کی یاد گار تصویریں
KARACHI:
ابراہیم حیدری پولیس نے موبائل پر حملے اور4 پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کو ابراہیم حیدری تھانے کی حدود علی اکبر شاہ گوٹھ میں واقع ہوٹل کے قریب کھڑی موبائل نمبر ایس پی7025 پر اندھا دھند فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر اور 3 اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سب انسپکٹر سراج خان کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
ابراہیم حیدری پولیس کے مطابق پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے19خالی خول ملے ہیں جنھیں تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوادیا گیا ہے،پولیس کے ایک اعلیٰ تفتیشی افسر نے بتایا ہے کہ پولیس موبائل پر حملہ کرنے کا مقصد شہریوں کو دہشت زدہ کرنا ہے، پولیس موبائل پر حملے کے حوالے سے4 زاویوں پر تحقیق اور دیگر اداروں سے مدد لی جا رہی ہے امید ہے کہ پولیس موبائل پر حملے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر لیں گے۔
ابراہیم حیدری پولیس نے موبائل پر حملے اور4 پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کو ابراہیم حیدری تھانے کی حدود علی اکبر شاہ گوٹھ میں واقع ہوٹل کے قریب کھڑی موبائل نمبر ایس پی7025 پر اندھا دھند فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر اور 3 اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سب انسپکٹر سراج خان کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
ابراہیم حیدری پولیس کے مطابق پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے19خالی خول ملے ہیں جنھیں تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوادیا گیا ہے،پولیس کے ایک اعلیٰ تفتیشی افسر نے بتایا ہے کہ پولیس موبائل پر حملہ کرنے کا مقصد شہریوں کو دہشت زدہ کرنا ہے، پولیس موبائل پر حملے کے حوالے سے4 زاویوں پر تحقیق اور دیگر اداروں سے مدد لی جا رہی ہے امید ہے کہ پولیس موبائل پر حملے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر لیں گے۔