افغان صدر امریکا کیساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کرکے آگ سے کھیل رہے ہیں سیکریٹری جنرل نیٹو
لگتا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر نئے افغان صدر دستخط کر دیں گے، اینڈرز فوگ راسموسین
امریکا اور مغربی ممالک کے بغیر ہی حامد کرزئی امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ خفیہ رابطوں میں ہیں، امریکی اخبار کا دعویٰ، افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے بھی تصدیق کردی. فوٹو؛ فائل
نیٹو کے سیکریٹری جنرل اینڈرز فوگ راسموسین نے کہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کر کے آگ سے کھیل رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے صدر کرزئی کے حالیہ بیانات پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان میں اتنی قربانیاں دینے کے بعد نیٹو ممالک افغان حکومت سے تشکر کی امید رکھتے ہیں۔ ایک برطانوی اخبار نے حال ہی میں افعان صدر کے حوالے سے ایک بیان شائع کیا تھا جس میں افغان صدر کا کہنا تھا کہ ہلمند کے صوبے میں اگرکوئی برطانوی فوجی کبھی قدم نہ رکھتا تو وہاں حالات بہتر ہوتے، راسموسین کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ سیکیورٹی کے معاہدے پر نئے افغان صدر دستخط کر دیں گے، افغانستان میں5اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کیلیے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے،یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اس سال کے اختتام تک افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو ملک چھوڑنا ہے اور انھیں افغانستان میں قومی سیکیورٹی فورسز کی استعداد کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ افغان لویا جرگے نے گذشتہ برس امریکا سے معاہدے کی منظوری دی تھی تاہم صدر کرزئی نے تاحال اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے جس کے تحت رواں برس افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاکے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں رہ سکے گی۔ ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک کے بغیر ہی صدر کرزئی امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ خفیہ رابطوں میں ہیں جو افغانستان اور امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیداکرنے کا باعث بنیں گے۔ امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حامدکرزئی کے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے تھوڑا بہت فائدہ ہو گا جبکہ امریکی حکام کاکہنا ہے کہ واشنگٹن حامد کرزئی اور نئے افغان صدر کے ساتھ امن عامہ کی صورت حال پر تعاون کے حوالے بے یقینی کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے بھی اعتراف کیاہے کہ حامد کرزئی طالبان کے ساتھ خفیہ رابطوں میں ہیں اور یہ رابطے ابھی جاری ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے صدر کرزئی کے حالیہ بیانات پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان میں اتنی قربانیاں دینے کے بعد نیٹو ممالک افغان حکومت سے تشکر کی امید رکھتے ہیں۔ ایک برطانوی اخبار نے حال ہی میں افعان صدر کے حوالے سے ایک بیان شائع کیا تھا جس میں افغان صدر کا کہنا تھا کہ ہلمند کے صوبے میں اگرکوئی برطانوی فوجی کبھی قدم نہ رکھتا تو وہاں حالات بہتر ہوتے، راسموسین کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ سیکیورٹی کے معاہدے پر نئے افغان صدر دستخط کر دیں گے، افغانستان میں5اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کیلیے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے،یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اس سال کے اختتام تک افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو ملک چھوڑنا ہے اور انھیں افغانستان میں قومی سیکیورٹی فورسز کی استعداد کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ افغان لویا جرگے نے گذشتہ برس امریکا سے معاہدے کی منظوری دی تھی تاہم صدر کرزئی نے تاحال اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے جس کے تحت رواں برس افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاکے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں رہ سکے گی۔ ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک کے بغیر ہی صدر کرزئی امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ خفیہ رابطوں میں ہیں جو افغانستان اور امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیداکرنے کا باعث بنیں گے۔ امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حامدکرزئی کے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے تھوڑا بہت فائدہ ہو گا جبکہ امریکی حکام کاکہنا ہے کہ واشنگٹن حامد کرزئی اور نئے افغان صدر کے ساتھ امن عامہ کی صورت حال پر تعاون کے حوالے بے یقینی کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے بھی اعتراف کیاہے کہ حامد کرزئی طالبان کے ساتھ خفیہ رابطوں میں ہیں اور یہ رابطے ابھی جاری ہیں۔