موبائل فون چوری اعلیٰ حکام متحرک تحقیقات کیلئے پیشرفت
’ایکسپریس‘میں خبرچھپنے کے بعد کلکٹرکسٹمزپری یونٹیوکی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنادی گئی،آج کارروائی شروع کرے گی۔
اے ایف یو ’سب گریل‘ سے پہلے بھی اشیاغائب ہوچکیں،کسٹمزافسران سامان رشوت لے کر خودامپورٹرزکوپہنچاتے ہیں،ذرائع فوٹو: فائل
محکمہ کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ کراچی کے ''سب گریل'' سے ڈھائی کروڑ روپے سے زائد کے موبائل فون چوری ہونے کی خبر کی ''ایکسپریس'' میں اشاعت کے بعد محکمہ کسٹمز کے اعلیٰ حکام متحرک ہو گئے ہیں۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کلکٹرکسٹمزپری یونٹیوطارق ہدیٰ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جو جمعرات کو کسٹمزایئرفریٹ یونٹ میں چوری ہونے والے موبائل فونزکی تحقیقات کا آغاز کرے گی اور موبائل فون کی چوری میں ملوث عناصرکے خلاف سخت تادیبی کارروائی بھی شروع کرے گی۔ ذرائع نے بتایاکہ محکمہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ پر تعینات کسٹمز افسران نے ''سب گریل'' میں موجودسامان کا جائزہ لیناشروع کردیاہے تاکہ وہاں پر موجود سامان کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ کے ''سب گریل'' سے اس سے پہلے بھی نہ صرف موبائل فونزبلکہ کروڑوں روپے مالیت کی دیگراشیا کی بھی چوریاں ہوچکی ہیں۔
لہٰذا محکمہ کسٹمز کی تحقیقاتی کمیٹی کو ماضی میں ضبط ہونے والی ان اشیا کی بھی کسٹمز میں موجود دستاویزات کی بنیاد پر جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے جو ضبط ہونے کے بعد سب گریل میں بطور قومی امانت جمع کرائی گئی تھیں۔ ذرائع نے بتایاکہ اگر متاثرہ مسافرکو کلکٹراپیل سے موبائل فون کلیئرکرنے کے احکام نہیں ملتے تو اے ایف یو کے سب گریل سے چوری ہونے والے ان موبائل فونز کے بارے میں ایف بی آر اور محکمہ کسٹمز کے متعلقہ ذمے دار افسران بھی لاعلم ہوتے۔ یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ محکمہ کسٹمزکی جانب سے جوسامان ضبط کر کے ایئرفریٹ یونٹ کے ''سب گریل ''میں رکھا جاتا ہے وہ کلیم نہیں کیا جاتا بلکہ کسٹمزحکام کی ملی بھگت سے درآمدکنندگان کو رشوت کے عوض ڈیوٹی وٹیکسزکے بغیر ان کو پہنچا دیا جاتا ہے اوریہ کسٹمز افسران اپنی گاڑیوں میں رکھ کر پہنچاتے ہیں۔واضح رہے کہ خبرشائع ہونے پر کسٹمزافسران کی جانب سے چوری ہونے والے موبائل کی تردیدکی گئی لیکن بعدازاں کسٹمز حکام نے ''سب گریل''سے لاکھوںروپے مالیت کے موبائل فون چوری ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کلکٹرکسٹمزپری یونٹیوطارق ہدیٰ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جو جمعرات کو کسٹمزایئرفریٹ یونٹ میں چوری ہونے والے موبائل فونزکی تحقیقات کا آغاز کرے گی اور موبائل فون کی چوری میں ملوث عناصرکے خلاف سخت تادیبی کارروائی بھی شروع کرے گی۔ ذرائع نے بتایاکہ محکمہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ پر تعینات کسٹمز افسران نے ''سب گریل'' میں موجودسامان کا جائزہ لیناشروع کردیاہے تاکہ وہاں پر موجود سامان کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹمزایئرفریٹ یونٹ کے ''سب گریل'' سے اس سے پہلے بھی نہ صرف موبائل فونزبلکہ کروڑوں روپے مالیت کی دیگراشیا کی بھی چوریاں ہوچکی ہیں۔
لہٰذا محکمہ کسٹمز کی تحقیقاتی کمیٹی کو ماضی میں ضبط ہونے والی ان اشیا کی بھی کسٹمز میں موجود دستاویزات کی بنیاد پر جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے جو ضبط ہونے کے بعد سب گریل میں بطور قومی امانت جمع کرائی گئی تھیں۔ ذرائع نے بتایاکہ اگر متاثرہ مسافرکو کلکٹراپیل سے موبائل فون کلیئرکرنے کے احکام نہیں ملتے تو اے ایف یو کے سب گریل سے چوری ہونے والے ان موبائل فونز کے بارے میں ایف بی آر اور محکمہ کسٹمز کے متعلقہ ذمے دار افسران بھی لاعلم ہوتے۔ یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ محکمہ کسٹمزکی جانب سے جوسامان ضبط کر کے ایئرفریٹ یونٹ کے ''سب گریل ''میں رکھا جاتا ہے وہ کلیم نہیں کیا جاتا بلکہ کسٹمزحکام کی ملی بھگت سے درآمدکنندگان کو رشوت کے عوض ڈیوٹی وٹیکسزکے بغیر ان کو پہنچا دیا جاتا ہے اوریہ کسٹمز افسران اپنی گاڑیوں میں رکھ کر پہنچاتے ہیں۔واضح رہے کہ خبرشائع ہونے پر کسٹمزافسران کی جانب سے چوری ہونے والے موبائل کی تردیدکی گئی لیکن بعدازاں کسٹمز حکام نے ''سب گریل''سے لاکھوںروپے مالیت کے موبائل فون چوری ہونے کی تصدیق کردی ہے۔