ایڈز کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویشناک ہے
مرض کی شدت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں نہ صرف کثیر الجہتی ہنگامی اقدامات بلکہ وسیع المدت پالیسیاں قائم کرنا ہوں گی
مرض کی شدت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں نہ صرف کثیر الجہتی ہنگامی اقدامات بلکہ وسیع المدت پالیسیاں قائم کرنا ہوں گی۔ فوٹو: فائل
پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو نہ صرف باعث تشویش ہے بلکہ اس بات کی متقاضی ہے کہ ایڈز جیسے مہلک مرض کے بارے میں آگاہی مہم چلانے اور اس کے سدباب کے لیے حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں منگل کو سینیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے بتایا کہ حکومت ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور علاج معالجے کے حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اس وقت ملک میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 18 مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں اسکریننگ کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملک میں ایڈز کے تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار مریض ہیں، جن میں سے صرف 8 ہزار رجسٹرڈ ہیں۔
صحت عامہ کے تناظر میں اٹھایا جانے والا حکومت کا ہر اقدام قابل ستائش ہے لیکن مرض کی شدت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں نہ صرف کثیر الجہتی ہنگامی اقدامات بلکہ وسیع المدت پالیسیاں قائم کرنا ہوں گی۔ ایڈز کے سلسلے میں آگاہی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن ہر سال بمقابلہ گزشتہ برس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا پایا گیا ہے۔ اسپتالوں میں صفائی ستھرائی کا ناقص انتظام، اتائی ڈاکٹروں کے جابجا کھلے کلینک، استعمال شدہ سرنجوں اور بغیر ٹیسٹ کیے خون کے انتقال سے ایڈز کا یہ مرض شدت کے ساتھ پھیل رہا ہے، دوسری جانب غیر صحت مندانہ تعلقات بھی ایڈز کے پھیلاؤ کا باعث ہیں۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسے عناصر جو ایڈز کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں ان کا قلع قمع کرنے کے ساتھ آگاہی مہم، علاج معالجے کی بہتر سہولیات اور اسپتالوں میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا تاکہ ایڈز کے اس موذی مرض کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔
صحت عامہ کے تناظر میں اٹھایا جانے والا حکومت کا ہر اقدام قابل ستائش ہے لیکن مرض کی شدت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں نہ صرف کثیر الجہتی ہنگامی اقدامات بلکہ وسیع المدت پالیسیاں قائم کرنا ہوں گی۔ ایڈز کے سلسلے میں آگاہی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن ہر سال بمقابلہ گزشتہ برس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا پایا گیا ہے۔ اسپتالوں میں صفائی ستھرائی کا ناقص انتظام، اتائی ڈاکٹروں کے جابجا کھلے کلینک، استعمال شدہ سرنجوں اور بغیر ٹیسٹ کیے خون کے انتقال سے ایڈز کا یہ مرض شدت کے ساتھ پھیل رہا ہے، دوسری جانب غیر صحت مندانہ تعلقات بھی ایڈز کے پھیلاؤ کا باعث ہیں۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسے عناصر جو ایڈز کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں ان کا قلع قمع کرنے کے ساتھ آگاہی مہم، علاج معالجے کی بہتر سہولیات اور اسپتالوں میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا تاکہ ایڈز کے اس موذی مرض کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔