آئی سی سی فنڈز میں کٹوتی کے حق میں نہیں کرکٹ آئرلینڈ
کونسل اضافی منافع میں کچھ حصہ اچھا پرفارم کرنے والے ممالک کو دے، ڈیوٹروم
فنڈز کے اضافے سے چھوٹی اور بڑی ٹیموں میں فرق کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ڈیوٹروم۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
آئرلینڈ نے آئی سی سی کے سرپلس منافع میں سے کچھ حصہ ایسوسی ایٹس اور ایفیلیٹس ممبران میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
کرکٹ آئرلینڈ کے چیف وارن ڈیوٹروم کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اضافے سے چھوٹی اور بڑی ٹیموں میں فرق کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی میں بگ تھری کی جانب سے پیش کیے گئے ڈرافٹ پیپر میں پہلے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ جو فنڈز ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹ ممالک کو دیے جاتے ہیں ان میں سے پچاس فیصد ان 6 ممالک کو دیا جائے جن کی ٹیمیں بہترین پرفارم کررہی اور پچاس فیصد باقی بچنے والے 84 ممالک میں تقسیم کیا جائے تاہم دبئی میں ہونے والی آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں اس تجویز کی مخالفت کی گئی جس پر آئی سی سی نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹ ممالک کو دیے جانے والے فنڈز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
آئرش بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوٹروم کا کہنا ہے کہ ہم ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرسکتے جس سے ہمارے فنڈز میں کٹوتی ہو اور باقی ممالک کا حصہ کاٹ کر دوسرے ممالک کو دینے کے حق میں بھی نہیں ہیں، ویسے بھی اس سے ٹاپ ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹس ٹیموں اور فل ممبران کے درمیان حائل خلیج کم نہیں ہوگی، بہتر طریقہ یہ ہے کہ آئی سی سی اپنے سر پلس منافع کا ایک چھوٹا سا حصہ ٹاپ پرفارمر ایسوسی ایٹ وایفیلیٹ ممالک میں تقسیم کرے سے اس سے ہمیں جو اس وقت 2 ملین ڈالر سالانہ کی امداد مل رہی ہے وہ بڑھ کر 4 ملین ہوجائے گی، اس سے کرکٹ کو مختلف ممالک میں فروغ دینے کے زیادہ مواقع پیدا ہوںگے۔
کرکٹ آئرلینڈ کے چیف وارن ڈیوٹروم کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اضافے سے چھوٹی اور بڑی ٹیموں میں فرق کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی میں بگ تھری کی جانب سے پیش کیے گئے ڈرافٹ پیپر میں پہلے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ جو فنڈز ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹ ممالک کو دیے جاتے ہیں ان میں سے پچاس فیصد ان 6 ممالک کو دیا جائے جن کی ٹیمیں بہترین پرفارم کررہی اور پچاس فیصد باقی بچنے والے 84 ممالک میں تقسیم کیا جائے تاہم دبئی میں ہونے والی آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں اس تجویز کی مخالفت کی گئی جس پر آئی سی سی نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹ ممالک کو دیے جانے والے فنڈز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
آئرش بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوٹروم کا کہنا ہے کہ ہم ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرسکتے جس سے ہمارے فنڈز میں کٹوتی ہو اور باقی ممالک کا حصہ کاٹ کر دوسرے ممالک کو دینے کے حق میں بھی نہیں ہیں، ویسے بھی اس سے ٹاپ ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹس ٹیموں اور فل ممبران کے درمیان حائل خلیج کم نہیں ہوگی، بہتر طریقہ یہ ہے کہ آئی سی سی اپنے سر پلس منافع کا ایک چھوٹا سا حصہ ٹاپ پرفارمر ایسوسی ایٹ وایفیلیٹ ممالک میں تقسیم کرے سے اس سے ہمیں جو اس وقت 2 ملین ڈالر سالانہ کی امداد مل رہی ہے وہ بڑھ کر 4 ملین ہوجائے گی، اس سے کرکٹ کو مختلف ممالک میں فروغ دینے کے زیادہ مواقع پیدا ہوںگے۔