شیخ الجامعہ کے احکامات نظر انداز نتائج بغیر دستی اندراج کے جاری
ڈاکٹر قیصر نے ناظم امتحانات کو امتحانی نتائج کے دستی اندراج کے احکامات جاری کیے تھے.
ڈاکٹر قیصر نے ناظم امتحانات کو امتحانی نتائج کے دستی اندراج کے احکامات جاری کیے تھے
جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے امتحانی نتائج کی کمپیوٹرائزڈ ٹیبولیشن کو نجی کنسلٹنٹ کو ٹھیکے پر دیے جانے کے بعد اب ڈگری اور ماسٹرز کلاسز کے نتائج کے دستی اندراج (مینول ٹیبولیشن) شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اور اس حوالے سے شیخ الجامعہ کے جاری کردہ احکامات بھی نظر انداز کردیے گئے ہیں، شعبہ امتحانات نے ڈگری کلاسز کے نتائج ماضی کی طرح ایک بار پھر بغیر دستی اندراج کے جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ایم اے (پرائیویٹ) کے نتائج بھی دستی اندراج کے بغیر ہی جاری کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے جس سے جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات کے تحت جاری کیے گئے ڈگری کلاسز کے نتائج کی شفافیت بھی مشکوک ہوگئی ہے، واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر نے تقریباً دو ماہ قبل ایم بی بی ایس اور ڈگری کلاسز کے نتائج کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں ردوبدل کی شکایت سامنے آنے کے بعد ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی کو ڈگری اور ماسٹرز کے نتائج کے دستی اندراج کے احکامات جاری کیے تھے۔
اور اس حوالے سے شیخ الجامعہ کے جاری کردہ احکامات بھی نظر انداز کردیے گئے ہیں، شعبہ امتحانات نے ڈگری کلاسز کے نتائج ماضی کی طرح ایک بار پھر بغیر دستی اندراج کے جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ایم اے (پرائیویٹ) کے نتائج بھی دستی اندراج کے بغیر ہی جاری کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے جس سے جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات کے تحت جاری کیے گئے ڈگری کلاسز کے نتائج کی شفافیت بھی مشکوک ہوگئی ہے، واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر نے تقریباً دو ماہ قبل ایم بی بی ایس اور ڈگری کلاسز کے نتائج کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں ردوبدل کی شکایت سامنے آنے کے بعد ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی کو ڈگری اور ماسٹرز کے نتائج کے دستی اندراج کے احکامات جاری کیے تھے۔