دفاع پاکستان کونسل یرغمال بن چکی ہے مولانا طاہر اشرفی

ناکامی کے بجائے کامیابی کی باتیں کی جائیں،ایاز خان کی اچھا لگے برالگے میں گفتگو

سعودی عرب پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا،چیئرمین پاکستان علما کونسل۔ فوٹو: فائل

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

انھوں نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام 'اچھا لگے،برا لگے' میں میزبان ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار خان کے سوال پر کہا کہ مولانا سمیع الحق میرے بزرگ ہیں تاہم دفاع پاکستان کونسل یرغمال بن چکی ہے۔ یہ جماعت الدعوۃ اور اہلسنت والجماعت کی طرح 'باپ بیٹا پارٹی' میں بدل چکی ہے۔ روزنامہ ایکسپریس کے سینئرایڈیٹر ایاز خان نے کہاکہ اس موقع پر مذاکرات کی ناکامی کی بجائے کامیاب ہونے کی بات کی جائے، میز پر بیٹھنے کے بعد کچھ لو اورکچھ دو ہوتا ہے۔ موجودہ جمہوری حکومت کو مذاکرات کا مینڈیٹ ملا ہے۔ ہمارا آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسی قانون میں کوئی شق غیر اسلامی نہیں۔ وزیراعظم نوازشریف آئین کے حوالے سے بڑے حساس نظر آرہے ہیں، ان کا اشارہ غالباً پرویزمشرف کی طرف ہے۔ جو کمیٹیاں بن چکی ہیں،انھیں مذاکرات کرنے چاہئیں۔

دہشتگردی کیخلاف ملک میں اتفاق رائے موجود ہے، چیف جسٹس کی تقریر میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ قانون موجود ہے، اس پرعملدرآمدکرانا حکومت کاکام ہے۔ ایازخان نے کہا کہ ہمارے ہاں بھارتی وفود پرحملے نہیں ہوتے، ہم مہمانوں کا احترام کرتے ہیں۔ تجزیہ نگار امتیاز عالم نے کہا کہ نوازشریف نے پتے کی بات کی کہ طالبان اپنے نمائندے کمیٹی میں بٹھائیں، انکی آج کی تقریر بہت اچھی تھی، وہ امن کی بات کر رہے ہیں مگرپہلے راؤنڈ میں حکومت ہارتی ہوئی نظر آرہی ہے، بات چیت ناکام ہوجائے گی۔طالبان نے بڑا اچھاکھیل کھیلا ہے، انھوں نے وسیع ترمحاذ بنانے کی کوشش کی ہے جبکہ دفاع پاکستان کونسل مذاکرات ہائی جیک کرنے والی ہے، وہ مل کر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرینگے۔




حکومتی کمیٹی بھی طالبان سے زیادہ اختلاف نہیں رکھتی ۔ مولاناسمیع الحق کی ٹی وی پرفارمنس کا عرفان صدیقی مقابلہ نہیں کرسکتے، وہ بار بار حکومتی کمیٹی پرحملہ آور ہونگے۔ایک سوال پر امتیاز عالم نے کہاکہ مذاکرات ناکام ہونے سے بچانے کیلیے کمیٹیوں کے لوگ بولنا بند کردیں، ٹی وی پرآنا بندکردیں، طالبان اپنے نمائندے دیں اور سب لوگ کہیں بند ہوکر بیٹھ جائیں۔ طالبان کے مطالبے ماننے کا مطلب ہے کہ ایک ریاست میں دو ریاستیں بن جائیں گی۔ مذاکرات کامیاب کرانے کیلیے میڈیا بھی کردار ادا کرے۔مذاکرات ناکام ہوگئے تودفاع پاکستان کونسل اور جماعت اسلامی وغیرہ میدان میں آجائیں گی کہ امریکی دباؤ پرمذاکرات ناکام ہوئے، جس کے باعث دہشت گردی کیخلاف اتفاق رائے نہیں ہوگا۔ اس کا ردعمل پی این اے کے زمانے سے زیادہ ہوگا۔

کمیٹی کے ایک رکن نے بتایاکہ ان کی فوج سے بات نہیں ہوئی۔ بھارت میں پاکستانی گلوگار سے بدسلوکی کے حوالے سے امتیازعالم نے کہا کہ شیوسینا کی سیاست بہت بری ہے، ہم وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہیں گے کہ وہ اس کی مذمت کریں اور واضح مئوقف اختیارکریں۔ پروگرام کے دوران نمائندہ ایکسپریس ٹریبیون کے نمائندے شبیر میر اور قراقرم یونیورسٹی کے پروفیسر مجاہد علی شاہ نے ٹیلی فون پر گلگت میں قدرتی آفت کے حوالے سے بتایا کہ وہاں پہاڑی تودے گرنے سے عطاآباد جھیل سے 10گنا بڑے حادثے کاخطرہ ہے، زمین کابڑاٹکڑا دریائے سوات کی طرف بڑھ رہا ہے۔
Load Next Story