بگ تھری فارمولا پاکستان کے بعد سری لنکا نے بھی تجاویز ٹھکرا دیں
سری لنکن بورڈ کے خصوصی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر مخالفت کردی
قانونی ماہرین نے تجاویز کو آئی سی سی کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دے دیا، مضبوط بھارت پوری دنیا کی کرکٹ کیلیے بہتر ہے، سری نواسن اپنا راگ الاپنے لگے۔ فوٹو: فائل
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے بعد سری لنکا نے بھی بگ تھری سے بغاوت کردی، دھونس، دھمکی اور لالچ کو ٹھکراتے ہوئے ڈرافٹ پوزیشن پیپر کی مخالفت کا اعلان کردیا۔
ایس ایل سی کے خصوصی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر آئی سی سی کی ترمیم شدہ تجاویز کو مسترد کردیا، میٹنگ میں حمایت کیلیے بگ تھری کی جانب سے دھمکیاں دینے کا بھی انکشاف کیا گیا، قانونی ماہرین نے تجاویز کو آئی سی سی کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ دوسری جانب بھارت اور انگلینڈ نے آئی سی سی اصلاحات کو عالمی کرکٹ کے بہترین مفاد میں قرار دے دیا، این سری نواسن کا کہنا ہے کہ منافع میں بھارت کے زیادہ حصہ لینے پرکسی کوکوئی اعتراض نہیں، ویٹو پاور حاصل ہونے کی باتیں بھی سراسر غلط ہیں، ایسوسی ایٹس ممالک کو بھی فائدہ ہوگا، انگلش بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کو زیادہ مالی تحفظ حاصل ہوگا۔ اس معاملے پر فیصلے کیلیے آئی سی سی کا اہم اجلاس ہفتے سے سنگاپور میں شروع ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کے بعد سری لنکا نے بھی بگ تھری کے منصوبے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
گذشتہ روز سری لنکا کرکٹ کا ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں سابق کرکٹرز، آفیشلز اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر ڈرافٹ پوزیشن پیپر اور آئی سی سی کی تجاویز میں نئی ترامیم کو مسترد کردیا۔ میٹنگ میں سابق پلیئرز اروندا ڈی سلوا، انورا تینیکون، رانجت فرنانڈو، مائیکل تشیرا، سلیکٹرز سنتھ جے سوریا اور ہیشان تلکارتنے بھی موجود تھے، سابق بورڈ صدور تھلنگا سماتھی پالا اور وجے مالاسیکرا بھی حاضر تھے تاہم اس میٹنگ میں ارجنا رانا ٹنگا شریک نہیں ہوئے البتہ وہ عوامی سطح پر پہلے ہی بگ تھری منصوبے پر تنقید کرچکے ہیں ، اگرچہ وزارت کھیل نے ان تجاویز پر کوئی سرکاری موقف پیش کرنے سے انکار کیا مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ سری لنکن بورڈ نے یہ فیصلہ حکومت کی سپورٹ پر کیا۔ سری لنکا بورڈ نے مالی بحران سے نکلنے کیلیے ڈرافٹ سامنے آنے سے قبل ہی آئی سی سی کو 8 ملین ڈالر کے بلاسود قرضے کی درخواست کی تھی تاہم دبئی میٹنگ میں بگ تھری نے یہ معاملہ بھی روک دیا اس کے ساتھ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سری لنکن آفیشلز کو اور بھی کئی دھمکیوں کا سامنا کرناپڑا جس میں ایس ایل سی کی ممبرشپ بھی شامل تھی۔
بورڈ کے ایک ممبر نے کہا کہ جب یہ تمام تفصیلات ہمیں بتائی گئیں تو ہم حیران رہ گئے کہ بڑے بورڈز کی جانب سے ایس ایل سی پر کتنازیادہ پریشر ڈالا گیا، ہمیں توقع نہیں تھی کہ یہ بگ تھری اس حد تک چلے جائیں گے، اسی وجہ سے تمام لوگوں نے متفقہ طور پر اس کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ اس موقع پر بورڈ کے قانونی ماہرین نے تجاویز کو ان بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا جس پر آئی سی سی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط بھارت پوری دنیا کی کرکٹ کیلیے بہتر ہیں، انھوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کرکٹ کی لیڈرشپ سنبھالنے میں خوشی محسوس کرے گا، ہم آئی سی سی میں نیا اسٹریکچر لائیں گے جوکہ پوری کرکٹ کیلیے بہترین ہوگا۔
آئی سی سی کی آمدنی میں بھارت کی جانب سے زیادہ حصہ مانگنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، کسی کو بھی ویٹو پاور نہیں ملے گی، ایگزیکٹیو کمیٹی میں شامل پانچ ممبران میں سے کوئی بھی چیئرمین بن سکتا اور اصل اتھارٹی آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کے پاس ہی ہوگی، ایسوسی ایٹ ممالک کو زیادہ حصہ ملے گا، ہم نے فیوچر ٹور پروگرام پر دستخط نہیں کیے تاہم نیا ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ (ایم پی اے) زیادہ مضبوط ہوگا۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک نے کہا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ اچھے انداز میں چل رہی ہے تو وہ غلط ہے ، مجوزہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں، اگر آئی سی سی کی جانب سے بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو نئی براڈکاسٹنگ ڈیلز کرنے کا اختیار دیا جائے تو اس سے کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا۔ یاد رہے کہ ان تجاویز اور بگ تھری کا معاملہ ہفتے سے سنگاپور میں شیڈول آئی سی سی میٹنگ میں زیر غور لایا جائے گا جبکہ اس پر فیصلہ بھی متوقع ہے، بگ تھری کو بظاہر 10 میں سے 7 ممبران کی سپورٹ حاصل ہے۔
ایس ایل سی کے خصوصی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر آئی سی سی کی ترمیم شدہ تجاویز کو مسترد کردیا، میٹنگ میں حمایت کیلیے بگ تھری کی جانب سے دھمکیاں دینے کا بھی انکشاف کیا گیا، قانونی ماہرین نے تجاویز کو آئی سی سی کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ دوسری جانب بھارت اور انگلینڈ نے آئی سی سی اصلاحات کو عالمی کرکٹ کے بہترین مفاد میں قرار دے دیا، این سری نواسن کا کہنا ہے کہ منافع میں بھارت کے زیادہ حصہ لینے پرکسی کوکوئی اعتراض نہیں، ویٹو پاور حاصل ہونے کی باتیں بھی سراسر غلط ہیں، ایسوسی ایٹس ممالک کو بھی فائدہ ہوگا، انگلش بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کو زیادہ مالی تحفظ حاصل ہوگا۔ اس معاملے پر فیصلے کیلیے آئی سی سی کا اہم اجلاس ہفتے سے سنگاپور میں شروع ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کے بعد سری لنکا نے بھی بگ تھری کے منصوبے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
گذشتہ روز سری لنکا کرکٹ کا ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں سابق کرکٹرز، آفیشلز اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر ڈرافٹ پوزیشن پیپر اور آئی سی سی کی تجاویز میں نئی ترامیم کو مسترد کردیا۔ میٹنگ میں سابق پلیئرز اروندا ڈی سلوا، انورا تینیکون، رانجت فرنانڈو، مائیکل تشیرا، سلیکٹرز سنتھ جے سوریا اور ہیشان تلکارتنے بھی موجود تھے، سابق بورڈ صدور تھلنگا سماتھی پالا اور وجے مالاسیکرا بھی حاضر تھے تاہم اس میٹنگ میں ارجنا رانا ٹنگا شریک نہیں ہوئے البتہ وہ عوامی سطح پر پہلے ہی بگ تھری منصوبے پر تنقید کرچکے ہیں ، اگرچہ وزارت کھیل نے ان تجاویز پر کوئی سرکاری موقف پیش کرنے سے انکار کیا مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ سری لنکن بورڈ نے یہ فیصلہ حکومت کی سپورٹ پر کیا۔ سری لنکا بورڈ نے مالی بحران سے نکلنے کیلیے ڈرافٹ سامنے آنے سے قبل ہی آئی سی سی کو 8 ملین ڈالر کے بلاسود قرضے کی درخواست کی تھی تاہم دبئی میٹنگ میں بگ تھری نے یہ معاملہ بھی روک دیا اس کے ساتھ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سری لنکن آفیشلز کو اور بھی کئی دھمکیوں کا سامنا کرناپڑا جس میں ایس ایل سی کی ممبرشپ بھی شامل تھی۔
بورڈ کے ایک ممبر نے کہا کہ جب یہ تمام تفصیلات ہمیں بتائی گئیں تو ہم حیران رہ گئے کہ بڑے بورڈز کی جانب سے ایس ایل سی پر کتنازیادہ پریشر ڈالا گیا، ہمیں توقع نہیں تھی کہ یہ بگ تھری اس حد تک چلے جائیں گے، اسی وجہ سے تمام لوگوں نے متفقہ طور پر اس کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ اس موقع پر بورڈ کے قانونی ماہرین نے تجاویز کو ان بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا جس پر آئی سی سی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط بھارت پوری دنیا کی کرکٹ کیلیے بہتر ہیں، انھوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کرکٹ کی لیڈرشپ سنبھالنے میں خوشی محسوس کرے گا، ہم آئی سی سی میں نیا اسٹریکچر لائیں گے جوکہ پوری کرکٹ کیلیے بہترین ہوگا۔
آئی سی سی کی آمدنی میں بھارت کی جانب سے زیادہ حصہ مانگنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، کسی کو بھی ویٹو پاور نہیں ملے گی، ایگزیکٹیو کمیٹی میں شامل پانچ ممبران میں سے کوئی بھی چیئرمین بن سکتا اور اصل اتھارٹی آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کے پاس ہی ہوگی، ایسوسی ایٹ ممالک کو زیادہ حصہ ملے گا، ہم نے فیوچر ٹور پروگرام پر دستخط نہیں کیے تاہم نیا ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ (ایم پی اے) زیادہ مضبوط ہوگا۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک نے کہا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ اچھے انداز میں چل رہی ہے تو وہ غلط ہے ، مجوزہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں، اگر آئی سی سی کی جانب سے بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو نئی براڈکاسٹنگ ڈیلز کرنے کا اختیار دیا جائے تو اس سے کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا۔ یاد رہے کہ ان تجاویز اور بگ تھری کا معاملہ ہفتے سے سنگاپور میں شیڈول آئی سی سی میٹنگ میں زیر غور لایا جائے گا جبکہ اس پر فیصلہ بھی متوقع ہے، بگ تھری کو بظاہر 10 میں سے 7 ممبران کی سپورٹ حاصل ہے۔